54

محو پرواز ..ATR طیارہ فلائٹ PK-661۔۔تقدیرہ خان

پاکستان انٹر نیشنل اےئر لائن کا ATR طیارہ فلائٹ PK-661 تین بج کر پچاس منٹ پر چترال سے اُڑا اور چار بج کر چالیس منٹ پر حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگیا ۔ بد قسمت طیارے میں اکتیس مرد نو خواتین دو بچے اور عملے کے پانچ ارکان شامل تھے ۔ مسافروں میں تین غیر ملکی باشندے بھی شامل تھے جن میں ایک چینی دوسرا آسٹریلوی اور تیسرا کورین شہری تھا۔
حادثے کے بعد روائیتی اور رواجی کاروائیاں حسب معمول شروع ہو گئیں اور اہم شخصیات جن میں صدر مملکت ، وزیر اعظم، وزراء اعلی اور چیف آف آرمی سٹاف کے علاوہ گورنرز اور وزیروں، مشیروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ ٹیلی ویژن چینلز پر تو جیسے خزاں میں بہار آگئی ۔حادثہ نہ ہو ا بلکہ عید کا چاند نظر آگیا ۔ بغیر سوچے سمجھے ٹیلی ویژن سکرینوں پر نظر آنے والے خوبصورت خواتین اور حضرات میں ریٹنگ کا مقابلہ شروع ہو گیا جس مسافر کا کوئی عزیز رشتہ دار ، آشنا ، یا پھر دوست یار ملا اُسے دھر لیا گیا اور ایسے ایسے بے معنی اور بے کار سوال پوچھے گئے جیسے جان بحق ہونیوالے مسافروں نے طیارہ اغوا کر لیا ہو یا پھر PIA کے عملے کی مرضی کے بغیر وہ ایک ایسے طیارے میں جا بیٹھے ہوں جو قابل پرواز نہ تھا ۔
سیکرٹری ایوی ایشن نے فرمان جاری کیا کہ طیارہ دس سال پرانا اور اچھی کنڈیشن میں تھا مگر یہ نہیں بتایا کہ طیارہ قابل پرواز بھی تھا یا صرف ظاہری طور اچھا دکھائی دیتا تھا۔ PIA کے ترجمان کب خاموش رہنے والے تھے فرماتے ہیں کہ طیارے میں کوئی فنی خرابی نہ تھی ۔ کوئی دانشور اینکر ان سے یہ نہیں پوچھ پایا کہ اگر طیارہ اچھی حالت میں تھا اور طیارے میں کوئی فنی خرابی بھی نہ تھی تو پھر یہ المناک حادثہ کیسے وقوع پذیر ہوا۔ ٹیلی ویژن چینلز پر بیٹھے خوش شکل اور خوش گلو خواتین و حضرات لاکھ کو شش کریں اور عوام کی توجہ ہٹانے پر اپنی توانائیوں کا بھر پور استعمال کر یں یا پھر حکومت اور حکمران حسب عادت اور حسب سابق کمیشن بناؤ، کاغذی کاروائی کے لیے انکوائری کرواؤ اور مٹی پاؤ کی پالیسی پر عمل کر یں ۔ وہ نہ تو سنتالیس خاندانوں کے دلوں پر لگے موت کے زخم مٹا سکتے ہیں اور نہ ہی سنتالیس بے گناہ مسافروں کے خون ناحق سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں ۔
چیئر مین PIA نے ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ تو دے دیا ہے مگر وجوہات نہیں بتائیں ۔ جاتے جاتے کم از کم اتنی لب کشائی کر جاتے کہ وہ آخر وہ کس وجہ سے چےئرمین بنے تھے اور کیا وہ وجہ صرف سنتالیس پاکستانیوں کی موت تک محدود تھی ؟
کون نہیں واقف ہے کہ PIAِ ریلوے ، سٹیل مل اور واپڈا کئی عشروں سے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے نشانے پر ہیں ۔ بدعنوانی ، اوور سٹافنگ اور انتظامی بد حالی نے ان چار اداروں کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے مگر بد قسمتی سے نہ عدلیہ نے سو موٹو لیا، نہ عوام نے بے حسی کا روزہ توڑا ہے اور نہ ہی دیگر سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن نے حکومت سے جواب طلبی کی راہ اختیار کی ہے ۔ واپڈا اور سٹیل مل تو اب قریب المرگ ہے ۔ سٹیل مل ایسا مردہ گھوڑا ہے جس سے دفنانے پر ہر ماہ اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں ۔ ریلوے پہلے بلور خاندان کی تحویل میں تھی اور اب خواجگان کی جاگیر ہے۔ واپڈا کی بھی یہی حال ہے میاں برادران نے الیکشن سے پہلے فرمایا تھا کہ اگر نو ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ
کی تو ہمارا نام بدل دینا مگرمیاں صاحب کس میں ایسی ایمانی قوت ہے اور کون سا مرد میدان ہے جو ایسی جُرات کر سکے ۔ مرد حُر تو پہلے ہی آپ کی جمہوریت پر ایمان لا چکا ہے ۔ کون نہیں آگا ہ ہے کہ آپ نے جتنے پاور پروجیکٹ شروع کیے ہیں ۔ سب کے سب مال کمانے کے مراکز ہیں اور کسی ایک بھی پاور پروجیکٹ ایک وولٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل نہیں ہوئی ۔ آپ اگلے دس سال بھی حکمران رہیں تو ملک ترقی نہیں کرے گا۔ بلکہ پچاس سال پیچھے چلا جائے گا۔ کون نہیں جانتا کہ موجودہ حکومت کی پہلی ترجیح PIA کی نجکاری تھی ۔ اس کام کے لیے حکومت نے ائیر فورس کے کورٹ مارشل زدہ مرد آہن کو PIA کا قلمدان سونپا اور اُس کے بھائی کو کینڈا میں سفیر تعینات کیا ۔ موصوف کا کورٹ مارشل (MORAL TURPITUDE) کی بنا پر ہوا جس کا اُردو ترجمہ بھی کرتے ہوئے شرم آتی ہے ۔ اعلی عدلیہ نے اس شخص کو ہٹایا تو اُسے مشیر کے منصب پر تعینات کر دیا گیا اور کئی سالوں تک عدلیہ کے فیصلے پر جبر کا تسلط رہا ۔ حزب اختلاف نے PIA کی نجکاری کی اس لیے مخالفت کی چونکہ ان کے بھرتی کردہ کارکن دُہری تنخواہوں سے محروم ہو جائیں گے اپوزیشن جماعتوں کے لیے کالا باغ ڈیم کی تعمیر اور PIA کی نجکاری موت اور زندگی کا مسئلہ ہے انھیں ملک کی ترقی اور عوام کی زندگی سے کوئی غرض نہیں ۔ صاحبان اقتدار ہیلی کاپٹروں یا پھر خصوصی طیاروں پر سفر کر تے ہیں ۔ جن کی حالت PIA کے محو پرواز تابوتوں کی طرح نہیں ہوتی ۔ ایک طیارے یا پھر ہیلی کاپٹر پراعلیٰ شخصیت اُڑان بھرتی ہے تو دوسرے پر ان کا عملہ اور لوازمات تیسرے طیارے میں من پسند صحافی اور چوتھا طیارہ امر جنسی کور کر تا ہے ۔
PIA کی نجکاری حکومت اور اپوزیشن کا سب سے اہم مسئلہ ہے اور عوام اس مسئلے کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ PIA کی نجکاری کی صورت میں ایک طرف فضائی بیڑے میں بھرے جہاز آئیں گے تو دوسری طرف کمیشن کی صورت میں اربوں ڈالر بھی ملیں گے ۔ حکمران جماعت اپنے من پسند لوگوں کو نوکریاں دے گی اور من پسند کاروباری دوست کم سرمایہ کاری پر سو گنا منافع کمائیں گے ۔ اشتہاری کمپنیوں کے وارے نیارے ہو جائیں گے ۔ اور من پسند ایڈور ٹائزنگ کمپنیوں اور ٹیلی ویژن چینلز کی چاندنی ہو جائے گی ۔ نجکاری کے ذریعے PIA کے اربوں کھربوں کے اثاثے کوڑیوں کے بھاؤ نیلام ہونگے اور حکومتی دوستوں ، یاروں اور رشتہ داروں میں بانٹ دئیے جائیں گے ۔
اپوزیشن بغض معاویہ کی پالیسی پر گامزن ہے اور کسی بھی صورت اپنے ورکروں کی بے روزگاری کے بہانے حکومت کو اکیلے مال کمانے کی اجازت نہیں دے سکتی ۔ حیرت کی بات ہے کہ میثاق جمہوریت یا پھر NRO جیسا کوئی معاملہ ابھی تک فٹ کیوں نہیں ہو ا ۔ تاجرانہ ذہنیت کے حکمرانوں نے پیپلز پارٹی سے اب تک کوئی ڈیل کیوں نہیں کی ؟لگتا ہے کہ حکمران جماعت حادثات کی آڑ میں مال کمانے کے چکر میں ہے ۔ یکے بعد دیگرے فضائی حادثات اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ حکومت اگلے سال تک عوام کے دکھ درد اور لگا تار اموات اور حادثات کو سامنے رکھتے ہوئے آخر کار PIA کو نجکاری کا ایندھن بنا کر اپنی دال روٹی کا بندوبست کر ے گی ۔
میں اپوزیشن سے مودبانہ اپیل کرتی ہوں کہ وہ پاکستانی عوام خاص کر معصوم چترالیوں کی قربانی پر نجکاری کی سیاست نہ کرے اور نجکاری کی صورت میں اپنے حصے کا کوئی بندوبست کر لے ورنہ گلگت ، سکردو اور چترال سے محو پرواز ہونے والے فضائی تابوت اچھی حالت میں ہونے اور بغیر کسی فنی خرابی کے یونہی گرتے رہیں گے ۔ اور ٹیلی ویژن چینلز بریکنگ نیوز اور ریٹنگ کے چکر میں مرنے والوں کی بھی
لاشوں پر کھیل تماشا جاری رکھیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں