43

 ’’ طیارہ حادثہ اور قیاس آرائیاں‘‘۔۔ تحریر بقلم۔ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال

حویلیاں میں پی آئی اے کے طیارہ کو حادثہ پیش آنے سے پوری قوم سوگوار ہے۔ چترال ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ سردیوں میں چھ ماہ سے رابطہ منقطع رہنے اور سفری مشکلات کیلئے ہمیشہ سے شہرت کا حامل علاقہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ چترا ل اور پشاور ، اسلام آباد کے درمیان متروک فوکر طیاروں کو سخت نا موافق موسمی حالات اور دشوار ترین روٹ پر طویل عرصے تک کوئی حادثہ پیش نہ آیا۔ ملتان میں فوکر طیارے کے حادثے کے بعد فوکر پروازوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔ ایک فوکر طیارہ چترال ائیر پورٹ پر پھسل کر چترال ہی کا ہو کر رہ گیا۔جس سے آج بھی فوکر طیارو ں کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ فوکر طیاروں سے نسبتاََ بہتر اور جدید اے ٹی آر طیارے کا حادثہ دیگر حادثات کی طرح ایک حادثہ ہی ہے۔ اس میں موسم کی خرابی کا کوئی عمل دخل نہیں جو اس روٹ پر کسی ممکنہ حادثے کی ہمیشہ سے بڑی وجہ ہو جانے کا خدشہ رہا ہے۔ چترال سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کی پرواز کے 661بھی بخیریت لواری ٹاپ کے موسمی شوائد اور دشوار گزار روٹ سے بحفاظت گزری جس کے بعد طیارے میں خرابی کی اطلاع دی گئی ۔ مکمل تحقیقات سے قبل کوئی بھی بات قیاس آرائی ہی ہوگی لیکن اس کے باوجود ایک واضح نقص کی طرف ہر جانب سے اشارہ ملتا ہے کہ طیارے کا انجن پہلے سے محفوظ پرواز کے قابل شاید نہ تھا۔
حالات و واقعات کی روشنی میں یہی قیاس قرین حقیقت دکھائی دیتا ہے کہ طیارے کا انجن میں خرابی کا اطلاع ملنے کے چند ہی منٹوں کے بعد طیارہ حادثہ کا شکار ہو گیا۔ ہر مسافر طیارے میں دو انجن ہوتے ہیں جن میں سے ہر انجن کی صلاحیت اتنی ہوگی کہ اگر ایک انجن مکمل طور پر کام کرنا چھوڑ دے تو پائلٹ دوسرا انجن چلا کر بحفاظت کسی ائیر پورٹ پر لینڈ کر سکتا ہے ۔ اس کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک انجن میں خرابی پیدا ہونا کسی ہنگامی صورتحال کا باعث ہر گز نہیں بنتا اور نہ یہ کوئی غیر معمولی صورتحال ہوتی ہے۔ اس صورت میں احتیاط کے تقاضے کیا ہونے چاہیئے۔ اس کا فیصلہ کنٹرول ٹاور اور پائلٹ کی مشاورت سے ہوتا ہے۔ چترال سے اسلام آباد آنے والی بد قسمت پرواز کا پائلٹ مکمل مہارت اور تجربے کا حامل تھا، اس بنا پر اسے کسی انسانی غلطی کا نتیجہ بھی قرار دینا درست نہ ہوگا، بلکہ پائلٹ نے کمال مہارت کے ساتھ آبادی کو بچانے کیلئے طیارے کا رخ پہاڑوں کی طرف کردیا۔
وہ کیا حالات تھے ، کیا خرابیاں تھیں ، کیا غلطی تھی اسکی تفصیلات تو جامع رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔ماہرین بھی مختلف رائے اور انداز فکر کا اظہار کرتے ہیں۔ پی آئی اے کے چیرمین اعظم سہگل کا کہنا ہے کہ پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائینز (PIA) کے چترال سے اسلام آباد آنے والے مسافر طیارے کے حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہونے کے حادثے میں انسانی غلطی کا امکان نہیں ہے۔
حادثے کے وقت طیارے سے اطلاع ملی کہ ایک انجن فیل ہوگیا مگر امید تھی کہ ایک انجن کے ساتھ بحفاظت اترنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کریں گے کہ ایک انجن کے فیل ہونے پر حادثہ کیسے ہوا؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ طیارے کا اکتوبر میں چیک اپ ہوا تھااور وہ مکمل طور پر ٹھیک تھا۔ تحقیقات کے بعد حادثے کی وجوہات آئندہ چند دنوں میں سامنے لائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ طیارہ 2007ء میں بنا ۔ ایوی ایشن کے عالمی نگران ادارے ایوی ایشن ہیرالڈ کے مطابق پی کے 661ایبٹ آباد کے قریب انجن کی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا۔ جبکہ ائیر مارشل (ر) شاہد لطیف کا کہنا ہے ابھی یہ تصدیق ہونا باقی ہے کہ حادثہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا۔
قیاس آرائیاں جو بھی ہو لیکن اس افسوس ناک واقعے سے ملک بھر میں گہرے غم کے جو بادل ہیں اس سو گوار فضا میں اب یہی ممکن دکھائی دیتا ہے کہ آئندہ احتیاط کے تقاضوں اور تکنیکی معائنہ و فلائٹ سیفٹی کے جملہ امور کو یقینی بنایا جائے ۔ طیارے کے حادثے کی عبور ی رپورٹ جلد سے جلد جاری کی جائے اور مکمل رپورٹ جتنا جلد ممکن ہوسکے مکمل کرکے قوم کے سامنے لائی جائے۔
وزیر اعظم نواز شریف کے اس بیان کا ملک بھر میں بہت بڑا چرچا ہے کہ طیارہ کے حادثے کی فوری تحقیقات کی جائے، اور کہا کہ ضروری ہے کہ طیارہ حادثے کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائے۔ خدا کریں…! طیارہ حادثے کی تحقیقات بہت جلد عوام کے سامنے آسکے۔ ماضی میں تو کبھی ایسا ہوا نہیں اب اگر یہ تحقیقات بہت جلد منظر عام پر آگئی تو یہ ایک معجزہ ہوگا لیکن پاکستان میں ان دنوں معجزے کم ہی ہوتے ہیں۔
قلم ایں جا رسید و سر بشکست……!!

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں