44

ـ دولت کی بے وفائی اور دنیا کی بے ثباتی !..محمد صابر گولدور ، چترال 

 دولت و دنیا  شہرت عیش و عشرت خوبصورت بیوی اور عالیشان گھر  کس کو پسند نہیں ہر کوئی یہ چاہے گا کہ وہ دنیا میں خوب دولت کمائے اِس دولت کو بے دریغ اپنی چاہ پر خرچ کرے جو بھی دل میں آئے وہ کر گزرے ـ  دنیا کی اس پر لطف لذت سے بھر پور زندگی میں ماں باپ کے علاوہ باقی سبھی رشتے ناطے دوست احباب یہاں تک کہ بیوی بچے ضرورت کی بنا پر وقتی طور پر آپ کے ارد گرد گومتے پھرتے نظر تو آئینگے ـ  لیکن جب ان کا مطلب بھر آئے گا یا آپ کمزور ہو جائینگے غربت افلاس کا شکار ہوجائیں گے تو پھر یہ رشتے ناطے  دور دور تک آپ کو کہی نظر نہیں آئینگے سوائے ماں باپ کے جو آخری وقت تک آپ کا ساتھ دینگے ـ ماں باپ کا رشتہ وہ عظیم چوٹی ہے جس کو کوئی بھی سر نہیں کر سکتا ـ باقی ماندہ  سب  رشتوں سے  خالص ، شفاف ، پیار محبت سے بھرپور اخلاص کی خوشبو سے معطر یہ رشتہ کتنا نمایاں اور عظیم  ہے ـ انسان جب ہوش سنبھالتا ہے عاقل بالغ ہو جاتا ہے اردگرد کے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا ، معاشرے میں انچ نینچ قدرتی امر ہے جب وہ ایک مالدار کے بیٹے کو نئے ماڈل کے کرولا سڑکوں میں ڈوڑاتے دیکھتا ہے تو اس کے دل میں بھی ایک آرزو جنم لیتا ہے جوں ہی روڈ پر چلتے ہوئے پھٹے کپڑے ، غبار آلود بالوں والے غریب کے اولاد پر نظر پڑتا ہے تو نا امیدی کے گھٹا توپ بادل اسے آگھیر لیتے ہیں ـ  اس کشمکش میں وہ صحیح فیصلہ نہیں کر پاتا انصاف اور عدل سے کام لینے کے بجائے فورا جذباتی کیفیت میں وہ اپنے لیے نامناسب راستہ چنتا ہے ـ میں نے ماں اور باپ کو دولت و دنیا کے ساتھ منطقی ربط دینے کی کوشش کی ہے مطلب ماں باپ سراپا پیار و محبت اور وفا کے پیکار ہیں ، مگر دولت و دنیا کھوکلے دھوکا فریب بے وفا و بے ثباتی ، اس نے دونوں طبقات میں سے بغیر سوچ بچار کے دولت عیش و عشرت کی چکاچوند اور ظاہری روشنی والی  زندگی کو ترجیح دی اب لازما دولت عیش و عشرت کے حصول کی خاطر اسے کسی بھی حد تک جانا پڑا وہ  تو جائے گا ـ دولت کے حصول کےلیے ہر وہ قدم اٹھائے گا جس کا تصور کرنا بھی گناہ ہے چاہے وہ راہ جرائم کی بد ترین شعبے سے تعلق ہی کیوں نہ رکھتا ہوں  ـ  تصویر کے دو رخ ہیں تصویر کے پہلے رخ پر نظر ڈوڑائیں تو اس مقصد کے حصول کا پہلا نشانہ والدین بنتے ہیں بیٹا والدین سے بہت ساری توقعات لیے جب ان سے کسی مہنگی چیز کی فرمائش کرتا ہے ، اگر والدین اس چیز کی استطاعت نہیں رکھتے تو والدین کےلیے یہ لمحہ نہایت تکلیف دہ اور صبر آزما ہوتا ہے ـ  ایک طرف اولاد کی فرمائش تو دوسری جانب غربت و مجبوری ، اگر والدین بیٹے کی فرمائش پوری نہیں کرتے تو بیٹا یہ سوچے بغیر کے میرے ماں باپ اس چیز کی استطاعت نہیں رکھتے الٹا غصہ ان ہی پر نکال دیتا ہے ـ تصویر کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیں ـ اب اگر کچھ والدین استطاعت رکھتے ہوئے اپنے اولاد کو کچھ لے بھی دیتے ہیں تو وہ اولاد ان کی شکر بجا آوری کے بجائے بے ہودگی پر اتر آتا ہے ـ بے پناہ  لاڈ پیار کی وجہ سے والدین کی بدنامی کا سبب بنتا ہے ـ یہ دونوں راستے غلط سمت کی طرف جاتے ہیں لہذا درمیان والی راہ جو بھی ہو وہی بہتر ہے ـ

جس کو دنیا میں ﷲ تعالی کی جانب سے جتنا دیا گیا ہے اس پر ﷲ کا شکر ادا کرے اپنے سے کم درجہ لوگوں کی طرف دیکھے اپنے سے اونچے درجہ لوگوں کو نا دیکھے ـ ماں باپ کے معاملے میں ہمیں ﷲ سے ڈرنا چاہئے ـ دولت شہرت آنی جانی چیزیں ہیں ـ  اصل چیز آپ کے کردار و اخلاق ہیں آپ لوگوں سے کس طرح پیش آتے ہیں ـ دولت وقتی طور پر آپ کو بہت ساری خوشیاں اور مسرتیں ضرور دیتی ہے مگر وقتی طور پر ناکہ عارضی طور پر پیسہ ہاتھ کا میل ہے ـ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے پاس پیسہ ہے اور وہ بجائے سرکشی اور شراب کباب کے نشے میں دھت ہونے کے اپنے حلال پیسے کو تعلیم اور تعمیراتی کاموں میں صرف کرتے ہیں صدقہ و خیرات کرتے ہیں ناکہ تجوریاں بھر بھر کے رکھتے ہیں ـ

تاریخ سے سبق لینے والوں کےلیے بہت سارے واقعات بھرے پڑے ہیں ایسا ہی ایک واقعہ تاریخ کا حصہ ہے ـ قیام پاکستان سے قبل ابو الحسن نام کا ایک شخص تھا ـ یہ شخص اصفہانی خاندان سے تعلق رکھتا تھا جو کہ کلکتہ کا ایک دولت مند خاندان سمجھا جاتا تھا ـ یہ کیمبرج میں پڑھتا تھا مسلم لیگ کے ساتھ رابطے میں رہتا جب تقسیم ہند کا معاملہ اختتام پزیر ہوا تو یہ خاندان کروڑوں کی مالیت کے ساتھ پاکستان منتقل ہوا ـ ابو الحسن صاحب کے کروبار کا وسیع  جال  ڈھاکہ سے کراچی تک پھیلا ہوا تھا یہ صاحب پاکستان کی طرف سے امریکہ اور لندن میں سفیر رہے پھر افغانستان میں بھی سفیر رہے بعد میں صنع و تجارت کے وزیر بھی رہے ـ اس وقت اصفہانیوں کے بارے میں کہا جاتا تھا آپ پاکستان میں کہی سے بھی کچھ خریدیں منافع کا ایک حصہ کسی نہ کسی طرح اصفہانی گروپ تک پہنچ جائے گا ـ ابو الحسن کے تین بچے تھے جن میں نمایاں بڑے بیٹے سکندر اصفہانی تھے ابو الحسن خود سیاست میں مصروف رہتے اور کاروبار کی تمام تر ذمہ داری سکندر اصفہانی کے سپرد تھی ـ سکندر نے دو شادیاں کی تھی پہلی والی سے چار بچے اور دوسری بے اولاد ـ 1990   میں اولاد کے مابین جائیداد کا جگھڑا شروع ہوا نوبت عدالت تک پہنچ  گئی ـ  سکندر اصفہانی گھر سے بے دخل ہوئے جو کراچی سکندر اصفہانی کا گھر تھا ـ اب اسی شہر میں رہنے کےلیے اسے چھت تک میسر نہیں تھی سکندر اصفہانی سندھ کلب منتقل ہوگئے ـ دو سال بعد انتقال کرگئے چند لوگ ان کی تدفین کےلیے جمع ہوئے اور ان میں بھی ان کے خاندان کا کوئی  بھی شخص شامل نہیں تھا ـ

یہ دولت کی بے وفائی اور دنیا کی بے ثباتی کا واقعہ ہے ـ ارب پتی شخص اس نے کبھی بھی نہیں سوچا ہوگا کہ اس کے ساتھ ایسا بھی ہوگا دولت عیش و آرام معاشرے میں اعلی مقام سب کچھ چھین گیا رہنے کےلیے ایک چھت بھی نصیب نہ ہوا آخر کار اپنوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا ـ   دنیا مکافات عمل کا دوسرا نام ہے خلاصئے کلام ! یہ دنیا بے وفا و بے ثبات و غم کا گہوارہ یہاں بس ماں باپ ہی اولاد کی بہترین مفاد میں سوچتے ہیں ـ

 لیکن المیہ یہ ہے کہ آج کے اولاد والدین کے نافرمان ، بے ادب ، گستاخ ہیں ـ چھوٹی چھوٹی باتوں پر والدین سے الجھ جانا والدین کو تنگ کرنا عام سی باتیں ہیں ـ اگر اس دنیا میں کوئی شے وفا کرے گی تو وہ صرف اور صرف والدین ہی ہیں ، دولت و دنیا کبھی بھی کسی سے وفا نہیں کرینگے  ـ کبھی بھی سچے رشتوں کے مقابلے میں دولت و دنیا کو ترجیح نہیں دینا چاہئے ـ پھر دیکھنا دین و دنیا سب تمہارا ہے  ـ

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں