95

پی ۔ٹی۔آئی کی صوبائی حکومت بلا تعصب صوبے کے ہر علاقے کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ اقدامات اُٹھا رہی ہے۔محمد شریف خان

چترال(نمائندہ ڈیلی چترال)محمد شریف خان ، سابق صدر انصاف یوتھ ونگ چترال نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ پی۔ٹی۔آئی حکومت نے چترال کے ترقیاتی پیکیج کی منظوری دے کر ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا کہ پی ۔ٹی۔آئی کی صوبائی حکومت بلا تعصب صوبے کے ہر علاقے کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ اقدامات اُٹھا رہی ہے۔ اس ترقیاتی پیکیج کی منظوری میں ایکسن C & W ڈیپارٹمنٹ مقبول اعظم نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا۔ بلدیات کے نمائندوں کو فنڈ کے اجرا کے بعد صوبائی حکومت نے چترال کو خصوصی طور پر ترقیاتی پیکیج کی منظوری دے دی ۔ یہ فنڈز تمام خستہ حال روڈ اور پُلوں کی تعمیر پر خرچ کیے جائیں گے جو گزشتہ سیلاب اور زلزلے میں تباہ ہو گئے تھے ۔اُنہوں نے کہا بلاشبہ پی۔ٹی۔آئی حکومت نے ہرGenuine مسئلے کو سیاست سے بلاتر ہو کر اہمیت دی ہے ، سکولوں ، ہسپتالوں اور پولیس کے نظام میں انقلابی اقدامات اس بات کا ٹھوس ثبوت ہیں۔ محدود وسائل اور فیڈریل گورنمنٹ کی دُشمنی کی حد تک مخالفت کے باوجود پی ۔ٹی۔آئی کی صوبائی حکومت مخلصانہ طور پر عام عوام کے مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہے ۔ واضح رہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی نظر میں کھٹکنے والی واحد سیاسی تنظیم پی۔ٹی۔آئی کو صوبے میں بھی اس کے اپنے اتحادی جماعتوں کے سیاسی چالوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود صوبائی حکومت فرسودہ نظام میں مثبت تبدیلی کے اقدامات اُٹھا رہی ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ ترقیاتی فنڈ ز کی منظوری کے بعد مختلف سیاسی جماعت اور افراد یہ کریڈیٹ لینے کی کوشش میں ہیں کہ یہ سب اُن کی کوششوں سے ممکن ہوا، اس سلسلے میں اتحادی سیاسی (دینی ) جماعت ، جماعت اسلامی کا نام سرِ فہرست ہے۔ یقینی طور پر ہم یہ توقع کر رہے ہیں کہ چترال کے موجودہ منتخب سیاسی نمائندے بھی چترال کے عوام کی آنکھوں میں دھول جونکھنے کی کوشش کریں گے کہ اس ترقیاتی فنڈ کی منظوری میں اُن کا بھی اہم کردار رہا۔ اُنہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اگرچترال ڈسٹرکٹ کے خواتین نمائندوں کے فنڈ ہی اُن کو جاری کر دے تو اُس کی بڑی مہربانی ہوگی۔ اس سے جہاں خواتین نمائندوں کو اُن کا حق مل جائے گا وہیں جماعت اسلامی کو خود اپنی میزان درست کرنے کا بھی موقع مل جائے گا۔ تقریروں میں تو خواتین کے حقوق پر جماعت اسلامی سب سے زیادہ باتیں کرنے والی جماعت ہے مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ دیر سمیت وہ علاقے جہاں اُن کا سیاسی طور پر اثرو رسُوخ زیادہ ہے وہاں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔ اُن کو ووٹ ڈالنے کا حق تک نہیں دیا جارہا۔ لیکن جہاں جماعت اسلامی کوضرورت ہوتی ہے تو خواتین کی مخصوص نشستوں پر سب سے زیادہ قابض نظر آتے ہیں مگر فنڈ کی تقسیم کے وقت خواتین کے تمام حقوق سلب کر لیتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں