51

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت ملاکنڈ و چترال اور واخان کی پٹی کے راستے سی پیک کو افغانستان و تاجکستان سے روس تک وسعت ملے گی۔مظفر سید ایڈوکیٹ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبرپختونخوا حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت نہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان سے گزرنے والے مغربی روٹ کی تمام انفراسٹرکچر سمیت شمولیت کامطالبہ منوا لیا ہے اور اسکی بیجنگ اجلاس میں چین کی حکومت نے باقاعدہ گارنٹی بھی دیدی ہے بلکہ چترال تا سوات موٹر وے شاہراہ اور پشاور میٹرو بس جیسے اہم منصوبے بھی سی پیک کا ناگزیر حصہ بنا دئیے گئے ہیں جنکی بدولت اس پسماندہ صوبے میں مواصلات کے شعبے میں انقلاب رونما ہو گا اور اسکی بدولت پورا خطہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے گا یہ بات صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے سابق ایم پی اے و تحصیل ناظم درابن سردار فتح اللہ میانخیل اور سابق ایم این اے سردار عمر فاروق میانخیل کی معیت میں ڈیر ہ اسماعیل خان کے زعماء کے ایک وفد سے بات چیت میں بتائی دونوں سنیئر پارلیمنٹیرینز نے سی پیک اور این ایف سی سمیت بعض اہم قومی معاملات پر صوبائی حکومت کے جراتمندانہ اور نتیجہ خیز موقف کی بیحدتعریف کی اور اسے گزشتہ کئی عشروں سے ملک و قوم کیلئے جان و مال کی لازوال قربانیاں د ینے والے پختونوں کے دل کی آواز قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ انکے ثمرات سے نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ ملحقہ قبائلی عوام بھی جلد مستفید ہونگے اور ان علاقوں کا ہر گوشہ قومی ترقی کے دھارے میں بھرپور انداز میں شامل ہو جائے گا وفد نے علاقے کے بعض مسائل سے بھی انہیں اگاہ کیا جنہیں وزیرخزانہ نے ترجیحی بنیادوں پر زیرغور لانے اور مناسب ازالے کا یقین دلایا مظفر سید ایڈوکیٹ نے سی پیک ے متعلق حالیہ تاریخی پیشرفت کو وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی سیاسی بصیرت اور صوبے کی تمام سیاسی قوتوں کے اتحاد و یکجہتی کے ماحصل سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا کہ جنوبی اضلاع سے گزرنے والے مغربی روٹ کو راہداری کی متبادل اہم شاہراہ بنانے سے نہ صرف خیبرپختونخوا اور فاٹا سی پیک کے معاشی فوائد کے دائرے میں باضابطہ طور پر داخل ہو گئے ہیں اور یہاں صنعتی و تجارتی زونز کے قیام کے فیصلے ہونے لگے ہیں بلکہ اسکی بدولت ڈیرہ اسماعیل خان سے آگے پنجاب اور بلوچستان کے پسماندہ ترین گوشے بھی لائم لائٹ میں آگئے جو حسن ابدال اور لاہور سے گزرنے والے مشرقی روٹ میں بالکل نظر انداز ہوگئے تھے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ مشرقی روٹ شروع تا آخر پنجاب اور ملک دیگر ترقیافتہ شہروں کے قریب سے گزارنے کا منصوبہ تھا جس پر من و عن عمل ہوجاتا تو شاید ملک میں امیر و غریب علاقوں اور لوگوں دونوں کا فرق تشویشناک حد تک بگڑ جاتا انہوں نے کہا کہ ہماری اتحادی حکومت میٹرو بس، ریپڈ بس، جدید ریلوے ٹریک، فاٹا تجارتی زون اور افغان شاہراہ کی کشادگی جیسے منصوبوں سے وسطی ایشیاء کے تجارتی گیٹ وے کے طور پر پشاور کی عظمت رفتہ کو دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب ہو گی اسی طرح ملاکنڈ و چترال اور واخان کی پٹی کے راستے سی پیک کو افغانستان و تاجکستان سے روس تک وسعت ملے گی جو خطے میں نیو اکنامک ورلڈ آرڈر لانے اور یہاں کی بدامنی اور بدحالی کو امن و خوشحالی میں بدلنے کی نوید ہے نئے این ایف سی ایوارڈ میں تاخیر اور تعطل دور کرنے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ دورہ کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ، وزراء اور بیوروکریسی سے تفصیلی ملاقاتیں کیں جن میں قومی مالیاتی ایوارڈ، امن و امان اور مردم شماری کے علاوہ سی پیک سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ سی پیک خطے میں گیم چینجر منصوبہ ثابت ہو گا البتہ چھوٹے صوبوں کے مفادات کو پیش نظر رکھنا اور انکے تحفظات دور کرنا وسیع تر قومی مفاد کے ساتھ ساتھ خود فاقی حکومت کے حق میں بھی انتہائی بہتر ہو گا اس بات پر بھی اتفاق رائے پایا گیا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کے بروقت اعلان سے صوبوں کی مالی مشکلات ختم ہونے کے علاوہ سی پیک کیلئے انفراسٹرکچر اور سیکورٹی کے معاملات خوش اسلوبی سے نمٹانے میں بھی صوبائی حکومتیں عملی طور پر حصہ لینے کی پوزیشن میں ہونگی سندھ کابینہ کے ارکان اور بیوروکریسی نے این ایف سی جیسے اہم اور حساس قومی ایشو پر اتفاق رائے کیلئے صوبائی رابطوں کا طریقہ اپنانے پر خیبرپختونخوا حکومت کی تعریف کی ہے اور سندھ حکومت کی جانب سے بھی اس کے جواب میں اسی طرح کا انداز اپنانے اور وزارتی سطح پر خیبر پختونخوا کے دروں کا عندیہ دیا ہے جبکہ ہم نے انہیں دورہ پشاور کی باضابطہ دعوت بھی دیدی ہے وہ اگلے مرحلے میں دیگر صوبوں کا دورہ بھی کر رہے ہیں جن میں بلوچستان اور پنجاب کے علاوہ گلگت بلتستان بھی شامل ہے

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں