53

مغربی روٹ اور مشرقی روٹ کے جھگڑے کا قابلِ عمل حل گوادر سنٹرل ایشیا کی تعمیر سے ممکن ہے… عنایت اللہ اسیر

گوادر کاشغر اکنامک کوریڈور کو چین جیسے دوست اور قابلِ اعتماد دوست کی مدد سے گوادر حسن ابدال سیدھے لکیر کھینچ کر مختصر ترین جغرافیائی حقیقت کے مطابق بنانا ہی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہوگا مگر گوادروسطی ایشیا اکنامک کوریڈور کو بھی جنگی بنیادوں پر گوادر سے پشاور، چترال، تاجکستان مختصر ترین جغرافیائی حقائق کے مطابق وقت ضائع کیے بغیرتعمیر کرنا موجودہ حکومت کے لیے سرخروئی کا سبب ہوگا۔

یہ تاریخی حقیقت ہے کہ وسطی ایشیا کے تمام ممالک کو سمندر تک رسائی کا مختصر ترین زمینی راستہ پاکستان ہی فراہم کرنے کی قابلیت رکھتا ہے  اور یہ وسطی ایشیا کے ممالک کی آرزو بھی ہے صرف اس پر ورکنگ گروپ بنا کر کام کی ضرورت ہے۔ جس طرح دوست ملک چین نے گوادر کا شغر کوریڈور کی تعمیر کے لیے کثیر مدد فراہم کر کے اس کام کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز کر دیا ہے۔ اسی طرح وسطی ایشیا کے تمام ممالک اس مختصر ترین زمینی راستے کی تعمیر کے لیے دس ارب روپے فی ملک کے حساب سے دینے پر راضی ہو سکتے ہیں اور اس راستے کی تعمیر کے سلسلے میں اٹھائے گئے قدم مغربی روٹ اور مشرقی روٹ کا جھگڑا بھی ختم کر دے گااور پوری قوم ان دونوں قومی مفادات کے منصوبوں کی تعمیر میں حکومت کا ساتھ دے گی۔

مغربی روٹ تمام اکنامک زونز اور سہولیات کے ساتھ بلکہ اس سے بھی بہتر تعمیر ہو کر پاکستان کے تمام پسماندہ علاقوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کردے گا۔ وسطی ایشیا کے چھ نو آزاداسلامی ممالک کے علاوہ رشین فیڈریشن کے تمام ممالک کو اس راستے کی تعمیر سے جوڑ کر ان سے بھی اس کام کے لیے مالی حصہ حاصل کیا جا سکے گا۔ اس راستے کی تعمیر کو 500کلو میٹر فی ملک کے حساب سے تقسیم کرکے مختصر ترین وقت میں اس راستے کی تکمیل ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ مشرقی روٹ اور مغربی روٹ کے سیاسی خلفشار سے خدا نا خواستہ CPEC کا نقشہ متنازعہ ہو کر اس کی مختصر جغرافیائی حیثیت اور اہمیت کو خراب نہ کر جائے لہٰذا جلد از جلد مغربی روٹ کو گوادر سے وسطی ایشیا کے لیے تمام متعلقہ ممالک کا اجلاس بلا کر ان سے مضبوط معاہدہ کر کے بنانے کا سرکاری طور پر واضح اعلان کیا جائے۔

اس بات سے انکار ممکن نہیں کے یہ دونوں راستے پاکستان کے استحکام ، معاشی ترقی، دہشت گردی سے خلاصی ، بے روزگاری سے نجات اور پاکستان مخالف تحریکوں کے سدِباب کا ذریعہ ہوگااور ان پر عمل درآمد وہی حکومت کرے گی جسکو پاک وطن کے مستقبل سے گہری دلچسپی ہو۔ جن مشکل حالات میں آج کی حکومت نے CPECپر پاک آرمی کی مددسے کام کر رہی ہے۔ اس سے یہ توقع عین ممکن ہے کہ KPK اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کو اس سلسلے میں اعتماد میں لے کر کام کا آغاز کرے گی اور ایک ورکنگ گروپ بنا کر وسطی ایشیا کے تمام ممالک کو ساتھ ملانے کی جدوجہد کا آغاز وقت ضائع کئے بغیر کرے گی اور 2017کے وسط تک تمام ممالک پر مشتمل ورکنگ گروپ کی سرپرستی میں سیمینار اسلام آباد اور تاجکستان میں بلا کر تمام سیاسی جماعتوں کا اعتماد حاصل کرے گی۔ یہ منصوبہ موجودہ حکومت کے لیے تاریخی کامیابیوں کا دروازہ بھی کھول دے گی۔

اس موضوع پر سیمینار ز میں بلوچستان اور KPKکی حکومتی نمائندوں کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو بھی شامل کر کے ان کے خدشات دور کیے جا سکے گے۔ حسن ابدال سے کرک لنک روڈ بنانے سے یہ دونوں مشرقی اور مغربی راستے منسلک ہو جائینگے اور تمام علاقوں کی ٹریفک اپنے خواہشات کے مطابق چل سکے گی۔ ان دونوں سڑکوں کی تعمیر ان کی مختصر حیثیت اور سیدھا پن اور بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق تعمیر ہی ملک کو پوری دنیا میں سرخروہی کا سبب ہوگا۔ مقامی باشندوں اور سیاسی بیانات کی بنا پر ، ہڑتال اور دھرنوں کے سبب ان راستوں کے نقشوں کی تبدیلی کسی طرح سے ملکی مفاد اور امداد دینے والے ممالک کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔  جبکہ ہمارے پاس مغربی روٹ کی تعمیر کے لیے میدان ، خواہشات ِدرینہ موجود ہیں تو پھر دیر کس بات کی ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں