27

ری پبلکن پارٹی کا اقتدار اور ہنگامے/تحریر: ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

پاکستان کے لئے ری پبلکن پارٹی کا اقتدار کیا خبر لاتا ہے ؟ یہ بات 20جنوری کو زیرِ بحث آئی اور اب اس پر لے دے ہورہی ہے20 جنوری کو واشنگٹن اور میکسیکو میں ری پبلکن پارٹی کے خلاف ہنگامے ہوئے، اگلے روز سے امریکہ کے 20شہروں میں ہنگاموں کا آغاز ہوا اور یہ ہنگامے امریکہ سے باہر نکل کر یورپ تک پھیل گئے فرانس ، برطانیہ اور جرمنی میں بھی ری پبلکن پارٹی اور نئے صدرڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہنگامے ہوئے امریکی جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ صدارتی انتخاب میں شکست کھانے والی جماعت ڈیموکرٹیک پارٹی ان ہنگاموں کی مذمت کرتی ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے نظریاتی کا رکن اور سینئر سیاستدان نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ زبان سنبھال کر بات کرو زبان پھسل جائے تو مصیبت آجاتی ہے22جنوری کے اخبارات میں 44شہروں سے ٹرمپ کے خلاف ہنگاموں کی خبریں لگی ہوئی ہیں ان ہنگاموں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے خواتین کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بعض باتیں کہی تھیں جو امریکی سوسائٹی اور امریکی کلچر میں عام ہیں انہوں نے خواتین پر بے راہروی، فحاشی ، عریانی کے الزامات لگائے تھے اس پر دیگر خواتین کے علاوہ خود ان کی بیٹی نے بھی احتجاج کیا تھا۔ الیکشن مہم میں حساس موضوعات کو نہیں چھیڑا جاتا مگر ٹرمپ نے نہ صرف ایسے موضوعات کو چھیڑا بلکہ معذرت کرنے کے بجائے اپنے موقف پر ڈٹا رہا اپنی باتوں کی مزید وضاحتیں کرتا رہا اس گفتگو کا نتیجہ اب ہنگاموں کی صورت میں سامنے آرہاہے الیکشن کے نتائج آنے کے بعد دو طرح کی باتیں منظر عام پر آگئی تھیں ایک بات یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں مجموعی طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیلری کلنٹن کو 300ووٹ زیادہ ملے تھے مگر الیکٹوریل کالج میں چند ووٹوں کی برتری نے ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوایا اس قانون کو ڈیموکریٹک پارٹی نے چیلنج کیا ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہوئی تو ٹرمپ کے ووٹ زیادہ نکلے یہ شوشہ دم توڑ گیا ڈیموکریٹک پارٹی کے لئے کام کرنے والے حلقوں نے ایک Lobbyistکے حوالے سے یہ خبر اڑائی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیاب کرانے میں روس کی خفیہ ایجنسی نے اپنا اثرورسوخ اور نیٹ ورک استعمال کیا ان حلقوں نے دعویٰ کیا کہ گورباچوف کوروس کا صدر بنانے میں سی آئی اے کا ہاتھ تھا گوربا چوف نے روس کو ٹکڑے کر دیا اس طرح ڈونلڈٹرمپ امریکہ کے لئے گوربا چوف ثابت ہونگے اور روس کی خفیہ ایجنسی کو یقین ہے کہ ٹرمپ کے ہاتھوں امریکہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا یہ حلقے حالیہ ہنگاموں کے پیچھے بیرونی ایجنسی کا ہاتھ محسوس کرتے ہیں اور ان حلقوں کا خیال ہے کہ اب کھیل شروع ہو چکا ہے اخبار بین حلقوں کو یاد ہے کہ امریکہ مختلف ممالک میں منتخب حکومتوں کے خلاف ہنگامے کراتا آیا ہے الجزائر ، ایران ، یمن، مصر، لبنان، افغانستان اور پاکستان کی مثالیں بہت پرانی نہیں۔ بھٹو کے خلاف ہنگامے کامیاب ہوئے، محمد مرسی کے خلاف ہنگامے کامیاب ہوئے، مگر احمدی نژاد کو اس طرح کے ہنگاموں کے ذریعے اقتدار سے ہٹانے میں امریکہ کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑا ایرانی قوم نے ان ہنگاموں کو شیطانِ بزرگ کی کارستانی قرار دے کر مسترد کردیا اور احمدی نژاد نے ایرانی قوم کی شاندار قیادت کا فریضہ انجام دیا اب صیاد خود اپنے دام میں پھنس گیا ہے خفیہ ایجنسیوں کے سابقہ ایجنٹوں نے اپنی سوانح عمری یا ناول اور کہانیوں کی صورت میں جاسوسی کے مختلف طریقوں پرسیر حاصل بحث کی ہے ۔ 1990 میں سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد معلوم ہو اکہ کے جی بی کے کئی سینئر اہلکار بھی سی آئی اے کے لئے کام کرتے تھے۔ 1994 اور 2001کے درمیان پشاور اور کابل میں سی آئی اے کے لئے کام کرنے والوں میں سابق سویت فوج کے میجر اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے کے اہلکار شامل تھے۔2001کے بعد روسیوں کے علاوہ جرمن، فرنچ اور بھارتی اہلکاروں کو بھی پشاور اور کابل میں رکھا گیا۔ ایڈورڈ سنوڈن اور کلبھوشن یادو کا معاملہ بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کیپٹل ہل اور پینٹاگان سے پہلے سی آئی اے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔ اور اپنی حلف برداری کے بعد ہونے والے ہنگاموں پر تفصیلی بریفنگ لی۔ امریکی قانون کے مطابق ہوم لینڈ سیکورٹی کے نام پر ہنگاموں کو کچل دیا جاسکتاہے مگر آزادی اظہار پر یہ پابندی امریکی شہریوں کو قبول نہیں ہو گی اس پابندی کا شدید ردِ عمل ہوگادوسرا امکان یہ ہے کہ رپبلکن پارٹی کے اندرڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف آواز اٹھے گی اور پارلیمنٹ کے ذریعے ان کا مواخذہ کرکے اقتدار نائب صدر کے حوالے کیا جائے گا تیسرا قوی امکان یہ ہے کہ ہنگامے امریکی جمہوری نظام میں داراڑیں ڈالینگے اور اگلے پانچ سالوں میں امریکی معیشت تباہی سے دوچار ہوگی ٹرمپ کی صدارت کا دورامریکہ کے لئے امتحان اور آزمائش کا دور ہوگا ٹرمپ یا ابراہم لنکن کی طرح امریکہ کو عظیم بنائے گا یا میخائیل گورباچوف کی طرح ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں