26

سرکاری گاڑیوں کی نیلامی شفاف طریقے سے ہوتی ہے ۔ مظفر سیدایڈوکیٹ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال )خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے سرکاری گاڑیوں کے نیلام کے طریق کار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شفاف طریقے سے نیلامی کا مقصد سرکاری اخراجات میں بچت اور عوام کو سہولت کی فراہمی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنے تمام محکموں اور شعبوں کو کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے علاوہ انکے معاملات کو ہر قسم کی کرپشن، کام چوری اور بدعنوانی سے پاک اور شفاف بنا دیا ہے جس سے سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی آنے کے علاوہ عوام کو بھی براہ راست فائدہ پہنچنا شروع ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ڈبگری گارڈن پشاور میں سرکاری گاڑیوں کی نیلامی کے 81ویں مرحلے کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے اور نیلامی کے قواعد و ضوابط بتاتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے 68گاڑیاں اور 34موٹرسائیکل نیلامی کے لئے پیش کئے جن میں شرکاء نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ ان میں مختلف ماڈل کی چھوٹی بڑی سرپلس اور سکریپ گاڑیاں شامل تھیں جن سے فروخت اور ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے کی آمدن ہوئی۔ نیلامی کی نگرانی وزیر خزانہ کی سربراہی میں محکمہ ہائے انتظامیہ، خزانہ، ایکسائز و ٹیکسیشن اور پولیس ٹیلی کمیونیکیشن کے افسران و نمائندوں نے کی۔ گاڑیوں کی نیلامی قانونی تقاضے پورا کرنے کے بعد بولی کے ذریعے کی گئی ۔ وزیر خزانہ نے اس موقع پر واضح کیا کہ نیلامی میں صرف اُن سرکاری گاڑیوں کو فروخت کیا جاتا ہے جو یا تو استعمال کے قابل نہ رہیںیا جن کی مرمت پر زیادہ اخراجات آتے ہوں جبکہ ایسی گاڑیوں کو وقفوں وقفوں سے نیلام کر کے سرکاری وسائل کی بچت کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کو تمام قانونی تقاضے پورا کرنے کے بعد نیلام کیا جاتا ہے ۔ اُنہوں نے بولی دہندگان کو یقین دلایا کہ فروخت کے بعد ان گاڑیوں کے کاغذات کے سلسلے میں کسی بھی مسئلے کی صورت حکومت پوری طرح ذمہ داری بھی لے گی ۔ اُنہوں نے کھلی نیلامی کے شفاف طریقہ کار کو آئندہ بھی برقرار رکھنے اور بولی دہندگان کی سہولت کو اولیت دینے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ خریدار کو اشیاء کے اوصاف کے ساتھ ساتھ انکے نقائص بتانا اور دکھانااسلامی معیشت و تجارت کا اولین خاصہ رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں