83

عبدِ جہالت ، اِبنِ حماقت۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

شوریدہ سَری کبھی معقولیت کی راہ نہیں اپناتی اور اگر اِس میں نرگسیت بھی شامل ہو جائے تو پھر فرعون ، شداد اور نمرود ہی پیدا ہوا کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو خواہشات کے زنداں میں قید کر لیتے ہیں اور پھروہیں دَم توڑ دیتے ہیں۔ خلیل جبران نے کہا ’’ایسے لوگ کھیتوں پر اُس کُہر کی مانند ہوتے ہیں جو ظہورِ خورشید کے ساتھ ہی فضاؤں میں تحلیل ہو جاتا ہے‘‘ ۔ اہلِ نظر کے لیے وہ منظر انتہائی کربناک تھا جب ایک تمیزِ فہم سے عاری فرعون کے سَر پر امریکی صدارت کا تاج سجا دیا گیا ۔ حکمرانوں سے قطع نظر ہم تو امریکیوں کو انتہائی سلجھی ہوئی قوم سمجھتے تھے لیکن جس قوم کا انتخاب ڈونلڈ ٹرمپ جیسا انتہائے خود پسندی کا شکار ہو ، اُس قوم کے فہم وادراک پر سوالات تو اُٹھتے ہیں اور اُٹھنے بھی چاہییں۔ یہ بجا کہ پاپولر ووٹ میں ہیلری کلنٹن ٹرمپ سے آگے تھیں لیکن یہ بھی جمہوریت کا حُسن ہے کہ میدان ٹرمپ نے مار لیا۔
یہ کیسا شخص ہے جس نے جان بوجھ کر امریکی انتخابات میں منافرت اور نسل پرستی کی ایسی مہم چلائی جو جمہوری تاریخ کو داغدار کر گئی ۔ وہ ہر روز کسی سے مشورہ کیے بغیر ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتا ہے اور دُنیا انگشت بدنداں کہ آخر یہ شخص چاہتا کیا ہے ۔ اقوامِ عالم انتظار کرتی ہیں کہ ٹرمپ کے کنجِ لب سے اب کیا ٹپکے گالیکن اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھنے والا وہ مغرورو متکبر اپنی دُھن میں مگن آرڈر پہ آرڈڑ جاری کر رہا ہے اور ایسا کرتے ہوئے اُسے نہ اقوامِ عالم کی پرواہ ہے نہ امریکی سپریم کورٹ کی۔ عبدِ جہالت ، اِبنِ حماقت اتنا بھی نہیں جانتاکہ خوش قسمتی تو چنچل لڑکیوں سے زیادہ شوخ وشَنگ ہوتی ہے مگر وہ کسی جگہ لمبے عرصے تک کبھی نہیں ٹھہرتی۔ یہ اُس کی خوش قسمتی اور اقوامِ عالم کی بدقسمتی تھی کہ وہ انتخابات جیت گیا لیکن آخر کب تک؟ ۔ آخر ایک دِن خوش قسمتی نے ہوا ہو جانا ہے اور پھر زوال ہی زوال۔۔۔۔
عام خیال یہی تھا کہ اگر ٹرمپ جیت گیا تو وہ کبھی بھی اپنے منشور پر عمل نہیں کر سکے گا کیونکہ اِس ’’گلوبل ویلیج‘‘ میں کوئی جارحانہ انداز نہیں اپنا سکتا ۔ اسی لیے سبھی اِسے’’ انتخابی ڈرامہ‘‘ ہی سمجھتے رہے لیکن اُس نے حلف اٹھاتے ہی اپنے وعدوں اور دعووں پر عمل دَرآمد شروع کر دیا اور صدارت کا چارج سنبھالتے ہی سات مسلم ممالک کے شہریوں پر یہ کہتے ہوئے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی کہ اب یہاں وہی داخل ہو گا جسے امریکہ سے پیار ہے ۔ اِس صورتِ حال نے غیریقینی کو جنم دیا او رصرف امریکہ ہی نہیں پوری دنیا میں اُس کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا ۔ اب واشنگٹن اور نیویارک سمیت پورے امریکہ میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور صرف مسلمان ہی نہیں ، دیگرمذاہب کے لوگ بھی اُس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ وائٹ ہاؤس کو باہر سے مظاہرین نے گھیر رکھا ہے اور اُس کے اندر ٹرمپ آرڈر پہ آرڈر جاری کر رہے ہیں ۔ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈرز سے مظاہرین مشتعل ہو رہے ہیں اور مظاہرین کے نعرے ٹرمپ کو اشتعال دلا رہے ہیں ۔ یہ بھی شاید امریکی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ مظاہرین نے گاڑیاں جلائیں اور املاک کو بھی نقصان پہنچایا ۔جمہوری ممالک میں تو حکمران جمہور کی آواز پر لبّیک کہتے ہیں لیکن اِس مخبوط الحواس کو کسی کی بھی پرواہ نہیں ، اپنی قوم کی نہ اقوامِ عالم کی ۔
اب16 امریکی ریاستوں نے اُس کے خلاف مقدمہ لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اِن ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کی طرف سے مشترکہ بیان جاری ہوا جس میں 7 اسلامی ممالک کے شہریوں پر پابندی کے آرڈر کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا گیا ۔ بیان میں کہا گیا کہ مذہبی آزادی بنیادی امریکی اقدار میں سے ایک ہے اور اِن اقدار کو کوئی صدر تبدیل نہیں کر سکتا۔ اُنہوں نے ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف امریکی عدالت میں امریکی ریاستوں کے مقدمے میں معاونت کرنے کا اعلان بھی کیا۔ لیکن یہ اٹارنی جنرلز شاید نہیں جانتے کہ ڈونلڈ ٹرمپ فطرتاََ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی جیسا ہے ، اسی لیے دونوں میں گاڑھی چھنتی ہے ۔ بھارت بھی اپنے آپ کو سیکولر سٹیٹ کہتا ہے اور وہاں بھی ہر قسم کی مذہبی آزادی ہے لیکن نریندر مودی کے مُنہ کو لگا مسلمانوں کا خون کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اپنی اقدار کی حفاظت کرتا ہے یا اپنے صدر کی۔
اقوامِ عالم ٹرمپ کی پالیسیوں کی کھلم کھلا مخالفت کر رہی ہیں ۔ کینیڈا نے اعلان کیا ہے کہ وہ تارکینِ وطن کو عارضی طور پر پناہ دینے کے لیے تیار ہے ۔ برطانیہ میں وزیرِاعظم کی رہائش گاہ 10 ، ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر بھی ہزاروں افراد نے ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کیا ۔ برطانوی عوام نے ایک آن لائین پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے جس میں 8 لاکھ سے زائد افراد کے دستخط ہو چکے ہیں۔ اِس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانوی دورے سے معذرت کی جائے۔ لندن کے میئر صادق خاں نے بھی برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ کا برطانیہ کا دورہ منسوخ کیا جائے ۔ جرمنی کی چانسلر انجیلامریکل نے بھی اِس ایگزیکٹو آرڈر کی بھرپور مذمت کی ہے ۔ اسلام آباد میں ایگزیکٹو پاسپورٹ آفس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِداخلہ چودھری نثار علی خاں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پایسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی پالیسیوں سے دہشت گردی کے خلاف ہم آہنگی کو نقصان پہنچے گا ۔ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ۔ اِس امریکی اقدام سے دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی سے متاثر افراد متاثر ہوں گے ۔ ایسے عمل سے بین الاقوامی اتحاد کو نقصان اور دہشت گردوں کو فائدہ ہوگا جو دُنیا کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔ چودھری صاحب کا یہ بیان حکومتی پالیسی کا آئینہ دار ہے اور قوم کی آواز بھی ۔ چودھری صاحب تو ایسے معاملات میں ہمیشہ دبنگ لہجہ اختیار کرتے ہیں لیکن ایسا مذمتی بیان وزیرِاعظم صاحب کی طرف سے بھی آنا چاہیے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا اقوامِ عالم اِس جنونی شخص کو روک پائیں گی ؟۔ اِس کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے اور ہمارے خیال میں وہ وقت دور نہیں۔
اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار مہاجرین پر پابندی کا ذکر کیا ۔ٹرمپ کا خیال یہ ہے کہ مہاجرین کی صورت میں دہشت گردامریکہ میں آ جاتے ہیں لیکن جن سات ممالک کے شہریوں پر ویزے کی پابندی لگائی گئی ہے اُن میں سے کسی ایک ملک کے شہری بھی امریکہ پر دہشت گردی کے حملوں میں کبھی بھی ملوث نہیں رہے ۔ اِس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نائن الیون کی طرح یہ بھی امریکی حکمرانوں کا ایک بہانہ ہے ۔ ٹرمپ کے اِس حکم نامے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی نریندر مودی ہی کی طرح مسلمانوں سے شدید نفرت کرتا ہے۔ دُنیا کی سب سے بڑی طاقت کا یہ سربراہ کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے ، اُس کی یہ اندھی طاقت کسی بھی المیے کو جنم دے کر قیامتِ صغریٰ بپا کر سکتی ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں