52

اکسویں صدی میں بھی دروش کے بعض دور افتادہ گاؤں پرائمری سکول سے محروم ہیں۔ اکمل بھٹو

دروش( نامہ نگار) زیور تعلیم سے اراستہ ہوئے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کے منزلوں کو طے نہیں کر سکتی ۔آج جو ممالک منزلوں کو تسخیر کر چکے ہیں یہ سب علم کی مرہون منت ہیں۔تاریخ گواہ ہے جو فتح جدید ہھتیاروں سے ممکن نہ ہوا وہ علم و قلم کے زور سے ممکن ہوا یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے تمام ممالک علم کو اپنی اولین ترجیح میں رکھے ہوئے ہیں۔لیکن بد قسمتی کا انتہا عالم ہے کہ پہلے تو ہمارے ملک میں یکسان نظام تعلیم نہیں اس وجہ سے مختلف درسگاہوں میں مختلف نصابوں کو پڑھنے والے فارغ ا لتحصیل ہونے کے بعد ایک دوسرے کے خلاف صف ارا ہوتے ہیں۔نتیجے میں بے چینی کی کیفیت جنم لیتی ہے اور ساتھ ہی ہر حکومت تعلیم کے فروغ کے حوالے سے ہوائی دعوے تو بہت کرتے ہیں۔مگر ان داؤں کا زمین پر کوئی نقوش نظر نہیں آتے ہیں۔موجودہ صوبائی حکومت نے بھی بہتر تعلیمی معیار کو اپنے اولین ترجیح میں رکھا ہے۔جس کے تحت این ٹی ایس کو متعارف کر کے شفافیت کو یقینی بنایا جو کہ بجا طور پر قابل تحسین اقدام ہے۔لیکن ان کے دعوے داری ابھی تک اپنے منشور کو عملی جامعے پہنانے کے حوالے سے ابھی تک تشنائے حل طلب ہے۔تحصیل دروش کے اندر دور دراز مضافاتی علاقوں کے نو نہال کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر حصول تعلیم پر مجبور ہیں۔جس کا واضح مثال دور افتادہ گاؤں گوس اور ڈوم شغور ہے۔جہاں ابھی تک پرائمری سکول سرے سے نہیں ہیں۔ اس حوالے سے متعادت مرتبہ حکومتی زمہ داروں کو درخواستین دی گئی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔تمام سفارشات ردی کے ٹوکری کی نظر کر دیے گئے۔جس کی وجہ سے یہ بچے پر خطر راستوں سے ہوتے ہوئے حصول تعلیم کیلئے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جو کہ حکومت اور منتخب نمائندگاں کیلئے لمحہ فکریہ ہے گذشتہ اے ڈی پی میں سلیم خان دروش میں چار پرائمری سکول رکھے تھے جو کہ اپنی اپنی اخری مراحل میں داخل ہیں جن کو ہم بلا شعبہ سراہتے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے صوبائی حکومت اور چترال کے ممبران اسمبلی ا بھی تک مذکورہ علاقوں کی طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں۔یہ باتین یفت قومی مومنٹ دروش کے صدر اکمل بھٹو نے اپنی ایک اخباری بیان میں کیں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایم پی اے سلیم خان دروش میں یکسان طور پر ترقیاتی کام کرنے کے بجائے مخصوص علاقوں تک اپنے فنڈزکو محدود رکھا ہے جو کہ سراسر نا انصافی ہے۔گذشتہ سیلاب میں ڈوم شغور رابطہ سڑک مکمل طور پر بہہ کر اہلیاں علاقہ کے لئے سفری افریت کا باعث بنا رہا ۔حفاظتی پستوں کے مد میں درخواست دینے پر بھی سلیم خان نے اس کیلئے کوئی فنڈز نہیں رکھا۔علاوہ ازین زلزلے میں مکمل منہدم اوسیک اوچ مسجد کیلئے بھی درخواست دی گئی تاہم اس حوالے سے بھی طفلے تسلی سے کام لیا گیا۔اخباری بیان کے زریعے ہم سیلم خان اور تحریک انصاف حکومت کو متنبے کرتے ہیں کہ وہ ترقیاتی کاموں سے محروم پسماندہ علاقوں کی طرف توجہ دے ورنہ اہلیان علاقہ اپنی بنیادی حقوق کیلئے سڑکوں کا رخ کرنے پر مجبور ہونگے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں