28

شیشی کوہ کے مقام گاؤچ میں ایک خاتون برف میں پھنس کر جان بحق،کان خون میں بھی برف کے تودے گرنے سے دو گھروں ایک جماعت خانہ اور دو پن چکیوں کو نقصان پہنچا

چترال ( محکم الدین ) چترال میں برفباری کے نتیجے میں جان بحق ہونے والوں کی تعداد 12ہو گئی ۔ بدھ کے چترال کے مختلف مقامات میں برف کے مزید تودے گرنے اور لینڈ سلائڈنگ سے دو افراد جان بحق اور کئی مکانات کو نقصان پہنچا ۔ شیشی کوہ کے مقام گاؤچ میں ایک خاتون زوجہ افضل دختر غزان برف میں پھنس کر جان بحق ہوئی ۔ اسی طرح کشینڈیل شیشی کوہ میں ایک نوجوان حفیظ الرحمن ولد جمروز اُس وقت پہاڑی تودے کی زد میں آکر جان بحق ہوا ۔ جب وہ دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر بلاک شدہ سڑک کو کھولنے کیلئے کام کر رہا تھا ۔ چترال کے بالائی علاقہ یارخون کے ایک گاؤں کان خون میں بھی برف کے تودے گرنے سے دو گھروں ایک جماعت خانہ اور دو پن چکیوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ متاثر ہونے والوں میں بہار احمد اور سلمان شامل ہیں ۔ چترال میں بارش اور برفباری کا سلسلہ بدھ کے روز بھی جاری رہا ۔ اور لواری ٹنل ائریے میں برفباری اور سڑک کی صفائی میں مشکلات کے سبب ٹنل کو 10فروری کے دن کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ تاہم بڑی تعداد میں وہ مسافر دیر پہنچ کر ٹنل کے کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ جن کو ٹنل کے شیڈول کے ملتوی ہونے کے بارے میں معلومات نہیں تھیں ۔ درین اثنا ڈپٹی کمشنر چترال شہاب حامد یوسفزئی کے آفس سے جاری ہونے والے ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے ۔ کہ شدید برفباری کے بعد ضلعی انتظامیہ الرٹ ہے ۔ اور عوام کو آمدورفت کی سہولت دینے کیلئے چترال دروش روڈ ، چترال بونی روڈ کھول دی گئی ہے ، چترال گرم چشمہ روڈ 22کلومیٹر تک صاف ہو چکا ہے ۔ جبکہ مزید کام جاری ہے ۔ چترال دیر روڈ برفباری اور برف کے تودے گرنے کی وجہ سے فی الحال بند ہے ۔ جسے 10فروری تک مسافروں کیلئے کھول دیا جائے گا ۔ مستوج بونی روڈ پرواک تک صاف کیا گیا ہے ۔ بونی تورکہو ، موڑ کہو ، کوشٹ روڈ پر کام جاری ہے ۔ مستوج یارخون اور مستوج لاسپور روڈ بدستور بند ہے تاہم کام زورو شور سے جاری ہے ۔ جبکہ کالاش ویلی روڈ ہلکی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں اس امر کا بھی اظہار کیا گیا ہے ۔ کہ چترال میں اب بھی آبادی کو خطرات درپیش ہیں ۔ جہاں سلائڈنگ اور برف کے تودے گرنے کے امکانات موجود ہیں ۔ برفباری کے بعد سے چترال میں نیشنل گرد سے بجلی کی سپلائی بدستور معطل ہے ۔ تاہم لوکل بجلی کی بحالی کیلئے کام جاری ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں