27

عوام پر ہونے والی زیادتی انتظامیہ کی مصلحت پسندی اور کمزوری کا نتیجہ ہے۔عوامی حلقوں کاگران فروشوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کا مطالبہ

چترال ( محکم الدین ) برفباری سے فائدہ اُٹھاکر موقع شناس لوگوں نے چترال کے عوام کو لوٹنا شروع کر دیا ہے ۔ قدرت جہاں مختلف آفات میں گھیر کر چترال کے لوگوں کا مسلسل امتحان لے رہا ہے ۔ وہاں مشکل کی ان گھڑیوں میں ہمارے معاشرے کے کئی طبقات ناجائز منافع خوری کو ا پنا معمول بنا لیا ہے ۔ اور یہ طبقات اپنے اس ظالمانہ طرزعمل کو اسلام اور قانون کے خلاف تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ۔ چترال میں برفباری کیا ہوئی۔، ٹیکسی ڈرائیوروں ، دکانداروں ، سبزی فروشوں ، مرغی فروشوں ، سلنڈر گیس فروخت کرنے والوں اور ہوٹل کا کاروبار کرنے والوں کی چاندی ہو گئی ۔ اور لگاتار چترال کے بیچارے شہریوں کا خون چوسا جا رہا ہے ۔ وجہ یہ بتایا جاتا ہے ۔ کہ برفباری کے سبب سڑکیں خراب ہو گئی ہیں ۔ اس لئے سابقہ کرایہ پر گاڑی چلانا ممکن نہیں ۔ تیل اور دیگر اخراجات برف کی وجہ سے زیادہ ہو رہے ہیں ۔ یوں برفباری کے دوران چترال شہر سے ایون تک 250روپے فی سواری ،چترال سے دروش 600روپے اور چترال سے بونی ، مستوج ، تورکہو ، موڑکہو جہاں تک گاڑی جاتی ہے ۔ من مانی کرایہ وصول کیا جاتا ہے ۔ جو کہ سابقہ کرایہ کے مقابلے میں 200فیصد سے 1000فیصد زیادہ ہے ۔ ایک طرف لوگ مشکلات سے دوچار اور دوسری طرف لوٹنے کا عمل جاری ہے ۔ لیکن ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ ٹیکسی والے جو انتظامیہ کے مقرر کردہ کرایہ نامہ کو جوتی کی نوک پر پہلے ہی ٹھو کر مارچکے ہیں ۔ اب مزید ڈھٹائی سے لوگوں کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اُٹھا رہے ہیں ۔ اور باز پرس پر سواریوں کے ساتھ بد تمیزی ان کا معمول بن گیا ہے ۔ اسی طرح مرغی فروشوں نے فی مرغی پر 50سے 80روپے تک اضافہ کر دیا ہے ۔ سبزی کی قیمتیں بھی برفباری کی وجہ سے ڈبل ہو چکی ہیں ۔ اور سلنڈر گیس پر فی کلو 15سے 20 روپے ا ضافی رقم لی جاتی ہے ۔ ٹیکسی ڈرائیوروں ، دکانداروں ، مرغی فروشوں ، سبز ی فروشوں اور دیگر اجناس فروشوں کی طرف سے قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھ کر یوں لگتا ہے ۔ کہ چترال میں انتظامیہ نام کی کوئی چیز موجود نہیں ۔ ہر ایک اپنی مرضی کا باد شاہ بنا ہوا ہے ۔ عوامی حلقوں نے انتظامیہ کی اس بے حسی پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ او کہا ہے ۔ کہ عوام پر ہونے والی یہ زیادتی انتظامیہ کی مصلحت پسندی اور کمزوری کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے انتظامیہ سے اس حوالے سے سخت ترین کاروائی کامطا لبہ کیا ہے

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں