28

عوامی حلقوں کاچترال پشاور روڈ کو ناقص مرمت کرنے پر این ایچ اے کے ٹھیکہ داروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

چترال ( محکم الدین ) چترال کے عوامی حلقوں نے چترال پشاور روڈ کو ناقص مرمت کرکے حکومتی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے اور عوام کو مشکلات سے دوچار کرنے والے ادارہ این ایچ اے اور اُس کے ٹھیکہ داروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ Image may contain: outdoorاور چترال کی عدالتوں سے اس ادارے کے خلاف سو مو ٹو ایکشن لے کر اُنہیں کڑی سزا دینے کی اپیل کی ہے ۔ ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا ۔ کہ حالیہ برفباری نے ہمارے کئی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑے ہیں ، خصوصاً ملک کے سب سے بڑے مواصلاتی ادارہ این ایچ اے کی طرف سے گذشتہ سال چترال پشاور روڈ کی تارکول مرمت کا پول مکمل طور پر کھول دیا ہے ۔ برف باری کے بعدمرمت شدہ سڑک جو منظر پیش کر رہا ہے ۔ وہ انتہائی شرمناک اور قابل گرفت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرمت کے نام پر اس سڑک میں جو تارکول استعمال کیا جا رہا تھا ۔ وہ انتہائی طو پر ناقص تھا ۔Image may contain: tree, outdoor and natureلیکن عوام کے پاس ناقص اور معیاری کام میں فرق کیلئے کوئی لیبارٹری یا مکینزم موجود نہ ہونے کی وجہ سے نااہل ادارے کے سامنے اُن کا اصل چہرہ دیکھایا جاسکے ۔ ا ب حالیہ برفباری نے کام کے معیار کی جانچ میں آسانی کر دی ہے ۔ اور برف کی ہلکی تہہ پڑنے کے بعد گذشتہ سال کے تمام مرمت شدہ تارکول اُکُھڑ گئے ہیں ۔ اور مین چترال پشاور روڈبری طرح شکست وریخت کا شکار ہیں ۔جس سے چترال سے پشاور جانے والی مسافر گاڑیوں اور مقامی سطح پر چلنے والی گاڑیوں اور مسافروں کو جو مشکلات درپیش ہیں ۔ وہ نا قابل بیان ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف یہ ادارہ لواری ٹنل کے علاوہ ان سڑکوں پر توجہ ہی نہیں دیتی ۔ جس کی وجہ سے مین چترال پشاور روڈ سائڈوں پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر صرف ایک گاڑی کے گزرنے کے قابل رہ گیا ہے ۔ اب برفباری کے بعد ناقص تارکول اُکُھڑنے اور جگہ جگہ کھڈے بن جانے کی وجہ سے یہ سڑک سفر کیلئے اور بھی مشکل ہو گیا ہے ۔ خصوصاً اس سڑک کے راستے کسی مریض کو پشاور لے جانا اُسے موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے ۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ۔کہ این ایچ اے کے متعلقہ ٹھیکہ دار وں کے خلاف قانوی کاروائی کی جائے ۔ جنہوں نے اس سڑک کی مرمت میں ناقص میٹریل استعمال کرکے مسافروں کو مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ اور سڑک شکست وریخت کا شکار ہو گیا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں