18

عبداللطیف کی حالیہ نوٹیفیکشن منسوخ نہ کی گئی تو پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا ۔آئی ایس ایف چترال کا پشاورپریس کلب میں پریس کانفرنس

پشاور(نمائندہ )آئی ایس ایف ضلع چترال کے صدر نذیر احمد ودیگر نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے نظریاتی کارکنوں اور عمران خان کے مداحوں کے لئے یہ بہت اچھی خبر ہے کہ چترال سمیت پورے صوبے میں پارٹی کی تنظیموں کو بحال کیا گیا ہے۔اس کے لئے 2013 ؁ء کے بعد چترال کے ورکروں نے قربانیوں کی الگ تاریخ رقم کی۔126 دن سڑکوں پر بیٹھ کر دھرنا دیا۔ نہ چا ئے نہ کھانا نہ کپڑے بدلنے کا خیال نہ سر دھونے اور نہانے کی فکر شدید موسمی حالات کا مقابلہ کیا۔یہ عمران خان کے شخصیت کا کرشمہ تھاا نہیں اپنے قائد پر اعتماد تھاکہ وہ انہیں شرمندہ نہیں کریگا۔عمران خان کے مداحوں کو اس بات پر فخر ہے کہ تحریک انصاف میں غیر جمہوری رویہ نہیں ہے دوسری پارٹیوں کی طرح عہدیدار باہر سے نامزد ہو کر نہیں آتے۔مگر گذشتہ تنظیموں کو بحال کر کے رائیونڈ ، لاڑکانہ ، ولی باغ اور نمک منڈی کی طرح عہدیدار نامزد کئے گئے۔اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کا فرق ختم ہوا۔دوسری پارٹیاں بھی نامزد لوگوں کو کارکنوں کے کندھوں پر سوار کر تی ہیں پی ٹی آئی نے بھی ایسا ہی کیا۔ان عہدیداروں کے اوپر جو الزامات لگا ئے گئے تھے وہ الزامات جوں کے توں موجود ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں اس کا تلخ تجربہ ہوا ہے چترال میں ضلعی کوارڈینٹر اور موجودہ صدر اپنی انفرادی انتخابی مہم میں مشغول رہے 2 حلقوں کے علاوہ 22 حلقوں میں کسی بھی حلقے میں پارٹی امیدواروں کی حمایت میں ضلعی تنظیم اور اس وقت کے پارٹی رہنماؤں نے کوئی مہم نہیں چلا ئی ۔ عمران خان کے شیدائی حیران ہیں کہ کہاں جائیں۔ کیا پارٹی قیادت کے پاس قربانی دینے والے کارکنوں کا کوئی ریکارڈ ہے یا نہیں؟ کیا پارٹی قیادت کے پاس 1996 سے اب تک پارٹی منشور کے لئے نظریاتی جدوجہد کرنے والوں کا ریکارڈ ہے یا نہیں؟ اگر ضلع ، تحصیل اور وارڈ کی سطح کے عہدیدار رائیونڈ ،لاڑکانہ،ولی باغ اور نمک منڈی کی طرح نامزد کرنا ہے تو پھر پی ٹی آئی کے منشور پر کون عمل کریگا۔
اُنہوں ننے کہا کہ محمود خان ملاکنڈ ریجن کے صد ر منتخب ہونے کے بعد آ ج تک چترال کا دورہ نہیں کیا جبکہ چترال میں جہاز کے حادثے میں چترال کے 26 افراد شہید ہو ئے اسی اثناء میں نہ محمود خان صاحب اور نہ کسی دوسرے وزیر نے چترال آنے کی زحمت گوارا کی۔جبکہ چترال کے پارٹی ورکروں نے صوبائی حکومت کے عہدیداروں کو کئی مرتبہ چترال آنے کی دعوت دی۔اور محمود خان صاحب کا یہ فرض تھا کہ ملاکنڈ ریجن کے صدر کی حیثیت سے چترال کا دورہ کرتے ورکروں سے مشاورت کرتے اور انکے مشورے کے مطابق ڈسٹرکٹ چترال کے لئے صدر منتخب کر تے۔لیکن آج پارٹی وکرز اس بات پر حیران ہیں کہ ایک ایسے شخص کو پی ٹی آئی چترال کا صدر بنایا گیا جسکی 12 سالہ تاریخ میں کارکردگی صفر ہے۔چترال میں کرپشن اور نا انصافی کے خلاف اس نے کتنے جدوجہد کی ہے؟ آج تک کسی کی حمایت یا مخالفت میں اس کا کیا کر دار رہا ہے؟چترال کے اہم عوامی مسئلوں میں جیسا کہ ، لواری ٹنل کا مسئلہ، بجلی کامسئلہ پینے کے پانی کا مسئلہ ، زلزلہ اور سیلاب متاثرین کے لئے اس کا کیا کردار رہا۔ 2013 سے لیکر آج تک پارٹی کا مرکزی دفتر بند ہے اور آج ورکروں کے مخالفت کے با وجود اس کا دوبارہ صدر منتخب ہونا پارٹی کو ایک سو چے سمجھے منصوبے کے تحت تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے پریس کانفرنس کے ذریعے چیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ جس شخص کے کرپشن کے ثبوت ہم نے اپنے ہاتھوں سے خان صاحب کو حوالہ کیے تھے آج وہی شخص دوبارہ صدر بن چکا ہے۔ عبدالطیف 11 سال پارٹی کے صدر رہے اسکی صدارت میں ہم 2013 کے جنرل الیکشن اسکی غلط پالیسوں اور ذاتی مفادات کی وجہ سے ہار گئے اور اس طرح بلدیاتی الیکشن بھی اسکی پسند اور نا پسند پالیسوں کی وجہ سے بُری طرح ہار گئے ہیں۔صدر موصوف اپنی ذاتی مفادات کے لئے چند مفاد پرست عناصر کے ٹولے لیکرہر غیر قانونی اور پارٹی منشور کے خلاف سر گرمیوں میں مصرف رہااور چترال کا بد نام زمانہ ٹمبر مافیا کا سرغنہ رہا ہے اس کو 4 کروڑ سے زائد کا جرمانہ فا رسٹ ایکٹ کے تحت کیا گیا ہے۔مذکورہ جرمانے کے خلاف ایک مقدمہ سول جج 1 چترال میں زیر سماعت ہے۔ عبد الطیف کو دوبارہ صدر منتخب کرنے سے ٹمبر ما فیا اور دیگر کرپٹ عناصر کو تقویت مل گئی۔اور مذکورہ فیصلے سے پاکستان تحریک انصاف چترال کے مخلص ورکرز میں شدید غم و غصہ اور مایوسی پھیل چکی ہے اگر موصوف کی حالیہ ٹوٹیفیکشن منسوخ نہ کی گئی تو پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا بلکہ 2018  کے جنرل الیکشن میں ہم خاظر خواہ کامیابی سے ہمکنار ہو نا نا ممکن ہے۔اُنہوں نے کہا کہ 2013 کے الیکشن میں تینوں سیٹیں ہم ہار گئے تو پارٹی قیاد ت نے بی بی فوزیہ کی صورت میں خواتین کے مخصوص نشست سے ہمیں نوازا۔تو ہم خوش ہو گئے کہ کم از کم پارٹی کو ایک نمائندگی مل گئی ۔ مگر موصوفہ نے پارٹی کو فعال اور منظم کرنے کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی اور پارٹی امور کارکنان کیساتھ قطع تعلق رکھی اور پارٹی کیساتھ اسکی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اور وہ بھی عبدا لطیف کے گینگ میں شامل ہو چکی ہے۔چترال میں پارٹی کو تقسیم کرنے اور نقصان پہنچانے میں بی بی فوزیہ اور عبد الطیف کا بڑا کر دار ہے۔لہذا ہم مرکرزی قیادت خاص کر چیرمین عمران خان اور صوبائی قیادت سے پر زور اپیل کر تے ہیں کہ پارٹی بہترین مفادمیں حالیہ فیصلے پر نظر ثانی کر تے ہو ئے عبدالطیف کینو ٹیفیکشن کومنسوخ کی جا کر پارٹی کارکنان سے ،مشاورت کے بعدایک تعلیم یافتہ، دیانتداراور ایماندار کو چترال کا عبوری صدر مقرر کیا جا ئے تا کہ پارٹی کارکنان منظم ہو کر 2018  کے الیکشن کے لئے تیار ی کر سکے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں