18

فاٹا کو خیبرپختونخو امیں ضم کرنے پر ساری قوم متحد ہے فاٹا قدرتی طور پر صوبے کا حصہ نظر آتا ہے ۔عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخو امیں ضم کرنے پر ساری قوم متحد ہے فاٹا قدرتی طور پر صوبے کا حصہ نظر آتا ہے ۔نہ فاٹا علیحدہ صوبہ قابل عمل نظر آتا ہے اور نہ ہی اسے انتظامی طور پر علیحدہ یونٹ کے طور پر چلایا جا سکتا ہے ۔ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلی ہاوس پشاور میں فاٹا اصلاحات کے حوالے اُن کو دی جانے والی پریزینٹیشن سے گفتگو اور بعد ازاں پشاور بم دھماکے کے زخمیوں کی عیادت اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے دورہ کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک ، پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین، سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر ، صوبائی وزراء اور دیگر بھی موجود تھے ۔ عمران خان نے کہا کہ فاٹا میں بحالی اور انفراسٹر کچر بچھانا ایک چیلنج ہے کیونکہ مقامی سطح پرڈیلیوری ، انصاف کی فراہمی ، خدمات سمیت حکمرانی کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ جنگ نے پورے قبائلی نظام کو ناکارہ بنا دیا ۔عوام دربدر اور اُن کے مصائب میں بہت اضافہ ہوچکا ہے ۔پرانے سسٹم کے تحت طرز حکمرانی اور حکومتی اختیار پولٹیکل ایجنٹ اور ملک کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے وہ آج زمینی حقائق میں قابل عمل نہیں رہا ۔پوری قوم کا اتفاق رائے ہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جا ئے ۔عمران خان نے کہا کہ فاٹا میں چیلنجز بہت زیادہ ہیں ۔سارے محکموں کو وہاں تک توسیع دینا ، لوکل گورنمنٹ سسٹم کو وہاں متعارف کروانا ، انفراسٹرکچر کو ڈویلپ کرنا ، الیکشن کی تیاری وغیرہ بہت سے مسائل درپیش ہیں ۔مگر فاٹا کو خیبرپختونخو امیں انضمام کی صورت میں ان چیلنجز سے نمٹنا آسان ہو سکتا ہے ۔عمران خان نے کہاکہ فاٹا میں بے گھر عوام کے معمولات زندگی بحال کرنے ہیں اس مقصد کیلئے مجموعی طور پر ایک جامع ریکوری پلان چاہیئے کیونکہ ضرب عضب کے نتیجے میں فاٹا کے عوام کے مصائب اور تکالیف میں اضافہ ہوا ۔ وفاق کو چاہیئے تھا کہ وہ فاٹا اور خیبرپختونخو اکے عوام سے مل کر مجموعی ریکوری پلان بناتے ۔وہاں سرگرمیاں بحال کرتے اورانفرسٹرکچر ڈالتے ، انصاف کی فراہمی کا کوئی راستہ نکالتے اور پور ا سٹر کچر کھڑا کرنے کی ابتداء کرتے تو اب حالات کافی بہتر ہو چکے تھے۔ ۔ عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کی تازہ لہر کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں ہر سطح پر تیاری کرنا ہو گی ۔ حکومتوں ، ایجنسیوں اور عوام کو تیاری کرنی ہے کہ دہشت گردی کی اس لہر کا کس طرح مقابلہ کرنا ہے ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ فاٹا کو 50 ارب روپے سالانہ دیئے جاتے ہیں۔ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضما م کی صورت میں نیشنل پول میں یہ رقم 80 سے 100 ارب روپے تک چلی جائے گی ۔وفاق دس سال تک سالانہ 100 ارب روپے فاٹا میں انفراسٹرکچر اور دیگر سروسز کیلئے فراہم کرے گا۔ اس طرح 10 سال کے دوران مجموعی طور پر 1000 ارب روپے بنتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وسائل اتنا مسئلہ نہیں ہے لیکن فاٹا کے خیبرپختونخو اکے ساتھ انضمام کی طرف جلد جانا ضروری ہے ۔وہاں لوکل گورنمنٹ سسٹم کو متعارف کروانا اور الیکشن کی تیاری ایک چیلنج ہے لیکن یہ جتنی جلدی ہوگا اُتنا ہی خطے کیلئے مفید ہے ۔انہوں نے کہا کہ فاٹا اور خیبرپختونخوا کے عوام ایک ہی لوگ ہیں ۔ خیبرپختونخوا میں رہیں یا فاٹا میں یہ سب ایک ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم فاٹا اصلاحات پر مسلسل محنت کررہے ہیں اور پراُمید ہیں کہ فاٹا کا خیبرپختونخو امیں انضمام جلد کیا جائے گا۔ ہمیں چیلنجز زیادہ ہیں مگر ہمارا عزم بلند ہے ہم ہمیشہ ان چیلنجز سے گزر کر ہی مضبوط ہوتے رہے ہیں۔ 

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں