41

چترال کے راستے سی پیک کی وسطی ایشیائی ریاستوں تک توسیع کیلئے بھی کوشاں ہیں،چترال پار افغانستان کی دس کلومیٹر مختصر واخان پٹی سے ملحقہ ریاست تاجکستان کے باشندے ہیں/مظفرسیدایڈوکیٹ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال )عالمی مالیاتی اور امدادی اداروں نے کرپشن کی بیخ کنی، مالی نظم و ضبط اور شفافیت کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے جاری ترقیاتی منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل اور نئے میگا پراجیکٹس شروع کرنے کیلئے کافی نرم شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا یقین دلایا ہے تاہم انہوں نے صوبے کے ساتھ کسی بھی نئے مالی معاہدے کو وفاق کی طرف سے نئے این ایف سی ایوارڈ کے اعلان سے مشروط کیا ہے یہ بات آئی ایم ایف کے نمائندے توقیر میرزوف کی معیت میں مالیاتی ٹیم نے دورہ پشاور میں خیبر پختونخواکے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ سے ملاقات اور صوبے کے مالی استحکام پر گفتگو میں بتائی انہوں نے صوبے کی مالی ضررویات اور اس مقصد کیلئے آسان قرضوں کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ برطانوی ڈی ایف آئی ڈی، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، جرمن بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی خیبر پختونخوامیں محکموں کی کارکردگی میں بہتری، ان پر بڑھتے عوامی اعتماد، جامع اصلاحات اور نئی قانون سازی کے عمل کو بنظراستحسان دیکھ رہے ہیں تاہم سب کااس بات پر اتفاق ہے کہ آئینی تقاضوں کے مطابق نویں این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل اور اس تناظر میں صوبے کی حقیقی مالی پوزیشن واضح ہونے کے بعد ہی وہ قرضوں اور امداد کا جائزہ لینے کے قابل ہونگے کیونکہ قرض دینے کے ساتھ ہی اسکی واپسی کا یقین اور گارنٹی بھی ان اداروں کے فرائض میں شامل ہے بین الاقوامی این جی اوز اور سمندرپار پاکستانیوں کے دو مختلف وفود نے بھی وزیر خزانہ سے ملاقات کی اور مختلف عوامی و علاقائی مسائل پر ان سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا مظفر سید ایڈوکیٹ نے اپنی اتحادی حکومت کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہم غیرملکی شرائط سے زیادہ اپنے عوام کے مفاد پر مبنی امداد اور قرض بہ امر مجبوری لینے پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ ہم عوام کو دوبارہ معاشی غلامی کی بیڑیاں پہنانے کی بجائے غریبی اور سادگی میں ہی عافیت سمجھتے ہیں البتہ شکوہ ہمیں اپنے وفاق سے ہے مرکز تمام اکائیوں میں قومی یکجہتی، عدل و مساوات اور اتفاق برقرار رکھنے کا پابند ہے البتہ ہم اپنے مرکز کے ظلم و زیادتی اور سوتیلی ماں جیسے سلوک کا شکار ہیں خیبر پختونخوا میں پن بجلی، جنگلات، سیاحت، ، تیل و گیس اور قیمتی معدنیات سمیت قدرتی وسائل کی بہتات ہے مگر ان سب پر براہ راست یا بالواسطہ مرکز قابض ہے اور ہم اپنے 90فیصد مالی محاصل کیلئے مرکز کے محتاج ہیں وفاق فنڈز کی ادائیگی میں قصداًتاخیر کرکے ہمیں اپنے پاؤں کھڑا نہیں دیکھنا چاہتا مگر اسے عوام کا ا احساس محرومی بڑھتا اور پیمانہ صبر لبریز ہوتا نظر نہیں آتا آج این ایف سی ایوارڈ ہمارا بڑا مسئلہ بن چکا ہے پرانے این ایف سی کی میعاد ختم ہوئے آٹھواں مہینہ ہونے کو ہے مگر وفاق کو اس آئینی خلاء اور چھوٹے صوبوں کی مالی مشکلات کی فکر ہی نہیں نت نئے تاخیری حربے رکاوٹ ہیں کبھی غربت اور آبادی پر سروے تو کبھی مردم شماری کی تاویلوں پر ماہ و سال گزارے جا رہے ہیں ہمیں ساتویں این ایف سی کے اگلے پانچ توسیع پر 177ارب روپے اور پچھلے دسمبر تک ایک سال میں 35ارب روپے کم ملے مگر ستم یہ کہ نئے ایوارڈ کا اعلان زیادہ مشکل بنایا جا رہا ہے درحقیقت نواز شریف حکومت چاہتی ہے کہ نہ صرف ساتویں ایوارڈ کو تیسری پانچ سالہ میعاد کیلئے توسیع دی جائے بلکہ نیپ، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کی ترقی کے نام پر صوبوں کے حصے سے مزید سات فیصدکٹوتی بھی کی جائے حالانکہ یہ تمام مرکز کے اپنے شعبے ہیں اور ہمیں یہ نہیں بتایا جا رہا کہ گزشتہ ستر سال کی کمی اور محرومیوں کا ازالہ اچانک صوبوں کا حق مار کر کیسے ممکن ہے مظفر سید ایڈوکیٹ نے وفود کے استدلال سے اتفاق کیا کہ مرکز ان حلقوں کی ناکام خوشنودی کی آڑ میں اپنی عیاشیوں میں مزید اضافہ چاہتی ہے حالانکہ کمزور اکائیوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کی بجائے انہیں تمام جائز حقوق دیکر ہی فیڈریشن کو مضبوط کیا جا سکتا ہے ان حالات میں ایسے میکانزم کی ضرورت بڑھ چکی ہے کہ صوبے بھی بعض اندرونی شعبوں بالخصوص مالی حوالے سے مرکز پر چیک رکھ سکیں اور اس کا آمدن و خرچ اور دیگر حسابات کی شکل میں صرف اس حد تک احتساب اور حق تلفی کی روک تھام کر سکیں کہ کہیں صوبائی محاصل، اندرونی و بیرونی امداد اور قرضوں میں کمزور اکائیوں کا استحصال تو نہیں ہو رہا تجربات نے ہمیں سکھایا ہے کہ ماضی میں ہم مرکز کی پالیسیوں کے سبب ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار ہوئے اور اس ضمن میں غیرملکی امداد بھی ہمیں ملنے کی بجائے مرکز نے اڑالی صوبے میں لاکھوں افغان مہاجرین اور آئی ڈی پیز کی کفالت ہمارے ذمہ ڈالی گئی ہم قدرتی آفات، دہشت گردی اور بدامنی و عدم تحفظ کا شکار ہوئے حتیٰ کہ مرکز افغان مہاجرین کو خیبرپختونخوا میں مزید ٹہرانے پر مصر رہا مگر ہماری مالی امداد کو وہ تیار نہیں ہم فاٹا اور افغان بارڈر سے ملاپ کے سبب سنگین سیکورٹی مسائل سے دوچار ہیں مگر وفاق ہماری خبرگیری پر آمادہ نہیں ہمیں سیکورٹی اخراجات میں اضافے کے علاوہ ناخواندگی، بیماریوں، صاف پانی اور دیگر گوناگوں چیلنجوں کا سامنا ہے ہم صوبے میں مقامی ریکوری بڑھانے کیلئے بھی کوشاں ہیں مگرعوام کو بہتر سہولیات دئیے بغیر ان سے زبردستی وصولیاں عوام دوستی ہے اور نہ ہی صوبے کے بھاری بھر کم اخراجات کو محض د میونسپلٹی ٹیکسوں سے پورا کرنا ممکن ہے اگرچہ ہم نے اپنے وسائل کے مطابق ہزاروں نئے اساتذہ اور ڈاکٹروں کی بھرتیاں کیں اور مزید بھی کر رہے ہیں مگر یہ کافی نہیں ہم نے عوام کو مقامی سطح پر بااختیار بنانے کیلئے بلدیاتی انتخابات کرائے اور صوبے کے 30فیصد مالی وسائل اور اختیارات انہیں منتقل کئے، سوات موٹروے جیسی میگا سکیمیں شروع کیں وزیراعظم یہاں کا دورہ کرتے ہیں مگر انہیں کسی ترقیاتی پیکیج کے اعلان کی توفیق تک نہیں ہوتی 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بڑے بجلی گھروں کی تعمیر کا اختیار ملا تو وفاق نے خیبر پختونخوا کی سستی پن بجلی کی بجائے پنجاب کی مہنگی ترین تھرمل بجلی گھروں میں سرمایہ کاری شروع کردی جو زیادتی ہے سی پیک کا مغربی روٹ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی کوششوں اور حکومت چین کی تحریری گارنٹی کی بدولت ہمارے لئے امید کی کرن بن چکا ہے ہم گلگت اور چترال کے راستے سی پیک کی وسطی ایشیائی ریاستوں تک توسیع کیلئے بھی کوشاں ہیں تاکہ وہاں کے عوام بھی ہمارے شانہ بشانہ بین الاقوامی معاشی سرگرمیوں میں شریک ہوں وفود نے مظفر سید ایڈوکیٹ سے اتفاق کرتے ہوئے صوبے کی معاشی ترقی کیلئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا جبکہ آئی ایم ایف کے نمائندے توقیر میرزوف نے سی پیک کے چترال کے راستے وسطی ایشیاء تک توسیع کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ چترال پار افغانستان کی دس کلومیٹر مختصر واخان پٹی سے ملحقہ ریاست تاجکستان کے باشندے ہیں اور سی پیک روٹ میں توسیع کی بدولت ان تمام ممالک سے یہاں تجارتی قافلوں کی آمد و رفت کے علاوہ ثقافتی روابط میں بھی اضافہ ہو گا ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا پہلا دورہ ہے اور وہ مہمان نوازی کی خوشگوار یادیں لیکر واپس جا رہے ہیں انہوں نے صوبے کی سیاسی و جغرافیائی اہمیت اور تفصیلات میں بھی گہری دلچسپی کا اظہار کیا جبکہ وزیر خزانہ کو اسلام آباد میں انکے کنٹری ہیڈ کوارٹر آمدٍ کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کرتے ہوئے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان ہوتے ہی دورے کی حامی بھرلی

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں