37

خیبرپختونخو امیں دیرپا توانائی اورکامرس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے مفاہمتی یاداشت پر دستخط

پشاور/وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سی پیک کی وجہ سے فاٹا کی سٹریٹیجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے اور یہ صوبہ سرمایہ کاری کیلئے زیادہ فیزبیل بن چکا ہے ۔سکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے پہلے فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام یقینی بنایا جائے۔ صوبائی حکومت نے صوبے میں امن کے قیام اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔صوبے بھر میں 17صنعتی بستیوں پر کام جاری ہے۔ موٹر وے پر 4ہزار کنال اراضی پر مشتمل صنعتی زون کی ترقی کے لئے چینی سرکاری کمپنی کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں۔ چینی سرمایہ کار کمپنیوں نے رشکئی صنعتی بستی اور چین سے صنعتوں کی ری لو کیشن کے لئے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اب صوبے میں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اصلاحات کے ذریعے سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرکے پولیس کو ایک آزاد، با اختیار اور فعال ادارہ بنا دیا ہے۔ مالم جبہ میںskiingمقابلوں کا کامیاب اور پر امن انعقاد کیا گیا ہے جس میں بین الاقوامی کھلاڑیوں نے شرکت کی ۔ایونٹ کے لئے سیفٹی اور سیکیورٹی کے مکمل انتظامات کئے گئے تھے۔صوبے میں صنعت ، تجارت ، سیاحت اور کھیلوں کی کامیاب سرگرمیاں صوبائی حکومت کی کاوششوں کے مثبت نتائج کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔حکومت صوبے کی قدرتی برتری میں سرمایہ کاری کیلئے صنعتی پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات دے رہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پیر کے روز اسلام آباد میں کینڈین کمرشل کارپوریشن (سی سی سی ) کے ساتھ خیبرپختونخو امیں دیرپا توانائی اورکامرس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کی تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ کینڈین ہائی کمشنر Mr. Perry John Calderwood ، چیف سیکرٹری عابد سعید، سیکرٹری انڈسٹریز فرح حامد، سیکرٹری پی اینڈ ڈی شہاب، چیئرمین ازدمک غلام دستگیر ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر ازدمک محسن سید اور کینڈین کمرشل کارپوریشن کے نمائندوں نے تقریب میں شرکت کی ۔ کینڈین کمرشل کارپوریشن کینڈین حکومت کی بین الاقوامی سرکاری کنٹریکٹنگ ایجنسی ہے جس کے ذریعے کینیڈ ا کی سب سے بڑی سولر انرجی کمپنی صوبے میں شمسی توانائی کے 1000 میگاواٹ کے حامل منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گی۔ کمپنی ابتدائی طور پر حطا ر سپیشل اکنامک زون میں فوٹو ولٹک پینل کے ذریعے پہلے مرحلے میں 50 میگاواٹ کے سولر پاور پراجیکٹ کے قیام سے شروعات کررہی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں 225 میگا واٹ اضافی پیدا کئے جائیں گے ۔ واضح رہے کہ صوبے میں کینڈین حکومت پہلی بار کینڈین سرکاری کمپنی کے ذریعے 100 ملین کینڈین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کینڈین حکومت کی خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہاکہ کینیڈ اکی معروف سرکاری کمپنی کے ساتھ سرمایہ کاری کا معاہدہ صوبائی حکومت کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ چین کی حکومت پہلے سے صوبے میں مختلف منصوبوں پر سرمایہ کاری کیلئے معاہدے کر چکی ہے سرمایہ کاری کے یہ معاہدے دیگر ممالک کیلئے بھی صوبے میں سرمایہ کاری کے راستے ہموار کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ان کی حکومت نے تین سال کے مختصر عرصے میں صوبے میں صنعتکاری اور سرمایہ کاری کیلئے موزوں میدان بچھا دیا ہے۔بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے حکومت کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ صوبے میں تیز رفتار سرمایہ کاری کیلئے مطلوبہ توانائی کی ضرورت کے تحت پن بجلی اور شمسی توانائی کے منصوبوں پر کام جاری ہے ۔اس کے علاوہ گیس سے بجلی پیدا کرکے پرانی صنعتی بستیوں کو دیں گے ۔ صوبے میں جاری توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ صوبے کے صنعت، توانائی، معدنیات ، پن بجلی اور دیگر مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ آئندہ مارچ میں بیجنگ میں روڈ شو کر رہے ہیں جس میں صوبے میں سرمایہ کاری کے مواقعوں کو مارکیٹ کر یں گے ۔ ہم دیگر ممالک کے خواہشمند سرمایہ کاروں کو بھی منصوبے دے سکتے ہیں ۔پرویز خٹک نے کہاکہ سی پیک کی وجہ سے اس خطے کی سٹرٹیجک اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے گلگت چترال دیر تا چکدرہ روڈ سی پیک کا حصہ ہے ۔یہ 50 کلومیٹر مختصر اور محفوظ راستہ ہے۔ یہ خطہ افغانستان اور واخان کے ذریعے پورے خطے بشمول وسطی ایشیائی ملک کو باہم مربوط کرے دے گا۔ یہ خطہ مستقبل میں تجارتی و معاشی سرگرمیوں کا ایک بہترین مرکز بننے جارہا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ یہاں اب سکیورٹی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہماری پولیس اصلاحات اور امن کوششوں سے حالات بہت بہتر ہو چکے ہیں ۔ بارڈر مینجمنٹ کے بعد حالات مزید بہترہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ گوناں گوں چیلنجز کے باوجود انکی حکومت نے صحت ، تعلیم اور دیگر شعبوں میں قابل عمل اصلاحات کیں۔ بد عنوانی کے خاتمے کیلئے ریکارڈ قانون سازی کی ۔ اُن کے سسٹم میں کرپشن کیلئے زیرو ٹالرنس ہے ۔اداروں کو با اختیار بنایا، شفاف نظام وضع کیا۔ اب ادارے ڈیلیور کر رہے ہیں۔کینڈین ہائی کمشنر نے تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے اصلاحاتی اقدامات خصوصاً سرمایہ کاری کیلئے سہولیات کو سراہا ۔انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا اور کینڈین حکومتوں کے مابین معاہدہ صوبے میں خوشحالی کیلئے توانائی، تجارت اور کامرس کے منصوبوں میں مشترکہ کاوشوں کیلئے حکومتوں کے خوش اسلوب عزم کا عکاس ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں