30

ہر یونین کونسل کو 4 سے 5 ارب روپے کی خطیر رقم ملے گی ۔ پرویز خٹک

پشاور/وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے ہسپتالوں میں اوقات کار کے دوران ڈاکٹرز کی سو فیصد حاضری یقینی بنانے کیلئے باقاعدگی سے مانیٹرنگ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے نوشہرہ ٹیکنکل یونیورسٹی کی عمارت کی تعمیر کیلئے مجوزہ سائٹس کا جائزہ لے کر نقشہ تیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں میں تحصیل ممبر پیر پیائی ضلع نوشہرہ حاجی اقبال کی سربراہی میں نمائندہ وفد سے گفتگو کر رہے تھے ۔ وفد پیر پیائی کی ویلفیئر آرگنائزیشن کے نمائندوں، مقامی ممبران ، کونسلرز اور عمائدین علاقہ کی کثیر تعداد پر مشتمل تھا جبکہ متعلقہ صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی کی عمارت کی تعمیر کے حوالے سے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کیلئے ایسی اراضی کا انتخاب کیا جائے جو تمام مطلوبہ ضرورتوں کو پورا کر سکے یہ بات مد نظر رہے کہ یونیورسٹی کی عمارت کیلئے ایک وسیع و عریض قطعہ اراضی کی ضرورت ہے۔ ازاخیل اور پیر پیائی میں موجود مجوزہ سائٹس کو دیکھ لیں جو سائٹ قابل عمل ہو اس کا نقشہ تیار کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام سے ہوم اکنامکس کالج ، پیر پیائی کرکٹ گراؤنڈ اور طبی سہولیات کے حوالے سے پیش رفت طلب کی۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ ہوم اکنامکس کالج کی کلاسز عارضی عمارت میں شروع ہیں جبکہ مستقل عمارت پر بھی کام جاری ہے۔کرکٹ گراؤنڈ پیر پیائی کا ٹینڈر ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ان کی حکومت صوبہ بھر میں تحصیل کی سطح پر کھیلوں کے میدان بنا رہی ہے جن میں سے بیشتر مکمل ہو چکے ہیں اس کے علاوہ صوبے کے 30 سرکاری سکولوں میں بھی گراؤنڈز بنا رہے ہیں۔ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات دینے کے لئے حکومتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ان کی حکومت نے صحت انصاف کارڈ جاری کیا ہے۔ یہ صوبائی حکومت کا اہم پالیسی اقدام ہے ۔ اس منصوبے کے تحت صوبہ بھر کے تقریباً18 لاکھ مستحق خاندان سالانہ 5 لاکھ روپے سے زائد تک کی علاج معالجے کی مفت سہولیا ت حاصل کر سکیں گے ۔ پرویز خٹک نے عوام پر زور دیا کہ وہ عوامی فلاح میں حکومتی اقدامات سے فائدہ اُٹھانے کیلئے سمجھ بوجھ پیدا کریں ۔
دریں اثناء تحریک انصاف کے ڈویژنل صدر زرگل خان کی سربراہی میں لوئر کوہستان کو لائی کے نمائندہ وفد نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سے ملاقات کی ۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بین الصوبائی رابطہ حاجی عبد الحق بھی اس موقع پر موجود تھے ۔وزیراعلیٰ نے لوئر کوہستان میں ڈپٹی کمشنرکی تعیناتی جلد عمل میں لانے اور ضلع میں بلدیاتی انتخابات جلد کرانے کی یقین دہانی کرائی ۔کولائی کی تین تحصیلوں نے ضلع لوئر کوہستان میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہاکہ کولائی قدرتی طور پر ضلع لوئر کوہستان کا حصہ نظر آتا ہے ۔ پرویز خٹک نے عوام کی خواہش پر کولائی کی تین تحصیلوں کو لوئر کوہستان میں شامل کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا ۔ انہوں نے کہاکہ کولائی کے عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں ۔حکومت چاہتی ہے کہ پسماندہ اضلاع کے عوام حکومت کی یکساں ترقیاتی حکمت عملی سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ضلع لوئر کوہستان کا ترقیاتی بجٹ کا ایک ارب روپے محفوظ ہے ۔ بلدیاتی انتخابات کے بعد یہ فنڈز مہیا کردیئے جائیں گے ۔ ہر یونین کونسل کو 4 سے 5 ارب روپے کی خطیر رقم ملے گی ۔ پرویز خٹک نے کہا کہ اُن کی حکومت نے مقامی حکومتوں کو اختیارات اور وسائل دے دیئے ہیں ۔ ترقیاتی بجٹ کا 30 فیصد مقامی حکومتوں کو دیا اور اُس کے ساتھ ایک جامع ترقیاتی پلان بھی بنایا ۔علاقے میں پانی، بجلی ، آمدورفت اور دیگر مسائل مقامی سطح پر حل ہو رہے ہیں یہ منتخب عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ وسائل کا شفاف استعمال یقینی بنا کر عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں