29

چترال میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا گیا

 چترال(ظہور الحق دانش)مادری زبانوں کا عالمی دن چترال کی چار ادبی اور لسانی تنظیموں انجمن ترقی کھوار، کھوار اہل قلم، مئیر چترال اور کھوار قلم قبیلہ کے متحدہ پلیٹ فارم سے منایا گیا۔۔ پروگرام کا انعقاد ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں کیا گیا جس کی صدارت  ڈاکٹر عنایت الله فیضی  نے کیاور مہمان خصوصی ڈاکٹر ریاض حسین ، پرنسپل آغاخان ہائیر سکینڈری سکول تھے۔ سیمینار میں ضلع چترال کی آٹھ لسانی کمیونٹیوں کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور ان کے نمائندوں نے اپنی اپنی زبانوں کے بارے میں تحقیقی مقالہ جات پیش کیے۔ مدک لشٹی زبان پر تحقیقی مقالہ  شیر عظیم نے پیش کیا، پلولہ زبان پر مقالہ صلاح الدین طوفان نے پیش کیا، یدغہ زبان کی نمائندگی علاوالدین حیدری نے کی اور مقالہ پیش کیا۔ان کے علاوہ کلاشہ زبان کی نمایئندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ نابیگ نے اپنا مقالہ پیش کیا، گجری زبان کی نمائندگی عمران خان  نے کی ، گواربتی زبان پر  ناصراللہ ناصر  نے مقالہ پیش کیا جبکہ چترال میں پشتو لسانی کمیونٹی کی نمائندگی پروفیسر شاہ فہد علی خان  نے کی اور اپنا مقالہ پیش کیا۔۔ کھوار کی طرف سے مئیر چترال کے صدر فرید احمد رضا  نے کثیراللسانی تعلیم کے حوالے سے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا جبکہ کھوار قلم قبیلہ کے جنرل سکریٹری  اقرارالدین خسرو  نے چترال میں ادبی تنظیموں کے کردار اور اہمیت کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ مقالہ نگاروں کے علاوہ چترال کےمعروف شعراء، قلمکاروں اور دانشوروں نے بھی اس دن کی مناسبت سے اور کثیراللسانیت کی اہمیت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جن میں  صادق الله صادق، صالح ولی آزاد، ذاکر محمد زخمی، پروفیسر شمس النظر فاطمی، محمد عرفان عرفان، مولانگاہ نگاہ اور پروفیسر ممتاز حسین  شامل تھے۔ مقررین نے چترال کی کثیراللسانیت کو قدرت کا ایک عظیم تحفہ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے پروگرامات آئندہ بھی منعقد کرائے جائیں تاکہ ان مختلف لسانی گروہوں کی آپس میں قربت اور یکجہتی پروان چڑھے اور انہیں اپنی لسانی اور ثقافتی اثاثوں کو محفوظ کرنے اور معدومیت سے بچانے کی ترغیب مل سکے۔۔ آخر میں مہمان خصوصی اور صدر محفل نے اس امر پر زور دیا کہ اس طرح کے پروگرامات سال میں کم از کم تین چار دفعہ منعقد کیے جانے چاہئیں، تاکہ ان زبانوں میں تحقیق کاروں کی حوصلہ افزائی ہو اور تحریر و طباعت کے کلچر کی نشوونما ہو سکے۔۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں