47

سو سالہ محمد بھٹی شاہ بابا تین ہفتوں سے حکومتی امداد کا منتظر برفانی تودے تلے دب کر اس کے دو مکانات تباہ

چترال(نمائندہ) چترال کے گرم چشمہ روڈ پر موغ کے مقام پر سو سالہ بھٹی شاہ با با کا مکان پانچ فروری کو برفانی تودے کی ضد میں آکر تباہ ہوا تھا تاہم گھر کے مکین اس سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے ۔مقامی رضاکاروں نے ان کے گھر سے جب ملبہ ہٹایا تو پتہ چلا کا گھر کا چھت مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔اوریہ مکان دوبارہ رہائش کا قابل ہی نہیں۔ بھٹی شاہ با با کا کہنا ہے کہ وہ خود تو انتہائی ضعیف ہے اور چل پھرنے کا قابل نہیں مگر اپنے رشتہ داروں کو اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر بھیجا تاکہ وہ کسی تحصیلدار کو یہاں بھیج کر نقصانا ت کا جائزہ لے اور حکومت ہمیں معاوضہ دے مگر تحصیلدار نے پہلے تو ہم سے گاڑی مانگی اور جب گاڑی ان کو فراہم کرائی گئی تو پھر دو دن بعد آنے کا کہہ کر غائب ہوا اور ابھی تک کسی نے ہمارا حال تک نہیں پوچھا اور نہ ہی کوئی امداد کیا ہے حتیٰ کہ ہمیں کوئی ٹینٹ بھی نہیں دیا گیا جس میں ہم اپنا سر چھپائے۔انہوں نے کہا کہ وہ رشتہ داروں کے گھر رہنے پر مجبور ہے جن کا مکان تنگ ہونے سے ان کو بھی تکلیف ہے اور گھر کے مالک کو بھی ۔ انہوں نے کہاکہ انصاف کے دعویدار حکومت نے ابھی تک ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا اور ہمارے بچے در بدر ٹوکریں کھانے پر مجبور ہیں جبکہ گھر کا سامان ٹراؤٹ فش فارم میں رکھا ہے جو پچھلے پانچ سالوں سے بند پڑا ہے۔
بابا بھٹی شاہ نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کے افسران اثر رسوخ والوں کے پاس تو جلدی جاتے ہیں ان کے ساتھ مالی امداد بھی کرتے ہیں مگر مجھ جیسے لاچار لوگوں کا حال تک نہیں پوچھتے میں حیران ہے کہ عمران خان یہ کیسے نیا پاکستان بنا رہا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اگر صوبائی حکومت ان کے ساتھ مدد نہیں کرسکتا تو وفاقی حکومت ان کے ساتھ مالی مدد کرے تاکہ وہ اپنا تباہ شدہ مکان دوبارہ تعمیر کرے اور ان کے اہل و عیال دوسروں کے گھروں میں رہنے پر مجبور نہ ہو۔

اس سلسلے میں اے اے سی چترال سید مظہر علی شاہ سے رابطہ کیا گیاتو اُنہوں نےانتظامیہ پر لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اس بارے میں کہاکہ مذکورہ شخص کو ٹینٹ رضائیاں اور چھٹائیاں بروقت پہنچائی گئی تھی جسے گاوں کے لوگوں نےناکافی قرار دیا جس پر مزید ٹینٹ اور رضائیاں اُن کو آج پہنچائی جائیگی۔اُنہوں نے کہا کہ اُن کے گھر کا اسسمنٹ ہوچکا ہے اور اُن کا ایک لاکھ روپے کا چیک بہت جلد اُسے حوالہ کیا جائیگاایک سوال کے جواب پر اُنہوں نے کہا کہ ہم سب کے ساتھ یکسان سلوک کررہے ہیں۔کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جارہا

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں