37

ECOکا اجلاس پاکستان اور تمام ممبر ممالک کے لیے تعمیر و ترقی اور خوشحالی کا سبب ہوگا۔۔۔سماجی کارکن ، عنایت اللہ اسیر

کئی سالوں بعدECOکا اجلاس پاکستان کے خارجہ پالیسی کے کامیاب ہونے کی دلیل ہے اور یہ احساس مضبوط طور پر محسوس کیا جارہا ہے کہ پاک وطن اپنی آزاد مرضی سے اپنی پالیسی بنانے کے قابل ہو گیا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان میں ECOکا نام لینا شجر ممنوعہ ہو گیا تھا۔
مگر( دیر آئید درست آئید) کے طور پر اس اجلاس سے چند ایک نہایت اہم توقعات اور امیدیں رکھی جارہی ہیں اور قوی امید ہے کہ یہ اہم اجلاس( نشتندو گفتندوخور دند و خوفتند و برخاستند )سے بڑھ کر کچھ اہم اور ضروری اقدامات مشترکہ طور پر اٹھانے کا سبب ہوگا۔
1۔ سب سے پہلے Communication
گوادر سنٹرل ایشیا اکنامک کوریڈرو کی تعمیر سنٹرل ایشیا کے تمام مسلمان برادر ممالک ملکر 10ارب روپے فی ملک کے حساب سے اپنے اپنے ذمے لے کر اس اہم عالمی تاریخی شاہراہ کی تعمیر کے لیے ورکنگ گروپ تشکیل دے کر اجلاس کے فوراً بعد کام کا آغاز کریں۔ پاکستان چترال سے لیکر گوادر تک وافرمقدار میں زمین فراہم کرنے اور اور حفاظت کا ذمہ دار ہوگااور باقی تمام ممالک 10ارب روپے فی برادر ملک جمع کر کے 100ارب روپے کی کثیر رقم سے گوادر سنٹرل ایشیا شاہراہ کو گوادر کا شغر زیرِتعمیر CPECکے روڈ سے بہتر سہولیات، اقتصادیات اور اکنامک زونز کے لحاظ سے بہتر سڑک کے طور پر تیار کرے۔
گوادر سے سنٹرل ایشیا اس مختصر ترین اکنامک کوریڈور کو دو شنبے سے گوادر صرف سولر انرجی کے قمقموں سے روشن رکھا جائے تا کہ آ سمان کی بلندیوں سے ہوائی جہازوں سے بھی یہ شاہراہ راتوں کوروشن نظر آئے اور نشانِ راہ کے طور پر بھی کام آئے۔
اس کے فوائد کیا ہونگے؟
1۔ اس CPECکی تعمیر کے منصوبہ بندی ہی سے مغربی روٹ اور مشرقی روٹ کا تنازعہ خود بخود ختم ہو جائے گا کیونکہ 56ارب روپے کے چین جیسے مضبوط برادر ملک کی مدد سے زیرتعمیر سڑک اور اکنامک زونز سے گوادر، سنٹرل ایشیا کا شاہراہ 100ارب روپے کے خرچہ سے بدرجہا بہتر اور مختصر مدت میں تعمیر اور تکمیل ہو سکے گا۔ جس سے بلوچستان اور KPکے 80%علاقے مستفید ہونگے اور صرف کرک سے حسن ابدال اور پشاور ،مردان سے حسن ابدال تک روڈز کی تعمیر سے گوادر کاشغر اکنامک کوری ڈور سے بھی مستقل طور استفادہ کیا جاسکے گا اور کاشغر سے گوادرکا فاصلہ بھی اس شاہراہ سے مختصر ہوگا۔
2۔ KPاور بلوچستان کا وسیع غیر آباد علاقہ اور خام پہاڑی سلسلہ اس سڑک کی تعمیر کے لیے کشادہ زمین ارزاں نرخ پر میسر آئیگی۔ زمینوں کی خریداری کا کوئی جھگڑا کھڑا نہیں ہوگا۔
3۔ یہ شاہراہ بلوچستان کے تمام پاکستان مخالف قوتوں کے خاتمے کا سبب ہوگی۔
4۔ لواری ٹنل پر لگائے گئے اربوں روپے کے اس شاہراہ کی تعمیرسے واپسی کا راستہ ہموار ہوگا۔
5۔ مضبوط معاہدے کرکے ایران ، انڈیا اور تمام وسطی ایشیا کے ممالک کو سنٹرل ایشیا تک رسائی کے اس مختصر شاہراہ سے استفادہ کے لیے دعوت دی جا سکے گی۔
پاکستان سنٹر ل ایشیا کے برادر ممالک کے ساتھ ساتھ دیگر تمام ایشین سٹیٹس کو بھی اس راستے سے سمندر تک رسائی کے لیے سپورٹ دے کر ان تمام ممالک سے مختلف ٹیکنالوجی ، بجلی ، گیس وغیرہ سے بھی استفادہ کر سکے گا اور پاکستان حقیقی طور پر چین اور پورے خطے میں ایشین ٹائیگر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔
اور گوادر، سنٹرل ایشیا شاہراہ پر کام کے آغاز سے مرکزی حکومت کو ایک اور تقویت مل جائیگی اور 2018کے انتخابات میں KPاور بلوچستان کے باشندوں کی ہمدردیاں بھی مرکزی حکومت کو حاصل ہونگی۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں