44

چترا ل کے بالائی علاقے وادی شالی کے لوگ دریا کا گندہ پانی پینے پر مجبور۔ خواتین ایک ہزار فٹ نیچے سے پانی لانے پر مجبور

چترال(نامہ نگار) چترال کے بالائی علاقے وادی شالی کے عوام اس جدید دور میں بھی دریا کا گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ وادی شالی جو آرکاری روڈ پر واقع ہے چترال سے پچاس کلومیٹر دور اس وادی میں فروری میں شدید برف بای ہوئی اور مختلف مقاما ت پر برفانی تودے گر گئے جس کی وجہ سے پینے کی پانی کا پائپ لائن کو بھی نقصان پہنچا اور پانی بھی جم گئی جبکہ اکثر جگہوں میں پینے کی صاف پانی کی پائپ لائن ہی موجود نہیں ہے۔ Image may contain: one or more people and outdoorزیادہ تر لوگ اب بھی پینے کی صاف پانی سے محروم ہیں۔
شالی گاؤں کے رہنے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں میں پینے کا صاف پانی نہیں ہے اسلئے وہ دریائے آرکاری کا گندہ پانی روزانہ مٹکوں میں ڈال کر سروں پر اوپر گھروں کو چڑھ کر لے جاتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کے مکانات بھی سڑک اور دریا سے ایک ہزار سے پندرہ سو فٹ اونچائی پر واقع ہے مگر مرتا کیا کرتا کوئی اور چارہ نہیں ہے اسلئے یہ ان کی روزمرہ زندگی کا معمول بن چکی ہے۔
ایک اور خاتون نے کہا کہ صبح سویرے، دوپہر اور شام کو تین بار دریائے آرکاری سے سر پر اپنے گھر کو پانی چڑھا کر لے جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو پتہ ہے کہ یہ پانی گندہ ہے اور اس سے ان کے بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں کوئی اور چارہ نہیں ہے حکام ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہے اور منتخب اراکین ووٹ لینے کے بعد یہاں آتے نہیں ہیں تو ان کا فریاد کون سنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وادی میں کوئی ہسپتال بھی نہیں ہے اور جب ان کے بچے اس گندہ پانی کوپینے سے بیمار پڑتے ہیں تو ان کو چارپائی پر ڈال کر دوسرے قصبے میں یا چترال ہسپتال لے جاتے ہیں جو اکثر اوقات راستے ہی میں دم توڑتے ہیں۔
انہوں نے اس موقع پرحکومت سے مطالبہ کیا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے خلاف تحقیقات کی جائے کہ ان کی چترال میں کتنے واٹر سپلائی سکیم کامیاب ہوئے ہیں اور کتنے سکیم جعلی یا ناکام ہیں انہوں نے یہ بھی مطالبہ کی کہ پینے کی صاف پانی کے ساتھ ساتھ ان کو صحت کی سہولیات بھی فراہم کی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں