61

ہمارے منتخب نمائندے اور اخلاقیات۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

پشتوکامقولہ ہے کہ ’’تہ مہ وھہ دچاورپہ گوتہ ،سوک بہ نہ وھی ستاورپہ لتہ ‘‘یعنی آپ کسی کو ہاتھ نہ مارے وہ آپ کو لات نہیں مارے گا،تحریک انصاف کے ایم این اے مرادسعید کی جانب سے مسلم لیگ نون کے ممبر قومی اسمبلی میاں جاویدلطیف کوتھپڑرسید کرنابھی مناسب نہیں تھا کیونکہ آئینی تقاضوں اور پارلیمانی آداب کے مطابق منتخب عوامی نمائندوں کو پارلیمانی طرزگفتگو کے تحت آپس میں جواب درجواب دینا چاہیے نہ کہ ایک دوسرے پر ہاتھ پیر چلاتے رہیں لیکن اگرآپ کسی کوغیرپارلیمانی اندازمیں مخاطب کرکے اس کے پارٹی قائدکوغدارکہہ کر اس کی جذباتی کیفیت کواس نہج پر لائیں گے کہ وہ اپنے حواس کھوبیٹھے توپھر وہی توہوگاجومرادسعید نے کیا، اگرچہ 09مارچ کو قومی اسمبلی ہال کے اندر اور پھر باہرمسلم لیگ نون اورتحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف اور مرادسعید کے مابین جھگڑے کے بعدمیاں جاوید لطیف نے تحریک انصاف کے سوات سے منتخب ایم این اے مرادسعیدکی بہنوں سے متعلق جو نازیباالفاظ استعمال کئے تھے اس پر ندامت ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیاہے کہ انہیں ایسے الفاظ ا نہیں ادانہیں کرنے چاہئے تھے اورتسلیم کرتاہوں کہ غصے میں میرے منہ سے جو الفاظ نکلے ہیں وہ مناسب نہیں تھے ،میں نے غصے میں جوکہااس پر ندامت ہوئی،میاں جاوید لطیف کااپنے اداکئے الفاظ پر نادم ہونااوراپنی غلطی کااعتراف کرتے ہوئے معافی مانگنا درست البتہ میاں جاوید لطیف کا یہ کہناکہ یہ الفاظ غصے میں ان کے منہ سے نکلے ہیں سمجھنامشکل ہے کیونکہ غصے میں چونکہ اعصاب کمزورپڑنے،بدحواسی اورشدیدذہنی دباؤکی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کوگالم گلوچ سے نواز تے اورمارکٹائی پر ضروراُترآتے ہیں جس کامظاہرہ مرادسعید نے کیالیکن واقعاتی طورپر کسی کی ذات یااس کے خاندان کے افراد سے منسوب کوئی بات کرناجوش کی کیفیت نہیں بلکہ ہوش کی علامت ظاہرکرتاہے جوباقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کسی کو شدید غصہ دلانے کے ساتھ ساتھ منفی پروپیگنڈہ کے تحت اسے بدنام کرنامقصود ہوتاہے، فاقی وزیر احسن اقبال نے بھی میاں جاوید لطیف کے الفاظ پر ناپسندیدگی کااظہارکیاہے اوردیکھاجائے تویہ احسن اقبال کی سوچ کی پختگی اورسیاسی معیارکی عکاسی ہے جومیاں جاوید لطیف سمیت نون لیگ سے وابستہ دیگر سیاسی پیادوں کے سامنے ایک مثال ہوناچاہئے، شہید بے نطیر بھٹوکی بیٹی آصفہ بھٹونے بھی میاں جاوید لطیف اور مرادسعیددونوں کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیاہے جبکہ ذکر ہوآصفہ بھٹو یا پیپلزپارٹی کی قیادت کاتوعرصہ ڈیڑھ ماہ قبل پیپلزپارٹی سندھ کابینہ کے وزیر امداد پتافی نے سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران فنکشنل لیگ کی خاتون ممبر نصرت سحرجاوید کومخاطب کرکے غیرپارلیمانی لب ولہجہ اپنایاتو آصفہ بھٹونے نہ صرف اس کی مذمت کی بلکہ پیپلزپارٹی کی قیادت سے اپنے وزیر کے خلاف کاروائی کابھی مطالبہ کیا جس پر پیپلزپارٹی کی قیادت اورسندھ حکومت حرکت میں آئی اورمتعلقہ وزیرکے خلاف کارروائی کاعندیہ دیا نتیجہ یہ برآمد ہواکہ امداد پتافی خاتون رکن اسمبلی سے معافی مانگنے پر مجبورہوئے اسی طرح بازگشت کرتی اطلاعات کے مطابق کچھ دن قبل سندھ کے سابق مشیر داخلہ عرفان اللہ مروت کی پیپلزپارٹی میں شمولیت اوراس سلسلے میں ان کی سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات بارے چہ میگوئیاں ہورہی تھیں توان کے ماضی کے پس منظرمیں موجود بعض واقعات کو بنیادبناکر تب بھی آصفہ بھٹواوراس کی بہن بختاوربھٹو عرفان اللہ مروت کی مخالفت میں کھڑی ہوگئی جس کے پیش نظرآصف زرداری اور ان کی جماعت کواپنافیصلہ مؤخرکرناپڑا،جائزہ لیاجائے تومذکورہ دونوں واقعات حقوق نسواں سے جڑے ہوئے تھے جن پر بہادربیٹیاں اپنی بہادرماں کے نقش قدم پر چلتی ہوئی سینہ سپرکھڑی دکھائی دیں لیکن ذکر ہومرادسعید کے معاملے کاجس میں لیگی ایم این اے میاں جاوید لطیف نے ان کی بہن بارے نازیباالفاظ اداکئے تواٹھتاسوال یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اوران کی بیٹی مریم نواز جوکہ بظاہرخواتین کے حقوق کی علمبردار دکھائی دیتی ہیں اس معاملے میں خاموش کیوں ہیں ،کیااس سے اس تاثر کو تقویت نہیں ملتی کہ نوازشریف صرف نون لیگ کے وزیراعظم ہیں اوریہ الفاظ اگر مریم نوازیاوزیراعظم نوازشریف کے خاندان کی کسی دوسری خاتون کے بارے میں اداہوتے توکیاوزیراعظم تب بھی خاموش رہتے،دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مذکورہ معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہاہے کہ مرادسعید کے معاملے کوہر فورم پر اٹھائیں گے ساتھ ہی پی ٹی آئی نے بھی اس معاملے کے لئے حکمت عملی مرتب کرلی ہے جس کے تحت میاں جاوید لطیف کی اسمبلی رکنیت کے خاتمہ کے لئے ریفرنس دائر کرنے سمیت ان کے خلاف شرعی عدالت میں قذف کا مقدمہ درج کیا جائیگا،اگرچہ سپیکر قومی اسمبلی نے معاملے کی تحقیقات کے لئے منتخب ممبران اسمبلی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے ساتھ ہی میاں اوید لطیف نے معافی بھی مانگ لی ہے کیامرادسعید اوران کی جماعت میاں لطیف کومعاف کردیتے ہیں کہ نہیں اس بارے وثوق سے کچھ کہانہیں جاسکتاالبتہ وزیراعظم نوازشریف اوران کی بیٹی کو اس معاملے میں خاموش نہیں رہناچاہئے تھااوراگر وہ بروقت نوٹس لے کر مداخلت کرتے توشائد یہ معاملہ آگے نہ بڑھتااورنہ ہی قومی اور بین الاقوامی سطح پرپارلیمنٹ اور اس سے جڑے لوگوں کی یوں جگ ہنسائی ہوتی،میاں لطیف نے ہوش میں کہایاجوش میں لیکن انہیں شائد یہ اندازہ نہیں تھاکہ جس شخص کے بارے میں انہوں نے کہاان کاتعلق روایتی یوسفزئی پختون بیلٹ سوات سے ہے جہاں چادراورچاردیواری جیسے غیرت کے نام پر قتل وغارت گری ہوتی ہے اور وہاں کے لوگ جان دیناتوپسند کرتے ہیں لیکن ماں بہن کی گالی سنناگوارانہیں کرتے ،اب بھی وقت ہے کہ وزیراعظم اور ان کی جماعت بلاجوازڈھٹائی دکھانے کی بجائے احساس ذمہ داری کرتے ہوئے اس معاملے کاحل تلاش کریں ورنہ اس کے اثرات اقتدار کے درودیواروں کو بھی لپیٹ میں لے لیں گے کیونکہ بقول شاعر
’’ ہم آہ بھی کرتے ہیں توہوجاتے ہیں بدنام،وہ قتل بھی کرتے ہیں توچرچانہیں ہوتا‘‘ پی ٹی آئی توویسے ہی بدنام ہے خواتین توہر سیاسی جماعت میں موجود ہیں اور منہ میں زباں صرف میاں جاوید لطیف نہیں رکھتے،بات اگر نکلے گی تو بہت دورتک چلی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں