42

وزیراعلی خیبرپختونخوا نے کوہستان کے سب ڈویژن کوضلع بنانے کااعلان کردیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کولائی اور پالس پر مشتمل ضلع کوہستان کے سب ڈویژن کو مستقل ضلع بنانے کا اعلان کیا ہے انہوںنے تحریک انصاف کے اسلام دوست اقدامات اور کوہستان کی ترقی کیلئے صوبائی حکومت کی کاوشوں کی بدولت ایم پی اے مولانا عصمت اﷲ کے استعفیٰ کا خیر مقدم کیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ کوہستان کی ترقی اُنہیں عزیز ہے ۔تیسرے ضلع سے کوہستان کی برادری ایک ہو جائے گی ۔انہوںنے کوہستان کے سیاسی رہنماﺅں ، عمائدین اور عوام پر زور دیا کہ وہ تعصب اور نفرت ختم کرکے ایک قوم بنیں ۔ نفرتیں مٹائیں ، محبتوں کو فروغ دیں ، ہرایک کا اپنا مستقبل ہے۔ ترقی پر توجہ دیں ۔ ضلع کے وسائل اور پیداوار کو صنعت میں بدلنا ہے ۔ وہ بہت جلد کوہستان کے تینوں اضلاع کا دورہ کریں گے اور کوہستان کی مجموعی ترقی کیلئے جامع ترقیاتی پیکج کا اعلان کرنے والے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں کوہستان اپر ، کوہستان لوئر اور مجوزہ تیسرے ضلع یعنی کولائی اور پالس کے 300 رکنی نمائندہ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے ایم پی اے مولانا عصمت اﷲ نے کوہستان کیلئے صوبائی حکومت کے احسانات خصوصاًاسلام دوست اقدامات کی بدولت شکریہ کے طور پر بطور رکن صوبائی اسمبلی استعفیٰ دینے کا اعلان کیااور تحریک انصاف کے اُمیدوار کی بھر پور حمایت کا یقین دلایا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کوہستان کے عوام کے اختلافات کو مٹا کر اُن کو متحد کرنا اُن کی دیرینہ خواہش تھی ۔اسی خواہش اور جذبے کے تناظر میں ضلع لوئر کوہستان بنایا گیا تھا ۔تیسر ے ضلع کی تشکیل سے کوہستان کی برادری ایک ہوجائے گی ۔کوہستان کی ترقی اور معاشرے میں امن کے قیام کیلئے تیسرے ضلع کی تشکیل ہی بہترین حل نظر آئی ۔جب کوہستان لوئر بنایا گیا تھا تو اُس کے بعد بعض حلقوں میں تشویش پید اہو گئی ۔ ایک نیا جھگڑا اُٹھ کھڑ اہوا ۔بعض علاقے جیسا کہ پالس والے کہتے تھے کہ وہ لوئر کوہستان کے ساتھ نہیں رہیں گے اور اپر کوہستان والوں کو تحفظا ت تھے کہ وہ پالس کے ساتھ نہیںرہنا چاہتے ۔ایک عجیب صورتحال پیدا ہو چکی تھی ۔ کوہستان کو انتظامی طور پر چلانے کیلئے تیسرے ضلع کی تشکیل ناگزیر تھی کیونکہ ادھر اُدھر کے معاملات میں کوہستان کے پسماندہ عوام متاثر ہورہے تھے اور یہ اختلافات علاقے کی مجموعی ترقی میں بھی بڑی رکاوٹ تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں