38

دیربالاصوبائی اسمبلی کے کابینہ سے پرائمری سطح پر مخلوط نظام تعلیم کے قرارداد پاس ہونے کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ

دیر بالامیں تنظیم اساتذہ پاکستان کے کال پر اساتذہ نے صوبائی اسمبلی کے کابینہ سے پرائمری سطح پر مخلوط نظام تعلیم کے قرارداد پاس ہونے کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کیا۔ مظاہرہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افس دیر بالا کے سامنے ہوا جسکے قیادت تنظیم اساتذہ کے ضلعی صدر بختیار زمین نے کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اگر پرائمری سطح پر مخلوط تعلیم کا نظام رائج کیا تو اسکا بھر پور مخالفت کرکے اپنے سکولوں کو بھی بند کرینگے۔ مظاہرین نے کہا کہ اساتذہ صوبائی حکومت کے کابینہ کے اس فیصلے کے مکمل خلاف ہے اور اسکے مذمت کرتے ہے۔ ریڈیو ٹی این این سے باتیں کرتے ہوئے بختیار زمین نے کہا کہ اس قرارداد میں صوبائی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پرائمری سطح پر لڑکوں کے سکولوں میں صرف خواتین اساتذہ بھر تی کیجاینگی۔ اور مرد اساتذہ پرائیمری سکولوں میں مزید بھرتی نہ ہونگے۔ بختیار زمین نے کہا کہ صوبائی کابینے کا یہ فیصلہ ہماری پشتون روایات کے خلاف ہے اور صوبی میں یہ مکمل طور پر ناکام منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر گاوءں میں لڑکوں اور لڑکیوں کیلے الگ الگ سکول بنایے اور خواتین کو صرف لڑکیوں کے سکولوں میں تعینات کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اساتذہ کا یہ مطالبات نہ مان گیے تو پوری ضلع میں احتجاجی مظاہری کرینگے۔ اور ۳۲ اپریل کو ضلع لوئر دیر میں بڑااحتجاجی مظاہرہ کرکے اسکے بعد صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی کیمپ لگاینگی۔ او ر اپنے سکولوں کو تالی لگاینگے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں