31

ضلع کونسل چترال کا خصوصی اجلاس، ایک گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد 27۔مارچ تک موخرکردی گئی

چترال ( نمائندہ ڈیلی چترال ) ضلع کونسل چترال کا خصوصی اجلاس پیر کے روز ایک گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد 27۔مارچ تک موخرکردی گئی جس کے انعقاد کے لئے کئی ارکان کونسل نے ریکوزیشن جمع کرائی تھی ۔ ضلع کونسل کے کنوینر مولانا عبدالشکور نے اجلاس کو موخرکرتے ہوئے کہاکہ ایجنڈا کے نکات انتہائی اہم نوعیت کے تھے جن میں تحصیل مستوج کو ضلعے کا درجہ دینے، ضلع کونسل کے ترقیاتی فنڈ کو پراجیکٹ لیڈر کے ذریعے کرانے اور ممبران کونسل کی اعزازیہ کے لئے فنڈز جاری کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ ملاقات کے لئے خصوصی کمیٹی بنا کر پشاور بھیجنے کا معاملہ شامل تھا۔ ان کا کہناتھا کہ اس اہم نوعیت کے اجلاس میں ہاؤس کے اراکین کی مکمل حاضری ضروری ہے ۔ اس سے پی ٹی آئی کے رحمت غازی، محمد یعقوب ، نابیک ایڈوکیٹ، زلفی ہنر شاہ، غلام مصطفی ایڈوکیٹ، پی پی پی کے رحمت ولی اور شیر عزیز بیگ، جے یو آئی کے مفتی محمود الحسن، ریاض احمد دیوان بیگی اور مولانا انعام الحق جبکہ جماعت اسلامی کے رحمت الٰہی اور مسلم لیگ (ن) کے محمد حسین نے کہاکہ مسائل چونکہ فوری نوعیت کے حل طلب ہیں لہٰذا کونسل کا ایک نمائندہ وفد بنا کر وزیر اعلیٰ کے پاس خصوصی طور پر بھیجا جائے ۔ اجلاس میں 38میں سے صرف 13اراکین حاضر ہوئے جبکہ بعد میں رحمت الٰہی اور ریاض احمد دیوان بیگی کے ایوان سے چلے جانے سے یہ تعداد گیار ہ رہ گئی تھی مگر کسی رکن نے کورم کے ٹوٹنے کی نشاندہی نہیں کی۔ضلع ناظم اور خواتین ارکان کونسل اجلاس سے غیر حاضر رہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں