101

افکاری کی لب کشائی اور اہل قلم کی ذمہ داری۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

پشتوکامقولہ ہے کہ ’’کوہ خپلہ خواورہ دبل‘‘یعنی کرواپنالیکن سنودوسروں کا۔بعض دفعہ کوئی بات سن کرانسان نہ صرف چونک جاتاہے بلکہ بے اختیاربول اٹھتاہے کہ یہ تواس کے دماغ میں بھی تھی لیکن اسے یاد نہیں آرہی تھی یہ ایک واضح دلیل ہے کہ اہمیت کی حامل بہت ساری باتیں بسااوقات الماری میں پڑی کسی گمنام فائل کی طرح ہمارے دماغ کے کسی گوشے میں موجود رہتی ہیں جن کا نہ صرف تاریخی پس منظرہوتاہے بلکہ وہ رواں حالات میں کارآمد ہونے سمیت مختلف حوالوں سے مستقبل کابھی تعین کرتی ہیں لیکن روزمرہ کے بے ہنگم معاشرتی معاملات کی تتربتر فائلوں سے دماغ کی بھری الماری میں پڑی توجہ سے محروم ان باتوں کو اٹھانے اور زیرغور لانے میں لازمی کوئی صداسماعتوں سے ٹکرانے کی دیر ہوتی ہے ۔اکثردیکھاجاتاہے کہ کسی محفل ،جلسہ یامذاکراتی پروگرام میں کسی موضوع پراپنامؤقف پیش کرتی کوئی بھی شخصیت سامعین کی توجہ حاصل کرنے سے قاصررہتی ہے کیونکہ اسے سننے کی بجائے شرکاء آپس میں کسرپھسرکرکے محوگفتگو ہوتے ہیں اور جب مقرر بات ختم کر کے اپنی نشست لے لیتاہے تب شرکاء کوپوچھنے کاخیال آجاتاہے کہ اس نے کہاکیا،اختلاف رائے اپنی جگہ لیکن دوسروں کی بات تحمل اور توجہ سے سے سننا ضروری ہوتاہے کیونکہ دوسروں کوسننے سے علم میں اضافہ ہوتاہے۔ذرائع ابلاغ کے اداروں سے وابستہ نمائندوں اور روزمرہ کے معاملات پر کالم لکھتے لکھاریوں کوتودوسروں کابغورسننااشدضروری ہوتاہے کیونکہ کسی تحریر کے لئے درکارموادکے حصول کا ایک اہم ذریعہ یہ بھی ہوتاہے اسی روسے میڈیاکے ساتھ پچھلے لگ بھگ دوعشروں سے زائد عرصہ پر محیط میری وابستگی اور مختلف ایشوزپر لکھنے کاشغف رکھنے کے سبب میری بھی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی موضوع پر بات کرنے والوں کوپوری توجہ سے سنوں اوراپنی مطلب کی باتین نہ صرف ذہن نشین بلکہ بطوریاداشت تحریربھی کرلوں۔18مارچ کو دیر لوئرجوکہ میراآبائی ضلع ہے کے ہیڈ کوارٹر تیمرگرہ میں واقع ڈسٹرکٹ پریس کلب کی نومنتخب کابینہ برائے سال 2017کی تقریب حلف برداری ہوئی جس میں اپنے دیگر قلمکارساتھیوں کے ہمراہ مجھے بھی شریک ہونے کاموقع ملا۔صوبائی وزیرخزانہ مظفرسیداس تقریب کے مہمان خصوصی تھے جن کے خطاب کی اہمیت اپنی جگہ جس میں انہوں نے روائتی طورپر اپنی جماعت کے کردارکابھی ذکرکیااوراپنی سیاسی خدمات کے بھی حوالے دیئے تاہم مذکورہ تقریب سے جماعت اسلامی کے منتخب ممبر خیبرپختونخوااسمبلی اعزازالملک افکاری کے انداز خطاب کاذکر نہ کرنازیادتی ہوگی کیونکہ انہوں نے لب کشائی کرتے ہوئے موقع کی مناسبت سے مقامی اہل قلم کوایک مثبت پیغام دیااور چاہے کوئی اتفاق نہ کریں لیکن بحیثیت ایک ادنیٰ لکھاری میں بخل سے کام نہ لوں توافکاری کے افکارسن کریوں لگاجیسے درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ کوئی معلم اپنے شاگردوں کودرس دیتے ہوئے الفاظ جڑ رہاہو۔افکاری نے میڈیاکی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہاکہ آج اقوام عالم کے مابین لڑائی میڈیاکے ذریعے ہورہی ہے اور میڈیاہی ہے جو قوموں کے عروج وزوال میں کلیدی کرداراداکرتاہے اس ضمن میں انہوں نے پچھلے کئی سالوں کے دوران خطے کے بدلتے معروضی حالات وواقعات کے تناظرمیں عراق کی تباہی کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ میڈیانے واویلامچاکرنے عراق کے ایٹمی تنصیبات کو غیر معمولی طورپر بڑھاچڑھاکر پیش کیا جس کانتیجہ یہ برآمد ہواکہ عشروں تک ملک عراق کے اقتدارپر فائزاور وہاں کے سیاہ وسفید کے مالک صدام حسین کواقتداراور جان سے ہاتھ دھونے پڑے جبکہ عراق میں لگی ہوئی آگ ہے جو آج تک ٹھنڈی ہونے کانام نہیں لے رہی ہے لیکن کھودا پہاڑ نکلاچوہاکے مصداق عراق کے مبینہ ایٹمی تنصیبات کی آڑمیں اتناکچھ ہونے کے بعد بھی ابھی تک پتہ نہیں چلااوریہ سب کچھ محض میڈیاکے ذریعے کیا جانے والا پروپیگنڈہ ہی ثابت ہوا ۔ اعزازالملک افکاری نے زوردے کر کہاکہ اپنے علاقے میں امن وامان کی صورتحال،جرائم اور دیگر حوالوں سے منفی رپورٹنگ جس سے نہ صرف مقامی لوگوں میں خوف وہراس اور مایوسی کی فضاء پھیلنے کاخدشہ ہوبلکہ اس سے قومی اور بین الاقوامی سطح پرملک وقوم کابدنماتشخص سامنے آنے کامحال ہوسے قطعی طورپر گرہیزاوراس کی جگہ اپنے علاقے کا تاریخی پس منظر،وہاں کی ثقافت، روایات،خوبصورت سیاحتی مقامات کی حیثیت،مقامی معیشت کے استحکام کے لئے تجارتی اہمیت اجاگرکرنے اور اس حوالے سے بین الصوبائی سطح پر کاروباری حلقوں کومتوجہ کرنے کی پالیسی کے تحت امن وامان کی صورتحال بہتر اندازمیں بیاں کرنے جیسی مثبت رپورٹنگ کی سعی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ میڈیاسے وابستہ لوگوں کے کندھوں پر بھاری معاشرتی ذمہ داری ہے جس احساس وادراک انہیں کرناہوگا۔اگرچہ عام طورپر صحافت کااحاطہ مثبت صحافت کے تذکرہ کے بغیرنہیں کیاجاتالیکن ضروری ہے کہ اسے محض لفاظی طورپر نہ لیاجائے بلکہ عملی طورپرمظاہرہ بھی ہو۔چونکہ مذکورہ تقریب میں ایم پی اے اعزازالملک افکاری کی لب کشائی مجھے پسند آئی اور ان کی صورت میں سیاسی شہسواروں کی ذرائع ابلاغ کی اہمیت جاننے اوراس حدتک دلچسپی رکھنے کاجان کر خوشی بھی ہوئی اورمناسب یہی سمجھاکہ اس مثبت پیغام کو کالم کے ذریعے دوسروں تک پہنچانے کی اپنی تئیں کوشش کروں۔میں ذرائع ابلاغ کے اداروں سے وابستہ صحافیوں جیسے حساس اہل قلم بارے یہ کہنے اور بتانے کی گستاخی کامرتکب نہیں ہوسکتاکہ وہ اپناکام ٹھیک طرح سے نہیں کرتے البتہ یہ کہنے کی جسارت ضرور کروں گاکہ ہمیں احساس ذمہ داری کے ساتھ سوچ سمجھ کر آگے بڑھنااور ذمہ دارشہری کاثبوت دیناہوگااورجب ثابت ہواکہ عالمی سطح پر معاشی، تجارتی ،ثقافتی اورسفارتی جنگ میڈیاکے ذریعے ہورہی ہے توبحیثیت ذمہ دار شہری مملکت خداد پاکستان کی جنگ جیتناہم پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں