197

چترال شہر میں داخلی تمام سڑکوں کا سو فیصد کام جلد مکمل کیا جائے گا/ سی ایم

پشاور/وزیر اعلی خیبر پختونخوا پر ویز خٹک نے ضلع چترال میں سیر و سیاحت، صحت، تعلیم، مواصلات، تعمیرات ، بحالی اور دیگر بنیادی شعبوں میں قومی تعمیر نو کے ترقیاتی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال شہر میں داخلی تمام سڑکوں کا سو فیصد کام جلد مکمل کیا جائے گا تاکہ قدرتی حسن کے حامل یہ سیاحتی مقام سیاحوں کے لئے تمام سہولیات سے آراستہ، جاذب نظر اور خوبصورت نظر آئے۔ انہوں نے مذکورہ ضلع میں طبی مراکز اور ہسپتالوں میں درکار سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں بھی متعلقہ حکام کو ٹھوس اقدامات اٹھانے ، منظور شدہ آسامیوں پر طبی عملے کی فوری بھرتی جبکہ دیگر درکار عملے کے لئے کیس بجھوانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایات انہوں نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ ضلع چترال میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں خاتون رکن صوبائی اسمبلی فوزیہ بی بی کے علاوہ محکمہ ہائے مواصلات و تعمیرات، بلدیات ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ، بحالی و آبادکاری ، ہاؤسنگ ، معدنیات ودیگر متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز ، افسران اور ڈی سی چترال نے شرکت کی ۔ اجلاس میں ضلع چترا ل میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے تعمیراتی کام پر اب تک کی پیش رفت سے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا ۔پورے صوبے میں ضلعی اور تحصیل ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی اورstandardization پروگرام کے تحت upgraded سہولیات یقینی بنانے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ۔standardization پروگرام کے تحت جو لوازمات اور ترقیاتی کام و تعمیر نو کیلئے جو ضروریات چاہیں ان کی مکمل تفصیلات محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو بھیج دیں۔ ترقیاتی کاموں میں تاخیر دیگر کمزوریوں اور اضافی مالی بوجھ کا باعث ہوئی ہے ۔ کوالٹی اور کوانٹٹی دونوں مطلوبہ معیار کے مطابق ہونی چاہیں۔ اضافی سٹاف کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر ایک جامع پیکج کے تحت نئے اخراجات کا پورا شیڈول بنا کر حکومت کو بھیج دیں طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کا مشن ہے۔ وزیراعلیٰ نے چترال شہر کے اندرون سڑکوں کی 100 فیصدتکمیل کو جلد از جلد مکمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ چترال کی ترقی کیلئے اعلان کردہ خصوصی ترقیاتی پیکج میں سے بچ جانے والی رقم بھی اسی مقصد کیلئے استعمال میں لائی جائے تاکہ یہاں پر مقامی آبادی اور باہر سے آنے والے لوگوں کیلئے بہتر آمدورفت کی سہولیات میسر ہوں۔ انہوں نے کہاکہ وہ چترال میں ناران اور کالام جیسی سہولیات و آسائشیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بحالی و آباد کاری کی مد میں دیئے گئے 143 ملین روپے کے منصوبوں کی رفتار، معیار اور اس حوالے سے زمینی حقائق کو چانچنے کیلئے بھی متعلقہ حکام کو بغور جائزہ لینے کے احکامات جاری کئے۔ انہوں نے کہاکہ اگر یہ رقوم دی گئی ہدایت کے برعکس کہیں اور لگائی گئی ہوں تو پھر اس کی ریکوری کی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ سیاحت سے کہا کہ وہ سیاحت کے حوالے سے ترقیاتی منصوبوں کی مد میں بچ جانے والی رقوم کو چترال کی خوبصورتی ، پارکس اور دیگر سیاحتی منصوبوں میں ڈالیں۔ وزیراعلیٰ نے تعلیم کی مد میں ضلع کوجاری کئے گئے فنڈز میں سے غیراستعمال شدہ رقوم کو جلد استعمال میں لانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہاکہ ضلع میں تعلیم کے شعبہ میں جوسکیمیں مکمل ہو چکی ہیں اس حوالے سے محکمہ کے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا جائے۔وزیراعلیٰ کو اس موقع پر بتایا گیا کہ چترال یونیورسٹی جس کی منظوری ہو چکی ہے ،کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی کی سمری محکمہ سے آرہی ہے ۔انہوں نے اس موقع پر اس تجویز سے اتفاق کیا کہ جب تک مذکورہ یونیورسٹی کیلئے اپنا وی سی تعینات نہیں ہوتا تب تک شرینگل یونیورسٹی کی انتظامیہ اس یونیورسٹی کی دیکھ بھال کرے گی تاکہ بلا تعطل یونیورسٹی کے اُمور آگے کی طرف بڑھیں۔ وزیراعلیٰ نے چترال میں ڈاکٹروں کی کمی کو بھی فوری طور پر پورا کرنے کی ہدایت کی ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ چترال میں ہسپتال کے قیام کیلئے وزیراعظم نے اعلان کیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ مذکورہ ہسپتال کیلئے 40 کنال درکار اراضی کیلئے درکار وسائل وفاق سے لینے کیلئے کیس بنا لیں۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ چترال میں موزوں مقامات پر فوری طور پر ریسکیو1122 کے سٹیشنز کے قیام کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں اوراگر عمارت حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ درپیش ہو تو کرایہ کی عمارتوں میں فی الحال اس سروس کو چالو کیا جائے۔ اس موقع پر ان کو بتایا گیا کہ اس ضلع میں ریسکیو سہولت کیلئے عملے کی بھر تی کا عمل جاری ہے جبکہ درکار آلات کی خریداری بھی ہوچکی ہے اور قدرتی آفات کے امکانات کی وجہ سے یہاں پر خصوصی نوعیت کے ریسکیو آلات میسر ہوں گے اور یہ سہولت مئی تک آپریشنل ہو جا ئے گی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ علاقے میں ریشن بجلی گھر پر تعمیراتی کام جاری ہے تاہم اس کے مکمل ہونے سے پہلے علاقہ مکینوں کی سہولت کیلئے رمضان سے پہلے جنریٹر فراہم کئے جائیں گے جو چھ گھنٹے بجلی فراہم کریں گے اور ساتھ ہی اس بجلی گھر پر تعمیراتی کام بھی جاری رہے گا۔ ان کو بتایا گیا کہ لاوی پراجیکٹ بھی کنٹریکٹر نے لیا ہے۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی فوزیہ بی بی نے چترال میں ایک اضافی تحصیل کے قیام کی تجویز پیش کی ۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ تجویز کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر چترال کو پروپوزل بھیجنے کی ہدایت کی ۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو کمیونیکشن ، ثانوی و اعلیٰ ثانوی اور اعلیٰ تعلیم، صحت، زراعت ، تعمیرات ، قانون و انصاف، ریونیو، خوراک ، انڈسٹریز ، معدنیات ، بلدیات ، اوقاف، توانائی اور بحالی و آباد کاری کے حوالے سے ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلاً آگاہ کیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں