66

چترال میں زندگی کو معمول پر لانے کے لئے لائف لائن کو بحال کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے،عمائدین کاپریس کانفرنس

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) چترال کے تمام سیلاب زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے سول سوسائٹی کے نمائندوں نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، پروفیسر سید شمس النظر فاطمی، شیر عزیزبیگ، غلام مصطفیٰ، سید برہان شاہ، مولانا ہدایت الرحمن، فرالدین، محمد ولی شاہ،سردار علی اور دوسروں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ چترال میں زندگی کو معمول پر لانے کے لئے لائف لائن کو بحال کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے جوکہ سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں جن میں روڈ، پل اور واٹر چینل شامل ہیں۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً چار ہفتے گزرنے کے باوجود ابھی تک حکومت انفراسٹرکچر کی بحالی میں کسی سنجیدگی کا مظاہر ہ نہیں کیا جس کے نتیجے میں مسائل دن بہ دن بڑھتے اور پیچیدہ صورت اختیار کرتے جارہے ہیں اور یہ سب انسانی المیہ کو جنم دینے پر منتیج ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ  مختلف علاقوں میں آٹا اور دال کے چند تھیلے تقسیم کرکے حکومت اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی ۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے سیلاب متاثریں کے حالت زار بیان کرتے ہوئے کہاکہ روڈ، پل، ابپاشی اور ابنوشی کے نہر اور پائپ لائن نہ ہونے کی وجہ سے تمام علاقوں میں غذائی قلت پید ا ہوگئی ہے اور گندم کا آٹا ایک نایاب جنس بن گئی ہے جس پر انسانی زندگی کا دارومدار ہے۔ انہوں نے شوغور ، کھوت ، موڑکھومیں اشیائے خوردونوش اور ادویات کی شدید قلت کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اگر صورت حال یہی رہی توعلاقے کی تمام آبادی متاثر ہوگی جوکہ سیلا ب سے براہ راست متاثر نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اکثر علاقوں میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سڑکوں، نہروں اور دوسرے انفراسٹرکچر کی بحالی میں مصروف ہیں جوکہ حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان حالات میں مختلف این جی اوز کی ریلیف اپریشن میں کارکردگی قابل ستائش ہے۔
Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں