180

جے آئی یوتھ کی تشکیل اوراگلاالیکشن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

پچھلے سال جماعت اسلامی کے مرکزی امیرسینیٹرسراج الحق کی جانب سے کرپشن فری ،اسلامی پاکستان اور خوشحال پاکستان کے ایجنڈے کی تکمیل کانعرہ لگانے اوراس کے لئے ملک کے نوجوانوں کو ایک منظم پلیٹ فارم (جے آئی یوتھ )تلے اکٹھاکرنے کی غرض سے ان کی ممبر سازی کرانے کے اعلان پر31 مارچ 2016تک ایک خصوصی مہم چلائی گئی تھی جس میں پارٹی کی تمام ذیلی تنظیموں کوآبادی کے تناسب کے حساب سے نوجوانوں کوممبربنانے کاٹاسک دیاگیاتھااوراب ایک سال بعداس مشن کے دوسرے مرحلے میں جے آئی یوتھ کی تنظیم سازی اورعہدیداروں کا چناؤعمل میں لایاجارہا ہے اور جماعت اسلامی دعویٰ کررہی ہے کہ وطن عزیزکی آبادی جوکہ 60فیصدسے زائد نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی تعدادلگ بھگ 13 کروڑبنتی ہے میں اب تک 8لاکھ نوجوان جے آئی یوتھ کے ممبرزبنے ہیں اوران کی تنظیم سازی کے عمل میں دس ہزارعہدیدارچنے گئے ہیں۔جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ ملک میں موروثی سیاست ہے اور اس کی حامل جماعتیں نوجوانوں کو سیاسی کردارنبھانے کاموقع نہیں دیتیں اورجب تک ملک کانوجوان طبقہ متحد ،منظم اور بیدارنہیں ہوگانظام میں کوئی بھی تبدیلی لاناممکن نہیں اوراسی مقصدکے تحت جے آئی یوتھ کوتشکیل دیاگیاہے، 29 مارچ کوچکدرہ دیر لوئر میں جے آئی یوتھ کی مقامی تنظیم کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی خیبرپختونخواکے امیر مشتاق احمد خان نے نظام میں تبدیلی لانے اورترقیافتہ ،خوشحال معاشرہ کی تشکیل میں نوجوانوں کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالنے سمیت اہم اعلان یہ بھی کیاکہ ملک کے نوجوانوں کوقومی دھارے کی سیاست میں عملاََ لانے کی غرض سے ان کی جماعت لیکشن 2018میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے پچاس فیصد نشستوں پر نوجوانوں کوکھڑاکرے گی کیونکہ جماعت اسلامی کی سیاسی جدوجہد کی منزل ملک میں اسلامی انقلاب کے ذریعے خلافت راشدہ کانظام لاناہے جس میں لبرل ازم اور سیکولرازم کی کوئی گنجائش نہ ہونہ ہی انصاف بکتاہو،ہمیں ایسے پاکستان کی بنیادرکھناہے جوخوشحال اور عین اسلامی ہو،جس میں نوجوانوں کے لئے روزگارکے ذرائع اور مواقع ہوں۔ان کے مطابق نوجوانوں کے ذریعے کرپٹ اور قومی خزانہ کوبے دردی سے لوٹنے والوں کاکڑااحتساب ہوگااورایسے حکمرانوں کاانتخاب کیاجائے گاجودیانتدار،امانتداراورمحب وطن ہوں اگرچہ جے آئی یوتھ میں شامل ہونے کی عمرکی حد بتائی گئی نہ یہ واضح کیاگیا کہ جماعت اسلامی قومی اورصوبائی اسمبلی کے کن حلقوں پرنوجوانوں کونمائندگی دے کر اعلان کردہ پچاس فیصدٹارگٹ پوراکرے گی کیونکہ ملاکنڈڈویژن کے بیشترحلقوں پر اب تک ہرانتخابی معرکے میں عمررسیدہ لوگ ہی امیدوارنظرآئے ہیں اوراگرجماعت اسلامی یہاں ایساکوئی تجربہ کرناچاہتی ہے تویہ بہت بڑاچیلنج ہوگا،خیبرپختونخوامیں تبدیلی کی علمبردارپی ٹی آئی جیسی روشن خیال جماعت کیساتھ اتحادی حکومت میں شامل ہونے کے باوجود جماعت اسلامی کااعتدال پسندی اورروشن خیالی پر تنقید کرنابھی اس کی ذات پر ایک واضح سوالیہ نشان ہے جبکہ اٹھتاسوال یہ بھی ہے کہ 2002 میں ایم ایم اے کی صورت میں مذہبی جماعتوں کی مشترکہ حکومت میں بھی جماعت اسلامی کواختیاواقتدارکاموقع ملاتھااورس وقت بھی وہ حکومت میں شامل جماعت ہے تواقتدارکے ان دونوں ادوارمیں وہ کیاکچھ کرپائی ہے قوم یہ بھی سننااوردیکھناچاہتی ہے تاہم اس کے باوجود جہاں کرپشن کی بات آتی ہے توبظاہر جماعت اسلامی قومی دھارے کی واحدمذہبی سیاسی جماعت ہے جس کے کسی منتخب ممبر پارلیمنٹ کومالی بدعنوانی کے الزام میں گرفتارکیاگیاہے نہ کوئی مقدمہ درج ہواہے نہ اور نہ ہی مالی بے ضابطگی اور بے قاعدگی کے الزامات کے تحت اس جماعت کے کسی ممبریاکسی لیڈر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالاگیاہے سو وجودرکھتے ان حقائق کی روشنی میں کہاجاسکتاہے کہ کرپشن فری پاکستان کے لئے کوشاں جماعت اسلامی جیسی مذہبی سیاسی جماعت کادامن مالی بدعنوانی جیسے معاملات سے بظاہر صاف ہے البتہ سرکاری محکموں میں بھرتیوں ،تبادلوں اوروسائل کی تقسیم جیسے معاملات میں میرٹ اورانتخابی عمل میں قواعدوضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات جماعت اسلامی پرہردورمیں لگتے رہے ہیں ۔ جماعت اسلامی کی جے آئی یوتھ تشکیل دینے کی کوشش قابل تعریف ہے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہترطرزحکمرانی اوراچھی قیادت نہ ہونے کی وجہ سے وطن عزیزمیں بیشترنوجوانوں کی توانائیاں واقعی یوں ضائع ہورہی ہیں، اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان روزگارکے لئے سرگرداں مارے مارے پھررہے ہوتے ہیں جبکہ حکمرانوں کواس حوالے سے فکر ہوتی ہے نہ کوئی مؤثرپروگرام ترتیب پاتادکھائی دیتاہے دوسری جانب اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ قومی وسائل کودونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیںیہی وجہ ہے کہ نظام سے بدظن نوجوان طبقہ مایوسی کاشکارہے اگرچہ جماعت اسلامی توابتداء ہی سے تعلیمی اداروں اوردینی مدارس میں نوجوانوں پر کام کررہی ہے اور وہاں اسلامی جمعیت طلبہ اور جمعیت طلبہ عربیہ جیسی منظم ذیلی تنظیمیں اس جماعت کے زیرسایہ قائم ہیں تاہم جے آئی یوتھ کاقیام وطن عزیز کے نوجوانوں کو براہ راست قومی دھارے کی سیاست میں لانے میں کتنا سود مند ثابت ہوسکتاہے کہ نہ صرف ان کی اخلاقی ونظریاتی تربیت ہوبلکہ ان کی توانائیاں ملک وقم کی تعمیروترقی اور خوشحالی کے لئے بروئے کارلائی جاسکیں اس کافیصلہ تو آنے والاوقت کرے گاالبتہ یہ کہناغلط نہیں ہوگاکہ جے آئی یوتھ کی ممبرسازی مہم اوراب اس کی تنظیم سازی کی کوشش کے نتیجے میں عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں جماعت اسلامی بڑی حد تک کامیاب رہی ہے جس کافائدہ وہ اگلے الیکشن میں اٹھاسکتی ہے اوراس کی تقلید دیگر سیاسی جماعتوں کوبھی کرنی چاہئے کیونکہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ نوجوانوں کی سیاسی تربیت اورانہیں قومی دھارے کی سیاست میں شامل کئے بغیر نظام میں خاطر خواہ تبدیلی لانے کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں