70

وفاقی حکومت کی طرف سے چترال یونیورسٹی کے لئے پی ایس ڈی پی میں تین ارب روپے رکھے جانے کا اقدام خوش آئند ہے ۔ نیازی اے نیازی ایڈوکیٹ

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال نیوز) وفاقی حکومت نے چترال یونیورسٹی کے لئے اس سال کے بجٹ میں تین ارب روپے پی ایس ڈی پی میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے چترال یونیورسٹی کا قیام عمل میں آئے گا اور چترالی عوام کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگااور علاقے میں حقیقی ترقی کے عمل کا آغاز ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع چترال کے ترجمان نیازاے نیازی ایڈوکیٹ نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے تیس کروڑ روپے کا ابتدائی بجٹ رکھا ہے جس سے یونیورسٹی کے قیام کے ابتدائی امور سرانجام پائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے گزشتہ دورہ چترال کے موقع پر چترال یونیورسٹی کے قیام کا جو اعلان کیا تھا، اس پر عملی کام شروع ہوچکا ہے ۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور پرائم منسٹر ڈائرکٹوز کے تحت پراجیکٹ ڈائرکٹر کی تعیناتی ہوچکی ہے ۔ نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے کہاکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے صوبائی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو وزیر اعظم کے احکامات کے تحت چترال یو نیورسٹی کے لئے زمین کی حصول کے ہدایات پہلے سے جاری کرچکی تھی ۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے احکامات کے مطابق چترال میں پہلے سے موجودہ دومختلف یونیورسٹیوں کے کیمپسز جن میں شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی اور عبدالولی خان یونیورسٹی شامل ہیں ، کے کیمپسز شامل ہیں، کو ایک دوسرے مدغم کرکے چترال یونیورسٹی کی تجویز دی تھی جس پر عملی کام کا آغاز ہوکر عنقریب چترال یونیورسٹی کام شروع کرے گی۔ نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے مزید کہاکہ اگر چہ صوبائی حکومت اس معاملے پر سیاسی پائینٹ اسکورنگ کی کوشش کررہی ہے تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ یونیورسٹی کی فنڈنگ اور انتظام وانصرام آئینی ، قانونی اور مالیاتی طور پر بھی مرکزی حکومت کے دائرہ اختیارمیں آتی ہے۔ مسلم لیگ کے ترجمان نے کہاکہ صوبائی حکومت اگر اس معاملے میں رکاوٹ بننے کی بجائے چترال یونیورسٹی کے جلد قیام میں اپنا کردار اد ا کرتی ہے ، تو اسے سراہا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں