146

متاثرین کی بحالی کیلئے آرمی چترال سکاؤٹس اور تمام سول ادارے ایک ٹیم کی صورت میں اپنا کردار ادا کرہے ہیں،کمانڈنٹ نعیم اقبال

چترال ( نمایندہ ڈیلی چترال ) چترال میں حالیہ سیلاب کی وجہ سے تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کی بحالی اور متاثرہ خاندانوں میں ریلیف کی تقسیم کے حوالے سے کام کا جائزہ لینے کیلئے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نعیم اقبال کی زیر صدارت ایک غیر معمولی اجلاس ہوا ۔ جس میں ڈپٹی کمشنر چترال امین الحق ، ایم پی اے چترال سلیم خان ، لفٹننٹ کرنل محمود الحسن کے علاوہ لائن ڈیپارٹمنٹ کے تمام آفیسران اور غیر سرکاری اداروں کے نمایندگا ن موجود تھے ۔ کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا ۔ گو کہ چترال ایک بڑے حادثے سے دوچار ہوا ہے ۔ لیکن یہ خوش آید بات ہے ۔ کہ وزیر اعظم ، چیف آف آرمی سٹاف ، وزیر اعلی ، مرکزی و صوبائی وزرا،کور کمانڈر پشاور اور جی او سی ملا کنڈ ڈویژن کے علاوہ سیاسی قائدین عمران خان و سراج الحق نے چترال کا دورہ کیا ۔اور چترال کے لوگوں سے اپنی طر ف سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ۔۔ انہوں نے کہا کہ ان اعلیٰ شخصیات نے نہ صرف چترال کے مسائل سے آگاہی حاصل کی ۔ بلکہ بحالی کیلئے فنڈز کی فراہمی کا اعلان کیا ۔ کمانڈنٹ کرنل نعیم اقبال نے بحالی کے حوالے سے تمام داروں کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ اور کہا ۔ کہ چترال میں سیلاب کے نتیجے میں زبردست تباہی پھیلی ہے ۔ تاہم قابل تعریف امر یہ ہے ۔کہ متاثرین کی بحالی کیلئے آرمی چترال سکاؤٹس اور تمام سول ادارے ایک ٹیم کی صورت میں اپنا کردار ادا کرہے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں متاثرین کو بتدریج سہولیات ملتی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ روڈز کی بندش کے باعث تمام متاثرہ خاندانوں تک خوراک اور نان فوڈ آئٹمزہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچا دیے گئے ہیں ۔ اور راشن کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ جب کہ روڈ کھولنے کیلئے سی اینڈ ڈبلیو، این ایچ اے اور ایف ڈبلیو او کی کو ششیں دن رات جاری ہیں ۔ جب روڈ کھلیں گے ۔ تو چار سو ٹن خوراک مزید تقسیم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ 1328افراد کو ریسکیو کیا گیا ۔ چھ ہزار افراد کو میڈیکل کی سہولیات فراہم کی گئیں ۔ جس میں مختلف غیر سرکاری اداروں کا کردار بھی قابل تعریف ہے ۔ کمانڈنٹ نے کہا ۔ کہ گرم چشمہ میں ہیلی کاپٹر پر ڈیزل پہنچا یا گیا ۔ اور اب بھی مزید ڈیزل کی فراہمی کی جائے گی ۔ اس موقع پر مختلف اداروں نے ریلیف اور بحالی کے سلسلے میں اپنی پراگرس رپورٹ پیش کیں ۔ سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسن مقبول اعظم نے کہا ۔ کہ اپر چترال کا راستہ دریائے چترال کے مغرب کی طرف موڑکہو تک کھولا گیا ہے ۔ جس پر اپر چترال اور تورکہو تک خوراک اور دیگراشیاء کی فراہمی ممکن ہو چکی ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا ۔ کہ بحالی کے کاموں کیلئے مزید مشنریز کی ضرورت ہے ۔ جس کی ترسیل عنقریب ہو جائے گی ۔ ایف ڈبلیو او نے کالاش ویلز روڈ ، گرم چشمہ روڈ ، کوراغ روڈ کے بارے میں اپنی پراگرس پر روشنی ڈالی ۔ اور کہا ۔ کہ ریشن کے مقام پر سٹیل پُل تعمیر کرکے کوراغ کے بلاک شدہ مقام تک رسائی کو ممکن بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ گرم چشمہ کے لوگوں نے روڈ کی بحالی میں بھر پُور مدد فرہم کی ہے ۔ اور کمیونٹی کے بھر پور تعاون سے عنقریب روڈ کھولنے میں کامیاب ہوں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کالاش ویلی روڈ پر کام جاری ہے ۔ اس موقع پر ایم پی اے سلیم خان نے کہا ۔ کہ ایف ڈبلیو او کو اپنی پراگرس میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ گرم چشمہ میں متاثرہ خاندانوں کے علاوہ لوگ بھی خوراک کی ترسیل میں رکاوٹ کی وجہ سے متاثر ہو چکے ہیں ۔ این ایچ اے نے عشریت میں متاثرہ سڑک کی تعمیر ، بروز میں سٹیل پُل چترال دنین روڈ میں کام کے بارے میں تفصیلات سے اگاہ کیا ۔ اس پر کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس نے جغور کے مقام پر خراب سڑک کی فوری تعمیر کی ہدایت کی ۔ فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے کہا ۔ کہ صوبائی حکومت کے تعاون سے ایک ہزار میٹرک ٹن گندم گلگت کے راستے اپر چترال پہنچایا جارہا ہے ۔ جبکہ فارسٹ ڈیپارٹمنٹ نے کہا۔کہ متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے صوبائی حکومت کی منظوری سے عمارتی لکڑی کی ضرورت پوری کی جائے گی ۔ اس موقع پر ڈی ایچ او چترال اسرار احمد ، فوکس ہیومنٹرین کے منیجر امیر محمد ، پبلک ہیلتھ ، واپڈا کے عبدالرشید ، شیڈو ، ایس آر ایس پی کے ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر طارق احمد ، لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ ، الخدمت فاؤنڈیشن ، پی ڈی ایم اے ، یو ٹیلیٹی سٹورز اور لائیو سٹاک نے اپنی رپورٹ پیش کیں ۔ کمانڈنٹ چترال سکاوٹس نے بحالی کے کاموں پر تمام ادروں کی تعریف کی ۔ اور اپنی کام مزید تیز اور بہتر بنانے کی ہدات کی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں