66

طب یونانی کو درپیش مسائل اور حکومتی زمہ داری ۔۔۔۔تحریر :حکیم نورفقیر

اس سے تو انکار ممکن نہیں کہ طب یونانی دنیاکا قدیم ترین بلکہ اولین طرزعلاج ہے اور صدیوں پہلے کی تاریخ طب پر نظردوڑائی جائے تو لقمان حکیم نے طب میں ایجادات کی داغ بیل ڈالی تھی اور زمانے کو طب حکمت کے ذریعے انسانی زندگی کے تحفظ کا مؤثر علاج فراہم کیاتھا اور تب سے لے کر اب تک طب یونانی و اسلامی کا طریقہ علاج رائج ہے۔طب یونانی کی اہمیت توایک مسلمہ حقیقت ہے جس کاہردورمیں زمانہ معترف رہاہے کیونکہ یہ طریقہ علاج نہ صرف سستا بلکہ انتہائی موثر اور بے ضرر بھی ہے۔ قدرتی جڑی بوٹیوں کی اجزاء سے جدید خطوط پر ادوایات کی تیاری کاعمل سب سے پہلے یونان سے شروع ہواتھاجو رفتہ رفتہ دنیاکے دیگر خطوں میں متعارف ہواجبکہ یہ امر قابل فخر ہے کہ مسلمان سائنسدانوں نے اس طریقہ علاج میں نت نئے تجربات کے تحت جدت پیدا کرکے غیر معمولی انقلاب برپا کیا۔البتہ یہ کہنابھی شائد غلط نہیں ہوگاکہ طب انسانی سے متعلق مسلمان اطباء و حکماء کے تجربات اورتصانیف سے غیرمسلموں نے استفادہ کرتے ہوئے اس شعبے میں ترقی کے نئے منازل طے کئے۔اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایلوپیتھک ادویات مختلف جان لیواامراض کے خلاف مزاحمت کی ایک غیرمعمولی قوت تصور کی جاتی ہے تاہم بیسویں صدی کے آخری حصے میں ایلوپیتھک ادوایات کی بھرمارمگرقیمتوں میں ہوشربا اضافے کے نتیجے میں کثیرتعدادمیں غریب طبقے کے لوگ طب یونانی کے طریقہ علاج کی طرف راغب ہوگئے ہیں جبکہ اس کے برعکس امریکہ اور یورپ میں ایلوپیتھک ادوایات کی مضر اثرات کی خدشات اور وقوع پذیر ہونے خطرناک نتائج کے پیش نظراب وہاں کے لو گ انگریزی ادوایات کے استعمال سے کتراتے ہیں جبکہ طب یونانی طریقہ علاج کی طرف ان کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں اس وقت نیشنل کونسل فار طب کے ساتھ رجسٹرڈ اطباء کی تعداد 65 ہزار کے لگ بھگ ہیں جبکہ 350 کے قریب دواساز دواخانے اور 35 طبیہ کالجز یونانی طریقہ علاج کی فروغ اور تعلیمی یافتہ نوجوانوں کی طب کی علوم سے روشناس کرانے کیلئے ہمہ وقت سرگرم عمل ہیں اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اسلامی ممالک بالخصوص پاکستان میں طب یونانی و اسلامی طریقہ علاج ایک ناقابل تردید حقیقت کا روپ دھار چکا ہے ۔وفاقی وزارت صحت نے اسلام آباد،لاہور اورکراچی سمیت دیگر شہروں کے بڑے ہسپتالوں جبکہ خیبر پختونخوا کے تمام ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں طب یونانی طریقہ علاج سے عوام کو مستفید کرانے کیلئے طب آفیسرز کی تعیناتی عمل میں لائی جاچکی ہے۔طب یونانی کی تعلیم کے فروغ کیلئے وزارت صحت اسلام اباد کے زیر انتظام ملک بھر کے 35 طبی کالجوں میں سرحد طبیہ کالج تخت بھائی مردان جو کہ مرحوم پروفیسر حکیم شمس الحق کی کاوشوں کی بدولت معرض وجود میںآیاتھا۔پروفیسر حکیم شمس الحق مرحوم نے ایک مشینری جذبے کے تحت طب یونانی واسلامی کے فروغ کی عرض سے سرحد طبیہ کالج تحت بھائی کاقیام عمل میں لایاتھا جس سے معاشرے میں طب یونانی کی اہمیت روشناس کرانے اور نوجوانوں کو روزگارکی فراہمی کے حوالے سے درست سمت کاتعین ہواہے اورکوئی شک نہیں کہ آج ہزاروں نوجوانوں کو باعزت روزگارکے حصول کی راہ ہموار ہوئی ہے جس کی بدولت انھوں نے انسانیت کی بقا و فلاح و بہبود اور سستا یونانی طریقہ علاج کی فراہمی میں عملی کردار ادا کرکے زندگی کی میدان میں بڑا نام کمایا اور آج بھی طب کی دنیا میں صوبہ بھر میں ان کا نام شمس الحکماء کے نام سے یا د کیا جاتا ہے کیونکہ وہ طلباء کی بہتر تعلیم وتربیت کے ساتھ ان کی بھرپور حوصلہ افزائی پر بھی خصوصی توجہ دیتے تھے حقیقت احوال تو یہ ہے کہ خود غرضی اور نفسانفسی سے بھرپور اس معاشرے میں وہ صحرا میں گلستان بن کر ابھرے، مرحوم ایک حق پرست ،انتہائی ملنسار اور مہمان نواز انسان تھے اور آخری وقت تک اپنی محنت اور کمائی پر یقین رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ سفر آخرت پر جانے کے باوجود وہ اپنے اعلٰ اوصاف اور اچھے کردارکی بدولت ہزاروں لوگوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔9اپریل 2017کونیشنل کونسل فارطب ،سرحد یونانی میڈیکل کالج تخت بھائی اور پاکستان طبی کونسل کے باہمی اشتراک سے منعقدہ سیمینار میں مرحوم کی شخصیت اوران طبی خدمات پر سیر حاصل بحث کی گئی اور انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں بابائے طب کے خطاب سے نوازہ گیا،بہرحال ذکر ہو رہا تھا طب کا۔تو مذکورہ سیمینارجس کے مہمان خصوصی حکیم محمد فرید فیضی راجپوت چئیرمین انسپکشن اینڈ ایجوکیشن کمیٹی نیشنل کونسل فار طب اسلام آباد اور حکیم محمد احمد سلیمی چےئرمین امتحانی کمیٹی نیشنل کونسل فار طب اسلام آباد، پروفیسر حکیم وید محمدجمیل نیشنل کونسل فار طب تھے جبکہ صدارت پروفیسر حکیم منصور العزیز سکریٹری جنرل پاکستان طبی کانفرنس اور حکیم عبدالواحد نائب صدر پاکستان طبی کونسل اور پرنسپل ایس ٹی سی نے مشترکہ طورپر کی ۔جس میں صوبہ بھر کے ہزاروں طبیب اور حکماء نے شرکت کی اوردرپیش مسائل ومشکلات اور ان کے حل کیلئے اپنی سفارشات پیش کیں ۔مقررین نے اس بات پر زوردیا کہ طب یونانی ایک بے ضررطریقہ علاج ہے اور دنیا بھر کے کروڑوں لوگ اس علاج سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں لیکن حکومت ڈبلیو ٹی او کے دباوُ کے تحت ملک میں طب یونانی کو طبی میڈیسن ایکٹ کے زریعے لگام دینا چاہتی ہے اور اس شعبے پر ایک خاص ٹولے کی اجارہ داری قائم کرکے اطباء کی حقوق ہڑپ کرنا چاہتی ہے جو 65 ہزار اطباء و حکماء کے معاشی قتل کے مترادف ہیں،یہ بھی کہ حکومت اس شعبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روارکھ رہی ہے ایک طرب حکومت ایک ڈاکٹر کی تیاری پر سرکاری خزانے سے سالانہ چار لاکھ روپیہ خرچ کر تی ہے جبکہ دوسری طب یونانی کی ترقی و ترویج کیلئے خرچ آٹے میں نمک کے برابر ہے اور یہ امتیازی سلوک ناقابل برداشت ہے۔پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اور طب یونانی طریقہ علاج ابنیاء سے بھی ثابت ہے جس میں ہر مرض کا علاج کیا جاسکتا ہے۔تاہم یہ امر باعث تشویش ہے کہ حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باعث نہ لوگ اس طرزعلاج سے محروم ہیں بلکہ اس شعبے سے وابستہ طبیب اور حکماء کوبھی گوں نا گوں مشکلات کا سامناہے،زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہمارے پڑوسی ملک میں ہر مستند حکیم و طبیب کو ڈاکٹر کے برابر حثیت اوردیگر مساوی مراعات کے ساتھ ساتھ عزت کا مقام حاصل ہے لیکن پاکستان میں حکماء اور طبیب کوحقارت کی نظر سے دیکھاجاتا ہے جبکہ اگر جائزہ لیاجائے تو عام ایلوپیتھک علاج کرانے کے ماہر ڈاکٹرز بھی اکثر انگریزی ادوایات کی سائیڈ ایپکٹ کی وجہ سے یونانی طریقہ علاج کو ترجیح دیتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ لوگ حکماء اور اطباء کا ان کا جائز حق دینے کیلئے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں یہاں یہ امر بھی باعث حیرت ہے کہ صوبائی حکومت مرکزی حکومت سے اپنے حقوق کامطالبہ کرتی سنائی دے رہی ہے مگردوسری جانب حکماء اور اطباء کے حقوق کو ایکسر نظرانداز کرتے ہوئے ان کے سر پر ڈاکٹروں کی شکل میں ایچ ار اے کو بیٹھادیتی ہے جس نے اب ہیلتھ کےئر کمیشن کی شکل اختیارکرلی ہے۔اگرچہ ان اداروں کے قیام کے حکماء اور اطباء خلاف نہیں لیکن حکومت کو بھی اطباء کو مراعات دینی چاہیے تب بات بنے گی۔ یونانی طریقہ علاج عام اور غریب لوگوں کی دسترس کے اندر ہے اور ملک میں کروڑوں لوگ اس طریقہ علاج سے مستفید ہو رہے ہیں لہذا حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہسپتالوں اور طب کالجز میں میڈیکل ڈسپنسریوں کے قیام کو عمل میں لائیں ،حج مشن میں اطباء کی نمائندگی کے لئے انتظامات کئے جائیں ۔حکومت اطباء کو بلاسود قرضوں کی اجراء کو یقینی بنائیں۔طبی کالجوں میں وفاق المدارس سے فارغ التحصیل طلباء کی داخلوں پر پابندی کو ختم کی جائے۔ سرکاری ہسپتالوں میں طبیہ کالجوں سے فارغ التحصیل اطباء و حکماء کو ہاوس جاب کی سہولت فراہم کی جائے ۔تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتالوں میں فوری طورپر طب آفیسرکی تعیناتی عمل میں لائی جائے ۔،طبی میڈیسن ایکٹ کو موثر بنانے کیلئے نیشنل کونسل فار طب کے نمائندوں کی سفارشات کو شامل کرکے انہیں بلاتوقف قابل عمل بنایاجائے جو کہ ملک بھر کے 65 ہزار اطباء کا قانونی ادارہ ہے اور اس ادارے کی سفارشات نظرانداز کرنا گویا لاکھوں خاندانوں کامعاشی قتل کردیناہے، مرکزی حکومت کو چائیے کہ وہ نیشنل کونسل فار طب کے جامع اور ٹھوس تجاویزکو مدنظر رکھ کر طب یونانی و اسلامی کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ اس کاروبار سے منسلک لاکھوں خاندانوں کے درمیان پائی جانے والی بے چینی اور تشویش کا خاتمہ ہوسکیں اورعوام کوطب یونانی کی صورت میں سستااورمؤثرطرز علاج بھی میسرہو۔

Print Friendly, PDF & Email