44

صوبائی حکومت چترال سے گرفتارافرادکو فوری طوررہا کرے۔ مولاناعبدالاکبرچترالی

چترال میں ختم نبو تﷺ کے تحفظ کےلئے احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کرنے ، ایک ہفتہ حبس بے جا میں رکھنے اور ان پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے انہیں سوات منتقل کرنے کیخلاف اہلیان چترال نے سابق رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الا کبر چترالی کی قیادت میں پشاور پریس کلب کے سامنے احتجا جی مظاہرہ کیا ۔مظاہرین نے ضلعی انتظامیہ ، صوبائی انتظامیہ اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک کےخلاف شدید نعرے بازی کی ۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے قاری احمد سعید ، مولانا خلیل احمد ، قاری زبیر احمد ، اہل سنت و الجماعت کے مولا نا محبّ الرحمن فاروقی، مولانا صا بر اللہ ، مولانا انعام اللہ ، جمعیت علما ءاسلام کے مولان حبیب الرحمن کے علاوہ چترالیوں کی بھی کثیر تعداد موجود تھی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبد الاکبر چترالی نے کہا کہ مورخہ 21 اپریل 2017 ءبروز جمعہ شاہی جامع مسجد چترال میں چترال ہی سے تعلق رکھنے والے ایک بدبخت ، ملعون رشید نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کردیا ، وہا ں پر موجود نمازیوں اور عام مسلمانوں کا ردعمل ایک فطری عمل تھا ۔ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ پر احتجاج کرنے والوں کو گرفتارکرکے ایک ہفتے تک حبس بے جا میں رکھنا پولیس گردی اور قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے ۔ گزشتہ رات 31افراد پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت FIR درج کرکے ان کو راتوں رات سوات منتقل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے کردار کی وجہ سے ملعون رشید اور ان جیسے توہین رسالت ﷺ کے مرتکب افراد کی حوصلہ افز ائی کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعلیٰ پرویزخٹک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوراً ان افراد کی رہا ئی اور ان پر قائم کئے گئے تمام مقدمات واپس لینے کے احکامات جاری کریں۔انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ گستاخ رشید کو فوراً پھانسی دی جائے بصورت دیگر علاقہ میں حالات خراب ہونے کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور بالخصوص وزیراعلیٰ پرویز خٹک پرعائد ہوگی ۔

Print Friendly, PDF & Email