135

پیپلزپارٹی چترال کامستقبل۔۔۔۔۔کریم اللہ

ایک دور تھا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی چترال میں ناقابل تسخیر اور اسٹیٹس کو دشمن جماعت تصور کی جاتی تھی۔ عام آدمی کا یہ نمائندہ جماعت گو کہ مختلف اوقات میں اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہو کر کوئی زیادہ انتخابی کامیابی حاصل نہ کر سکی البتہ برسوں تک جمہوریت اور عوامی حکومت کے قیام کے لئے پی پی پی کے جیالوں کی قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔

پی پی پی چترال کے جیالے ہر دور میں موروثی سیاست دانوں کو ٹف ٹائم دیتے رہے۔ البتہ دور جدید میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکردگی روز بروز خراب ہوتی رہی۔ اور اب حالت یہ ہے کہ ماضی کا یہ ناقابل تسخیر جماعت اب آخری سانسیں لے رہاہے۔ جبکہ پارٹی کا ووٹ بینک یا تو جماعت اسلامی کی جانب منتقل ہو گیا ہے یا پھر ماضی کے جیالوں نے تحریک انصاف میں پناہ لی ہے ۔

سن دوہزار آٹھ میں حلقہ نواسی چترال ون سے پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار صوبائی اسمبلی سلیم خان کامیاب ہوا تو جیالوں میں ایک امید کی لہر دوڑ گئی کہ اب شائد پاکستان پیپلز پارٹی چترال میں ایک منظم جماعت بن جائے گی۔ اس کے اگلے سال پارٹی تنظیم سازی عمل میں آئی اور سلیم خان کو پاکستان پیپلز پارٹی ضلع چترال کا صدرجبکہ حکیم خان ایڈوکیٹ کو جنرل سیکرٹری بنایا گیا۔ گو کہ اپر چترال کو اس کابینہ میں مکمل طورپر نظر انداز کیا گیا تھا پھر بھی سلیم خان کو نیا چہرہ سمجھتے ہوئے پارٹی کے وسیع تر مفاد میں ان کی قیادت کو تسلیم کیا۔ تب سے اب تک یہ دونوں صاحباں پی پی پی چترال پر قابض ہے لیکن پارٹی روز بروز زوال پزیر ہے، اب تو پی پی اپر چترال کی حد تک تو پارٹی کے اندر بہت بڑی بغاوت کے امکانات واضح ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر اپر چترالے کے جیالوں کے تحفظات کا آزالہ نہ کیا گیا تو وہ ایک ساتھ کسی دوسری جماعت میں شمولیت کا بھی سوچ رہے ہیں۔

سلیم خان اور ان کا کیچن کابینہ گزشتہ تقریبا آٹھ برسوں سے پی پی پی چترال کے سیاہ وسفید کے مالک رہے ہیں لیکن ان آٹھ سالوں میں انہیں کبھی عوام سے ملنے، ورکر کنونشن بلانے اور پارٹی کی تنظیم سازی کی فرصت نہ ملی۔ یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں پی پی پی کے امیدواروں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

لوٹکوہ ضلعی صدر اور ایم پی اے سلیم خان کا ہوم گراونڈ ہے بلدیاتی الیکشن میں وہاں کے تینوں ضلع کونسلوں میں سلیم خان کے حمایت یافتہ امیدوار تیسرے یا چوتھے نمبر پر رہے، یہ حال تحصیل کونسل کے امیدواروں کا بھی رہا۔  ضلع کونسل میں جب اپر چترال کے تین ممبران جیت گئے تو خواتین کی ایک مخصوص نشست پی پی پی کو ملی اصولی طور پر یہ نشست بھی اپر چترال کو ملنی چاہئے تھی لیکن یہ نشست اپنے علاقے کے ایک خاتون کو عنایت کیا

اب جونہی پارٹی قیادت کے چناوّ کا وقت آیا تو ایک مرتبہ پھر اپر چترال کو نظر انداز کیا گیا۔ سب ڈویژن مستوج کے جیالے سوال کر رہے ہیں کہ کیا ہمیں پارٹی کے نام پر زندگی بھر ووٹ ہی کاسٹ کرنا ہے اوراقتدار کا مزہ چند افراد لیتے رہیں۔

اپنے گزشتہ کالم میں بھی انہیں معروضات کو پیش کیا تھا تو بعض لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کیا کہ شائد ہمیں سلیم خان کے ساتھ کسی قسم کا ذاتی عناد ہے تبھی تو ان کے دو عہدوں کی مخالفت کررہےہیں۔ ہم تو صرف یہ عرض کیا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی خود کو عوامی جماعت کہتی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے ضلعی قیادت میں اپر چترال کو نظر انداز کیا جارہاہے؟ لوئر چترال سے بھی ایسے لوگوں کو کلیدی عہدوں پر براجمان کیا جاتا ہے جن کے پی پی پی ورکروں میں قبولیت نہیں۔ اس کی مثال حکیم خان ایڈوکیٹ کی ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے جنرل سیکرٹری کے عہدے پر قابض ہے لیکن کبھی اپنے حلقے سے کونسلر کا انتخاب بھی نہیں جیت سکے۔

سلیم خان صاحب کو چاہیے تھا کہ خود کو ضلعی قیادت سے دور رکھ کر نئے چہروں کو موقع دیتا اور ان سے کام لے کر اپنی ساری توجہ اگلے انتخاب پر مرکوز رکھتے تو یہ ان کے پارٹی اور خود ان کی سیاست کے حوالے سے کارآمد ثابت ہوتا۔ ان کے صدر بننے کے بعد پارٹی پر قابض ہونے کا تصور ابھرا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ وہ پارٹی کے وسیع تر مفاد میں اپنے عہدے سے مستعفی ہوکر کسی نئے بندے کو موقع دیں ۔ بصورت دیگر ان کی اپنی سیاست اور پاکستان پیپلز پارٹی قصہ پارینہ بن سکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email