50

حضور ﷺ ہمیں معاف کر دیں۔۔ تحریر۔۔صوبیہ کامران۔۔ بکرآباد چترال

”حضورﷺ ہمیں معاف کر دیں“
حضور ﷺ آپ ماں سے زیادہ مہربان ہے۔۔۔ حضور ﷺ آپ باپ سے زیادہ شفیق ہے۔۔۔ حضور ﷺ آپ ہمارے لئے راتوں کے پچھلے پہر اٹھتے رہے۔۔۔۔ آپ ﷺ کی مبارک ہاتھ ہمارے لئے دعاؤں کیلئے بلند ہوتے رہے۔۔۔ آپﷺ کے مطہر لبوں سے ہمارے لئے دعاؤں کے پھول برستے رہے۔۔۔ آپﷺ کی مقدس آنکھو ں سے ہمارے لئے آنسوؤ ں کی جھڑیاں لگتی رہیں۔۔۔ زندگی کے ہر موقعے پر آپﷺ نے ہمیں یاد رکھا۔۔۔ حتیٰ کہ وقت وصال بھی آپﷺ کو ہمارفکر دامن گیر تھی۔۔۔!! حضورﷺ کل جب حشر کا میدان ہوگا۔۔۔ ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔۔۔ انسان بھوک، پیاس اور خوف سے بے حال ہونگے۔۔۔ جب ماں بچے کو دیکھ کر بھاگ جائے گی۔۔۔ جب باپ بیٹے کو دیکھ کر راہ فرار اختیار کر جائے گا۔۔۔ جب جگری یار آنکھ چُرا کر دوڑ جائیں گے۔۔۔ جب خدام،نوکر ٹکا سا جواب دے دیں گے۔۔۔ جب دنیا رشتے کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ پھوٹ جائی گے۔۔۔ حضورﷺ! اس وقت آپ ؐ ہماری محبت میں بے چینی سے حشر کے میدان میں بھاگ دوڑ رہے ہوں گے۔۔۔ کبھی میزان پر اپنے سامنے ہمارے اعمال تلوار رہے ہوں گے۔۔۔ کبھی پل صراط پر، ہمیں پل صراط پار کروا رہے ہوں گے۔۔۔ کہ کبھی حوض کوثر پر کھڑے اپنے پیاسے امتیوں کو جام کوثر پلا رہے ہوں گے۔۔۔ آپﷺ کی مہمان نوازی کا یہ عالم ہوگا۔۔۔ کہ آپﷺ کے حوض کوثر کے جام آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں گے۔۔۔ اور جو آپﷺ کے حوض کوثر سے ایک جا م پی لے گا۔۔۔ اسے پھر میدان حشر میں پیاس نہ لگے گی۔۔۔ حضورﷺ میدان حشر میں جب سارے نبی ”نفسی نفسی“ کہہ رہے ہوں گے۔۔۔ اس وقت آپ ﷺ ”امتی امتی“ پکار رہے ہوں گے۔۔۔ حضور ﷺ! اس وقت آپؐ کے جھنڈے تلے ہی ہمیں پناہ ملے گی۔۔۔ حضورﷺ! آپ ﷺ ہمارے لئے سحاب کرم ہے۔۔۔ حضورﷺ! آپؐ کی ذات ہمیں اللہ کی عذاب سے بچائے ہوئے ہے۔۔۔ حضورﷺ! اگر اللہ تعالیٰ کو آپ کی ذات اقدس کا لحاظ نہ ہوتا۔۔۔ تو ہم پہ یہ پتھروں کی بارش ہوتی۔۔۔ ہم پہ آسمان سے آگ کا مینہ برستا۔۔۔ بپھری ہوئی آندھیاں ہمیں پٹخا پٹخا کر مارتیں۔۔۔ ہولناک زلزلے ہمارے پاپی وجودوں کو تہہ زمین میں لے جاتے۔۔۔ سیلاب ہمیں کوڑے کرکٹ کی طرح بہا لے جاتے۔۔۔ اور ہماری پھولی ہوئی بد بودار لاشیں عبرت کی تاریخ بن جاتی۔۔۔ ہماری فصلیں برباد کر دی جاتیں۔۔۔ اور ہم پر بھوک اور قحط کے عذاب ٹوٹ پڑتے۔۔۔ہماری شکلیں مسخ کر دی جاتیں۔۔۔ ہم پہ قوم عاد و ثمود کی تاریخ دہرائی جاتی۔۔۔ حضورﷺ! ہم صرف آپ ؐ کے گنبد خضراء کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں۔۔۔ کسی عاشق صادق نے کہا ہے کہ اللہ کا عذاب آج بھی آتا ہے۔۔۔ لیکن گنبد خضراء کی وجہ سے واپس چلا جاتا ہے۔۔۔حضورﷺ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے۔۔۔ وہ آپؐ کی ذات کا صدقہ ہے۔۔۔ حضورﷺ!ہم انگریزوں کے غلام تھے۔۔۔ ذلیل و رسوا تھے۔۔۔ خائب و خاسر تھے۔۔۔ بے وقعت و بے قدر تھے۔۔۔ ہماری قوم نے مل کر۔۔۔ آپ ؐ کی ذات کا واسطہ دے کر اللہ سے دعا کی۔۔۔
اے اللہ!! تو ہمیں زمین کا ایک ٹکڑا دے دے۔۔۔ ہم اس زمین پر تیرے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کے لائے ہوئے دین کی حکومت قائم کریں۔۔۔ اس کے آسمانوں تلے تیرے حبیب تاجدار ختم نبوت حضرت محمد ؐ کی شریعت کا ڈنکا بجے گا۔۔۔ اس کی عدالتوں میں قرآن و سنت سے فیصلے ہوں گے۔۔۔ اس دھرتی پر تیرے اور تیرے حبیبؐ کے گستاخ کے لئے کوئی جگہ نہ ہوگی۔۔۔حضورﷺ ہمیں معاف کردیں۔۔۔ حضورؐ! ہم پُرنم آنکھوں سے درخواست کرتے ہے۔۔۔ حضورؐ! ہم ہاتھ باندھ کر عرض کرتے ہے۔۔۔ حضورؐ! ہم آنسوؤں کی زبان میں معافی مانگتے ہے۔۔۔ آپﷺ کی ختم نبوت کے پرچم کو پوری قوت سے بلند کئے ہوئے ہیں۔۔۔ اور اس راہ عشق میں آنے والی ہر تکلیف کو خوش دلی سے برداشت کر رہے ہی۔۔۔حضور ؐ! غزوہ بدر کے شہیدوں کے صدقے۔۔۔ ان غازیوں کے صدقے۔۔۔ ان مجاہدوں کے صدقے۔۔۔ حضورؐ ہمیں معاف کر دیں۔۔۔ ہماری طرف نظر کرم سے دیکھ لیں۔۔۔ حضورؐ آپ کا دامن۔۔۔ ہاتھوں سے چھوٹ گیا۔۔۔ تو پھر ہم کہیں کے بھی نہیں۔۔۔ دنیا میں ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں۔۔۔ ہم خارش زدہ کتے سے زیادہ بے وقعت۔۔۔ اور غلیظ نالیوں میں رینگنے والے کیڑے سے زیادہ بے قدر ہوجائیں گے۔۔۔ حضورؐ اگر آپ نے اپنی نظر رحمت پھیر لی۔۔۔ تو پھر دنیا و آخرت سارے عذاب ہم پر ٹوٹ پڑیں گے۔۔۔ حضورﷺ ہمیں معاف کر دیں۔۔۔ آپؐ کو اپنی رحمت اللعالمینی کا واسطہ۔۔۔ آپؐ کو مجاہد اعظم ختم نبوت سیدنا صدیق اکبر ؓ کا واسطہ۔۔۔ آپ ؐ کو تحریک ختم نبوت کے پہلے شہید حضرت حبیب ؓ بن زید انصاری کا واسطہ۔۔۔ آپؐ کو جنگ یمامہ کے شہیدوں کا واسطہ۔۔۔ حضورؐ ہمیں معاف کردیں۔۔۔ حضورؐ ہمیں معاف کر دیں۔۔۔ حضور ؐ ہمیں معاف کر دیں۔۔۔!!!

Print Friendly, PDF & Email