35

بجٹ 2017-18 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کے لئے گزشتہ روز کیو بلاک پاک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

سلام آباد ( نیوز ڈیسک) بجٹ 2017-18 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کے لئے گزشتہ روز کیو بلاک پاک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سپیشل سیکرٹری خزانہ شاہد محمود نے کی۔ اجلاس میں آل پاکستان سیکرٹریٹ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل کے وفد نے بھی مرکزی صدر چوہدری محمد حسین طاہر کی قیادت میں شرکت کی۔ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل کے وفد نے اجلاس میں سپیشل سیکرٹری خزانہ شاہد محمود سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ۔بجٹ میں تمام سرکاری اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں اور الائونسز میں تفریق ختم کر کے یکساں کیا جائے، 2010 ء کے 50% فیصد اور2016 ء کے 10% عارضی الائونسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرکے ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 25 فیصد اضافہ کیا جائے۔میڈیکل الائونس کو defreez کر کے 20 فیصدموجودہ تنخواہ پر دیا جائے۔ ایوان صدر،پرائم منسٹر سیکرٹریٹ ، نیشنل اسمبلی، سینٹ سیکریٹریٹ اور صوبوں کی طرز پر گریڈ 1 تا 22 کے تمام وفاقی ملازمین کو درج ذیل ریٹ کے حساب سے یوٹیلٹی الائونس دیا جائے۔ ہائوس رینٹ الائونس کو defreez کر کے موجودہ تنخواہ پر45فیصددیا جائے ۔ یاہائوس رینٹ سیلنگ میں65 فیصد اضافہ کر کے ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ دی جائے۔کنونس الائو نس میں 100% اضافہ کیا جائے ،تمام ملازمین(گریڈ ۱ تا (22 کی تنخواہ سے ہائوس رینٹ چارجز کی مد میں 5 فیصد کٹوتی کو ختم کیا جائے وفاقی حکومت صوبوں کی طرز پر جونیئرکلرک کو گریڈ 9سے 11 ، سینئر کلرک کو گریڈ 11 سے14 ، اسسٹنٹ کو گریڈ 16 ، سپرنٹنڈنٹ کو گریڈ 17 میں اپ گریڈکرنے کے ساتھ ساتھ نائب قاصد، فراش، قاصد، دفتری، ڈی ایم او ، ڈرائیورز اور ڈی آرز کی اسامیوں کو اپ گریڈ کیا جائے۔ سپیشل سیکرٹری خزانہ شاہد محمود نے آل پاکستان سیکرٹریٹ کے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ بجٹ میں آپ کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی ہرممکن کوشش کریں ۔ انہو ں نے کہا کہ اس وقت بجٹ پر کام شروع ہو چکا ہے۔ آپ کے تمام مطالبات بجٹ میں زیر غور ہیں۔بہت جلد ان کو حتمی شکل دے وفاقی وزیر خزانہ کو پیش کریںگے۔ اور ان کی منظوری وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email