117

ایس پی چترال پانچ گھنٹوں کا پیدل مسافت طے کرکے اپنے دو سو جوانوں کے ساتھ خشک راشن لے کر بمبوریت وادی پہنچ گئے

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) ڈسٹرکٹ پولیس افیسر چترال عباس مجید خان مروت نے چترال کے مختلف علاقوں میں سیلاب متاثرین کو امدادی اشیاء کی فراہمی کے ذریعے ان کے مصائب ومشکلات کو کم کرنے میں ایک نئی تاریخ رقم کی جب وہ پانچ گھنٹوں کا پیدل مسافت طے کرکے اپنے دو سو جوانوں کے ساتھ خشک راشن لے کر بمبوریت وادی پہنچ گئے جہاں مقامی لوگوں نے ضلعے کے جوانسال پولیس چیف کو اپنے اندر موجود پاکر خوشی کا اظہار کیا ۔ بمبوریت کے عوام کا کہنا تھا کہ خطرناک پہاڑوں اور جنگل کے راستے پولیس چیف کا یہاں آنے سے ان کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چترال پولیس کے افسران اور جوانوں کی طرف سے ایک دن کی تنخواہ متاثریں کے لئے مختص کرنے کے بعد ڈی پی او چترال نے اس سے قبل کوراغ میں پہاڑعبور کرکے راشن کے ساتھ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے وریجون پہنچ گئے تھے۔ چترال پولیس کی طرف سے شالی، کوشٹ، پھرگام، سہت، ڈوم شوغور ، گرم چشمہ، شوغور اور دوسرے مقامات پر راشن کے علاوہ ادویات بھی تقسیم کئے جاچکے ہیں جبکہ شیشی کوہ کے مقام پر فری میڈیکل کیمپ کا بھی انعقاد بھی کیا جاچکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں