67

زمہ داری کس کی؟؟۔۔قاضی فیصل احمد سعید

fff

چترال ٹاون ایک دفعہ پھر مسائل کا شکار ،پہلے بجلی ،پھر پینے کا پانی اور اب ایریگیشن چینلز کی تباہی۔چترال گول سے ٹاون کے ایریاء سنگور سے لیکر اوچسٹ،فیض آباد،شیاقوٹیک،مولدہ،زرگراندہ،مغلاند،گولدور ،ژانگ بازار،ریحانکوٹ،مستجپاندہ حتیٰ کہ ٹاون کے تمام دیہات کیلئے چترال گول سے چینلز نکلتے ہیں اور فصلیں سیراب ہوتی ہیں۔ٹاون کے تمام زمندار اور باسی اپنی مدد آپ کے تحت لگے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ تباہی اتنی ہوئی ہے کہ گاؤں کے لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ان تمام حالات میں حالیہ انتخابات میں عوام کا ووٹ لیکر کامیاب ہونے والے اس طرح غائب ہیں جس طرح گدھے کے سر سے سینگ بدقسمتی سے انتظامیہ بھی خواب خرگوش میں ہیں۔سوال یہ ہے؟کہ کیا یہ تمام ترجحاتی کاکام افواج پاکستان یا چترال سکاؤٹس کی زمہ داری ہے۔شروع سے لیکر اب تک جوکام دن رات لگاکر افواج پاکستان اور چترال سکاؤٹس انجام دیتی آرہی ہے۔خراج تحسین کے قابل ہیں۔ہمارے میڈیا کا رول بھی ان سیاسی مداریوں اور موجودہ انتظامیہ سے کم نہیں،مصیبت کی اس گھڑی میں میڈیا کا بڑا رول ہوتا ہے۔مگر ٹاون کے عوام کو میڈیا کا یہ رول کہیں نظر نہیں آرہا۔فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے اور جوکام اب فوج کررہی ہے۔سیلاب سے بچاؤں ،بحالی کاکام پانی اور خوراک کی رسائی۔یہ کام انتظامیہ اور سیاسی لیڈروں کاکام ہے۔یہ تو اللہ کا فضل ہے کہ چترال سکاؤٹس میں ایک ایسا بہادر،سمجھدار اور درد رکھنے والا کمانڈر موجود ہے۔جس کی کوششوں سے ایک دھائی کے بعد کسی وزیراعظم نے چترال کا دورہ کیا۔آرمی چیف نے دورہ کیا،ان کی دیکھا دیکھی عمران خان،سراج الحق اور چیف منسٹر نے ویزٹ کیا۔ان کا دورہ کیا تھا شو کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہوا سے بدحال چترالیوں کے نظارے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔سیاسی لیڈروں کے دورے سے چترال کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔وزیراعظم نے لواری ٹنل اور دیگر منصوبوں کے بارے میں جو اعلانات کئے ان کا سیلاب زدگان کی امداد سے کوئی تعلق نہیں۔وزیراعلیٰ ،عمران خان اور سراج الحق نے سیلاب زدہ گان کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔اگر سراج الحق سینیٹر کا فنڈ ہی چترال کو دیدتے تو عوام اُن کے شکرگذار ہوتے۔فوج کے کور کمانڈر صاحب،جی او سی صاحب،سارا عملہ چترال میں ڈیرہ لگاکر آج کمانڈنٹ صاحب کی مہربانیوں سے کام میں لگے ہیں۔اگرموجودہ کمانڈنٹ صاحب نہ ہوتے تو پتہ نہیں چترالیوں کا کیا بنتا۔ہمارے دوست لیڈر صاحبان ہاتھی کے کان میں سوئے خراٹے بھررہے ہیں۔صرف اُس دن نظر آئے جس دن وزیراعظم صاحب نے چترال کا دورہ کیا۔اُس کے بعد ندارد۔کچھ سیاسی پارٹیاں ایک دو پانی کے ٹینکر ادِھر اُدھر لے جاکر لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش میں ہیں اور وہ بھی اپنے ورکروں تک محدود۔ٹاون کے عوام یہ سوال کرتے ہیں کہ دین اور اسلام کے نام پرووٹ لیکر کامیابی کے بعد کیا انکا کام ختم ہوا ،نہیں بلکہ ان کاکام اب شروع ہے۔خدا وند پاک کے سامنے یہ لوگ جوابدہ ہیں۔خدارا جائیں دیکھیں لوگوں پر کیا مصیبتیں نازل ہیں چترال گول جائیں،دیکھیں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت لگے ہیں زرا شرم کریں،اور ان لوگوں کی مدد کریں۔اور ٹاون میں پینے اور ایریگیشن کے پانی کی بحالی میں مدد دیں۔بجلی کے مسئلے پر توتم لوگوں نے تیر مارا۔اب کم از کم خدا کے ڈر سے تو لوگوں کے پاس جائیں،کچھ غیر فہم اور ناسمجھ سیاسی لیڈروں کی وجہ سے ٹاون بجلی سے محروم رہا اور تاریکی میں ڈبودیا۔اب ٹاون کو بنجر بنانے پر تلے ہوئے ہو۔آج 2015ہے عوام باشعور ہیں،ہر حرکت کو دیکھتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں اب وہ دور نہیں رہا۔کب تک یہ چلے گا۔ہم ٹاون کے عوام کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کا نہ صرف شکریہ ادا کرتے ہیں بلکہ آرمی چیف صاحب سے یہ گذارش کرتے ہیں۔کہ چترال کے غریب اور غیور قوم کو مدنظر فرماکر کمانڈنٹ صاحب کو ایک بڑے عرصے تک چترال میں رکھا جائے۔تاکہ چترالیوں کی حالت بدل سکے۔انتظامیہ اور سیاسی لیڈروں کو تو آزمایا گیا ہے۔حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بلند وبانگ دعوے کرنے والے آج اپنی کرسی کیلئے دِست گریبان ہیں۔ان کاکام ووٹ لینے تک تھا۔بس ختم ہوا۔الخدمت،فوکس ،فلاح انسانیت کے بھی مشکور ہیں اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔فوج کے بعد دوسرے نمبر خدمت کی انجام دہی میں ان کا بھی بڑا کردار رہا مگر یہ سب فلاحی ادارے ہیں۔ان کا کریڈیٹ کسی سیاسی پارٹی کو نہیں جاتا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں