تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> وزارت داخلہ نے 66انٹرنیشنل این جی اوز کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ 10 این جی اوز کواین او سی جاری نہ کرنے کا فیصل
Qashqar Lab

وزارت داخلہ نے 66انٹرنیشنل این جی اوز کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ 10 این جی اوز کواین او سی جاری نہ کرنے کا فیصل

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزارت داخلہ نے 66انٹرنیشنل این جی اوز کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ 10 این جی اوز کواین او سی جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور دیگر 36غیر ملکی این جی اوز کو کام کرنے کی اجازت دینے سے متعلق فیصلہ ہونا باقی ہے ۔ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ہدایت کی ہے کہ نئے قواعد و ضوابط کے تحت درخواست گزار تمام آئی این جی اوز کی حتمی رجسٹریشن کا عمل آئندہ ماہ تک ہر صورت مکمل کیا جائے۔ نئے نظام کے تحت آئی این جی اوز کی رجسٹریشن کے عمل کی تکمیل ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گاجس سے اس نظام میں مکمل شفافیت آئے گی جو کہ پاکستان کی سلامتی کے لئے نہایت اہم ہے۔گذشتہ روز وزارت داخلہ میں وزیر داخلہ کی زیر صدات اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا ، اجلاس میں سیکرٹری داخلہ، ایڈوکیٹ جنرل، چیئرمین نادرا، ڈپٹی چیئرمین اور وزارتِ داخلہ اور نادرا کے سینئر افسران شریک تھے۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ نئے نظام کا مقصد جہاں آئی این جی اوز سے متعلقہ تما م امور میں شفافیت لانا ہے وہاں حکومت اور غیر حکومتی اداروں کی پارٹنر شپ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے وزارتِ داخلہ کے حکام کو ہدایت کی کہ رجسٹریشن کے عمل کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ رجسٹرڈ شدہ تمام غیر حکومتی بین الاقوامی اداروں کو حکومت کی طرف سے تمام ممکنہ سہولیات بہم پہنچائی جائیں اور انکے کام کو مزید آسان بنایا جائے۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ماضی میں آئی این جی اوز کو جن مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا اور جس طرح یہ پورا عمل عدم توجہ کا شکار رہا اس سے نہ صرف آئی این جی اوز کی اپنی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ حکومت اور ان اداروں کے درمیان بھی اعتماد کا فقدان پیدا ہوا اور جس سے متعدد غلط فہمیوں نے جنم لیا۔ نئے نظام کے تحت آنے والی شفافیت نہ صرف ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ کرنے میں معاون ثابت ہوگی بلکہ اس سے حکومت اور آئی این اوزکے باہمی اعتماد کی بحالی اور سماجی اور معاشی شعبوں میں مل کر کام کرنے کی فضاہموار ہوگی۔وزیرِ داخلہ نے ہدایت کی وزارتِ داخلہ میں نادرا کی مدد سے آئی این جی اوز ونگ کو مزید فعال اور متحرک بنایا جایا اور وزارت اور ان اداروں کے درمیان باہمی روابط کو مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کیا جائے تاکہ آئی این جی اوز سے متعلقہ امور کو کم سے کم وقت میں مکمل کیا جائے اور سرخ فیتے کا مکمل طور خاتمہ کیا جا سکے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک 66 انٹرنینشنل این جی اوز کو باقاعدہ منظوری دی جا چکی ہے جبکہ دیگر درخواستوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیرِ داخلہ نے آئی این جی اوز سے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام درخواست گزار آئی این جی اوزکے سابقہ پراجیکٹس، کارکردگی اور اسکے سماجی و معاشی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلوں کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اجلاس میں مزید چار آئی این جی اوز کو این او سی جاری کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ دس این جی اوز کورجسٹریشن کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ مزید 36غیر ملکی این جی اوز کو کام کرنے کی اجازت دینے سے متعلق فیصلہ ہونا باقی ہے جوکہ اگلے مہینے میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جن آئی این جی اوز کو کام کرنے سے روک دیا جائے گا انکو تین ماہ کی رعایتی مدت دی جائے گی تاکہ وہ اپنے جاری منصوبے مکمل کر سکیں۔

Print Friendly