27

چترال حکومت حکومت کٹوتی شدہ نال سلیری بجٹ کے1کروڑ68لاکھ روپے واپس نہ کئے گئے ، مجبوراً احتجاج کی راہ اختیار کرنا پڑے گی/ آل ایمپلائیزکاپریس کانفرنس

چترال (شہریاربیگ) آل پاکستان کلرک ایسوی ایشن چترال اور کوارڈینیشن کونسل چترال نے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی طرف سے نان سلیری بجٹ سے غیر قانونی کٹوتی شدہ رقم کو فوری طور پر جاری نہ کرنے کی صورت میں 30جون سے چترال کے تمام سرکاری دفاتر کی تالہ بندی ،ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔چترال پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یونین کے عہدے داروں صدر آمیر الملک،جنرل سکریٹری عتیق الرحمن،سنیئر نائب صدر لعل اعظم،مقبول علی اور عبد الوسیع نے کہا کہ اس سال ضلع حکومت نے چترال کے ملازمین کے نان سلیری بجٹ سے ایک کروڑ 68لاکھ روپے کی رقم غیر قانونی طریقے سے نکال کر سڑکوں کی مرمت پر لگا دیا اور ایپکا کی احتجاج پر یقین دہانی کرائی گئی کہ یہ رقم ایڈیشنل گرانٹ سے بہت جلد واپس کئے جائے گے مگر ضلعی حکومت اب تک اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین کی مختلف مد میں مراعات بُری طرح متاثر ہوئے ہیں اور دفاتر میں پنسل کاغذ تک دستیاب نہیں ہیں۔ متعلقہ حکام نے بار بار یہ بات اُن کے نوٹس میں لائی کہ یہ غیر قانونی اقدام ہے مگر اس پر کان نہیں دھرا گیا۔اُنہوں نے دھمکی دی کی مالی سال2016,2017کے اختتام سے پہلے پہلے ریوائیزڈ بجٹ میں کٹوتی شدہ نال سلیری بجٹ کے1کروڑ68لاکھ روپے واپس نہ کئے گئے تو ہمیں مجبوراً احتجاج کی راہ اختیار کرنا پڑے گی دفاتر کی تالہ بندی ہو گی اور تمام ملازمین ہڑتال کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی حکومت پر ہو گی

Print Friendly, PDF & Email