69

زُبانِ اہلِ زَمیں۔۔نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے۔۔سید شاہد عباس شاہ کاظمی

fffاک ہنگامہ سا برپا ہے۔دوبارہ سے مستعفی ہونے کے نعرے۔ اس مرتبہ بھائی کے جیالے۔ قراردادوں کا شور کچھ تھما تو خان صاحب نے بھی اعلان کر دیا کہ ایوان میں جائیں گے ۔ حکمران جماعت نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ ڈی سیٹ کرنے کی کسی بھی قرارداد کی نہ صرف مخالفت کریں گے بلکہ اس کے خلاف ووٹ بھی ڈالیں گے ۔ پیپلز پارٹی نے بھی سابقہ محبوبہ (ایم کیو ایم) سے ہاتھ کھینچ لیا۔ ہاتھ کیا کھینچا کے استعفوں کا کھیل ہی اُلٹا ہو گیا ہے۔ اور اب بھائی لوگ استعفوں کے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔ اور خبری یہ بھی خبر دے رہا ہے کہ استعفے قبول بھی ہو سکتے ہیں۔ شاید جس برتے پر بلند و بانگ اعلان کیے گئے تھے کہ اسمبلیوں میں نہیں بیٹھنے دیں گے انہوں نے ہی دغا دے دیا۔ حکمران جماعت کا ان تحاریک کی مخالفت کرنا نہ صرف اس کی اپنی عزت کے لیے بہتر تھا بلکہ اس حقیقت کا بھی واضح اعلان تھا کہ اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت ہی در اصل حقیقی اپوزیشن جماعت ہے۔ قلابے تو یہ بھی ملائے جا رہے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف تیسری کے بجائے دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ کیوں کہ پاکستان پیپلز پارٹی ملکی سطح پر گم سی ہو گئی ہے۔ اور واحد اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف ہی بچی ہے جو پورے ملک میں حکومتی منصوبوں میں خامیوں کو سدھارنے میں پیش پیش نظر آتی ہے۔اور اب تو ایم کیو ایم نے بھی بلند و بانگ راگ سیاسی کی لمبی تان میں کہہ دیا ہے کہ انہیں ہٹا کر تحریک انصاف کو لایا جا رہا یعنی خطرہ بہر حال انہی سے ہے۔
مولانا صاحب نے ڈی سیٹ کرنے کا بیڑا اٹھایا تو ان کو خود بھی یقین نہ تھا کہ ن لیگ ان کی مخالفت میں کمر بستہ ہو جائے گی ۔ ان کو شاید امید ہو چلی تھی کہ عمران خان اور نواز شریف کے اختلافات اس تحریک کے خُشک پودے کے لیے ساون کی بارش ثابت ہوں گے ۔ لیکن صد افسوس! ایسا نہ ہو سکا۔ بلکہ آبیاری کے بجائے سُبکی مقدر ٹھہری۔ مولانا صاحب کے لیے ہمیشہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ حکومت خواہ کوئی سی بھی ہو وہ حکومت کا حصہ بننے کو ایسا ہی سمجھتے ہیں جیسے مچھلی کے لیے پانی۔ مچھلی جیسے پانی کے بناء تڑپتی ہے اسی طرح مولانا صاحب حکومت سے باہر رہ کر تڑپتے ہیں۔ اسمبلی میں تقریر کے دوران بھی خیرات کے لفظ کو اپنی جاگیر سمجھ کر استعمال کیا جاتا رہا جب کہ یہ اصول فراموش کر دیا گیا کہ خیرات کم والا مانگتا ہے زیادہ والا نہیں۔ سیاست سے نابلد پاکستانی بھی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جس کے پاس ہوں ہی گنے چنے 13 پیادے وہ کیسے 33 والے کو خیرات دے سکتا ہے۔ کھسیانی بلے کھمبا نوچے کے مصداق مولانا صاحب کو جب ن لیگ کی طرف سے ہری جھنڈی دکھا دی گئی تو اس کے علاوہ کچھ بن نہ پڑا کہ تحریک واپس لے لی جائے۔ ابھی بھی کچھ عزت باقی رہ گئی جس میں حکمران جماعت نے پرانے تعلقات کا خیال کرتے ہوئے مولانا صاحب کو تحریک واپس لینے کا وقت دیا ورنہ اگر تاخیر کے بجائے فوراً اس معاملے پر رائے شماری کروا دی جاتی تو مولانا صاحب مارے شرمندگی کے نہ اِدھر کے رہتے ، نہ اُدھر کے۔
ایم کیو ایم بھی پاکستان تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے کے معاملے پر مولانا صاحب کی ہمنوا تھی۔ ایم کیو ایم کے پاس 24 نشستیں ہیں لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم بھی گلے پڑی رَسی کے خوف سے ہوا میں ہی ہاتھ پاؤں چلا رہی ہے۔ جیسے ن لیگ نے مولانا صاحب کو دغا دیا ویسا ہی کچھ حال جیالوں نے ایم کیو ایم کے ساتھ کیا۔ ایم کیو ایم کی تحریک کی بنیاد بھی پیپلز پارٹی کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید تھی۔ لیکن ان بنیادوں میں دراڑیں اسی وقت پڑنا شروع ہو گئیں جب شاہ جی نے بناء کسی ہچکچاہٹ کے کہہ دیا کہ وہ ایسی کسی بھی تحریک کا ساتھ نہیں دیں گے۔مرتے کیا نہ کرتے نہ رائے شماری میں جانے کے قابل رہے نہ تحریک واپس لینے کی ہمت۔ ایک بار پھر ایاز صادق صاحب مدد کو آئے اور لندن کال کھڑکا دی ۔ یہ کال نہیں تھی۔ بلکہ عزت بچانے کا نادر موقع تھا۔ جس طرح عرصے سے میکے میں بیٹھی ناراض بہو سسرالیوں کا بے تابی سے انتظار کر رہی ہوتی ہے اور ان کے آنے پر مرغ مُسَلم تیار کیے جاتے ہیں ایسے ہی ایک فون کال پر ہی تحریک کے غبارے سے ہوا نکل گئی ۔ ایم کیو ایم 24 نشستوں سے جو تحریک رقم کرنا چاہتی تھی وہ وقت سے پہلے ہی تاریخ کے صفحوں میں گم ہو گئی ۔اس تحریک کا ماخذ تحریک انصاف کے رویے سے زیادہ رینجرز کی ” کارستانیاں” ہیں۔ سونے پہ سہاگہ ” دفتری غلطی” سے بھارتی ہائی کمیشن کو خط چلا گیا۔ جلتی پہ تیل کا کام ” کلرز لسٹ ” نے کر دیا۔ لہذا تحریک انصاف والے اس حوالے سے بھی پریشان نہ ہوں کیوں کہ وہ پنجابی کا مشہور ضرب المثل ہے نا کہ” آکھاں دھی نوں، سناواں نہوں نوں”(مدعا کچھ اور ہو غصہ کسی اور پہ ہو) تو یہاں بھی صورت حال کچھ ایسی ہی تھی۔ کہیں اور کا غصہ اُتر کہیں اور رہا تھا۔اور اب ایم کیو جوابی وار کر رہی ہے شاید۔۔۔ مستعفی ہو کر۔۔۔
پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے ایم کیو ایم اور مولانا کو ہر ممکن موقع دیا کہ وہ رہی سہی عزت سنبھال لیں اور دونوں نے اِسی کو موقع غنیمت جانا ۔ ورنہ اگر واقعی خان صاحب پہلے سے زیادہ ووٹ لے کر دوبارہ اسمبلی میں وارد ہو جاتے ہیں تو دونوں کی نظریں چاہنے کے باوجود نہ اُٹھ پاتیں۔ تحاریک واپس لینے کے بجائے بھی مولانا صاحب اور ایم کیو ایم بہت کچھ کھو بیٹھے ہیں۔ یعنی۔۔۔
نہ خدا ہی ملا، نہ وِصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے
استعفے تحریک انصاف کے بھی قبول ہونے چاہیے تھے اور قریشی صاحب نے اسمبلی فلور پہ شاید اسی لیے کہا تھا کہ جو تلوار چلانی ہے چلا لیں لیکن واضح کریں۔ اسی طرح استعفے اب بھی قبول ہونے چاہیے۔ کیوں کہ یہ روایت پاکستانی سیاست میں سرایت کر گئی تو پھر ہر کوئی اس کو اپنے مقاصد کے لیے ہی استعمال کرئے گا۔
یہ”زُبانِ اہلِ زمیں”ہے۔قارئین اپنی تجاویز اور آراء کے لئے اس ایڈریس پر مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں