49

آخر جے آئی ٹی چاہتی کیا ہے؟؟؟۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

ڈی چوک اسلام آباد کے 126 روزہ دھرنے کے دَوران خاں صاحب روزانہ کنٹینر پر چڑھ کر ردی کاغذات کے پلندے لہرا لہرا کر سونامیوں کو یقین دلاتے رہے کہ اُن کے پاس 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے مکمل ثبوت موجود ہیں اور انہی ثبوتوں کی بِنا پرکسی وقت بھی امپائر کی انگلی کھڑی ہوسکتی ہے۔تب بھی کپتان ’’کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے‘‘ کے مصداق فوج کو دعوت دیتے رہے اور آج بھی وہ ’’امپائر ‘‘ کے انتظار میں گھُلے جا رہے ہیں۔
جب کپتان صاحب کے تکرار اور اصرار پر تحقیقاتی کمیشن بنا تو وہ 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کا ایک بھی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ اُنہوں نے طوہاََ و کرہاََ یہ فیصلہ قبول تو کر لیا لیکن ہمیشہ اِس پر تنقید بھی کرتے رہے ۔ پھر پاناما لیکس کا غلغلہ اُٹھا ،کپتان صاحب کی آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہوا اور اُنہوں نے ایک دفعہ پھر وزارتِ عظمیٰ کے خواب دیکھنا شروع کیے ۔اُن کا پروگرام تو ’’دھرنا ٹو‘‘ کا تھا لیکن اِس بار وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خاں نے اُن کی ایک نہ چلنے دی اور یہ ’’عظیم رہنما‘‘ اپنی رہاعش گاہ بنی گالہ سے بھی باہر نہ نکل سکا۔ خیبر پختونخوا سے پرویز خٹک اسلام آباد پر حملہ آور ہوا ۔ دعویٰ اُس کا یہ تھا کہ وہ کپتان صاحب کی مدد کے لیے بنی گالہ پہنچ کر ہی دَم لے گا لیکن چودھری نثار علی خاں کی زبردست حکمتِ عملی نے پرویز خٹک کو اسلام آباد کے قریب بھی پھٹنے نہ دیا اور وہ واپس کے پی کے ’’دُڑکی‘‘ لگا گیا۔ اِسی دوران سپریم کورٹ نے پاناما کیس سننے کا فیصلہ کر لیا اور عمران خاں ، جو پہلے سپریم کورٹ کا نام سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے ’’جان بچی سو لاکھوں پائے‘‘ کے مصداق فوراََ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔
سپریم کورٹ میں پیش کرنے کے لیے کپتان صاحب کے پاس اخباری تراشوں، سوشل میڈیا ،ای میلز اور ٹاک شوز کے پلندوں کے علاوہ کچھ نہ تھا ۔جب سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ سب کچھ تو رَدی کی ٹوکری میں پھینکے جانے کے قابل ہے تو کپتان نے کہا کہ اُنہوں نے الزام لگا دیا ، ثبوت پیش کرناحکومت کا کام ہے ۔گویا میاں برادران یہ ثابت کریں کہ وہ بے گناہ ہیں حالانکہ ثبوت پیش کرنا مدعی کا کام ہوتا ہے ،مدعا علیہ کا نہیں۔چنانچہ فیصلہ ہوا کہ کیس پر مزید تحقیق ہونی چاہیے اور یوں جے آئی ٹی معرضِ وجود میں آئی۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ جے آئی ٹی اِس لحاظ سے منفرد ہے کہ ’’ساغرِ اوّل و دُرد ‘‘ کے مصداق یہ پہلے دِن ہی سے متنازع قرار پائی ۔سلسلہ واٹس اآپ کال سے شروع ہوا اور پھر اعتراضات کی بارش میں جے آئی ٹی اپنا کام کرتی رہی ۔وزیرِاعظم کے کزن طارق شفیع نے کہا کہ جے آئی ٹی کا رویہ انتہائی اہانت آمیز ہے ، دنیا کا کوئی تحقیقاتی کمیشن کسی گواہ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتا ۔نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر سعید احمد کو بھی جے آئی ٹی کے رویے اور دھمکیوں پر اعتراض تھا۔ اُن سے تیرہ گھنٹے تفتیش کی گئی اور چار گھنٹوں تک انتظار کروایا گیا۔ وزیرِاعظم صاحب کے صاحبزادے حسین نواز کو بار بار طلب کیا گیا اور گھنٹوں تفتیش کی گئی ۔پھر حسین نواز کی تصویر سوشل میڈیا پر ’’وائرل‘‘ ہونے کا معاملہ اُٹھا ۔اِس میں حسین نواز کو بے بسی کی تصویر بنے دکھایا گیا جس پر حسین نواز نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ۔اِس سے پہلے طارق شفیع اور نیشنل بینک کے صدر سعید احمد بھی سپریم کورٹ سے رجوع کر چکے تھے ۔ حیرت ہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اِن معاملات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے جے آئی ٹی کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور طارق شفیع ،سعید احمد اور حسین نواز کی درخواستوں کو دَرخورِاعتنا ء نہ سمجھا ۔
اب کنٹینر پر چڑھی جے آئی ٹی نے 2 جولائی کو طارق شفیع ، 3جولائی کو حسن نواز اور 4 جولائی کو حسین نواز کو ایک دفعہ پھر طلب کر لیا ہے ۔ اِس سے پہلے وزیرِاعظم میاں نواز شریف ،اُن کے بھائی میاں شہباز شریف ،بیٹوں حسن اور حسین نواز ،داماد کیپٹن(ر) صفدر اور کزن طارق شفیع جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ اب وزیرِاعظم صاحب کی بیٹی محترمہ مریم نواز کو بھی 5 جولائی کو طلب کر لیا گیا ہے ۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے جے آئی ٹی کسی خاص مقصد کے تحت میاں خاندان کو زَچ کرنے پر تُلی بیٹھی ہو اور چاہتی ہو کہ ’’تنگ آمد ،بجنگ آمد‘‘ کے مصداق نواز لیگ سڑکوں پر نکل آئے ،ملک میں افراتفری پیدا ہو اور ایک دفعہ پھر مارشل لاؤں کے گھور اندھیرے چھا جائیں۔اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ کیسی تحقیق و تفتیش ہو رہی ہے جس میں اہانت آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے ۔غیرقانونی طور پر وڈیو بنائی جاتی ہے اور لوگوں کو زبردستی وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے دھمکایا جاتا ہے؟ ۔یہ کیسی جے آئی ٹی ہے جو یہ تو تسلیم کرتی ہے کہ حسین نواز کی تصویر جوڈیشل اکیڈمی ہی کے ایک شخص نے لیک کی ،اُس کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی اور اُسے اُس کے ادارے میں واپس بھیج دیا گیا ہے لیکن یہ بتانے کو تیار نہیں کہ وہ شخص کون ہے اور کس ادارے سے تعلق رکھتا ہے؟۔ یہ کیسی جے آئی ٹی جس کے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے ارکان کو چھوڑ کر باقی سب ارکان متنازع ہیں ؟۔ اور یہ کیسی جے آئی ٹی ہے جو اپنی تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی اپنی غیرجانبدارانہ حیثیت کھو چکی ہے ؟۔ طارق شفیع ،حسن نواز ،حسین نواز اور مریم نواز کی طلبی سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے جے آئی ٹی میاں خاندان کے خلاف ثبوت اکٹھے کرنے سے قاصر رہی ہو اور اب ’’کھسیانی بِلّی کھمبا نوچے ‘‘ کے مصداق اِن اصحاب کو بار بار طلب کرکے میاں خاندان کو بہرصورت مجرم ٹھہرانے پر تُلی بیٹھی ہو۔ یہ رویہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے جو ملک کے لیے بہتر ہے نہ قوم کے لیے ۔سوال مگر یہ کہ قصور کِس کا ہے ؟۔
ہم سمجھتے ہیں کہ سارا قصور ہمارے اِن بزعمِ خویش رہنماؤں کا ہے جو باہم جوتم پیزار ہو کر دوسروں کو موقع دیتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے سبھی سیاستدان مارشل لا کی نرسری میں پَل بڑھ کر جوان ہوئے ہیں ۔بھٹو مرحوم ایوبی آمریت کے دَور میں کابینہ کے اٹھارہ وزراء میں سے واحد
سول وزیر تھے ،باقی سب فوجی۔ وہ ایوب خاں کو ڈیڈی کہا کرتے تھے اور لوگ اُنہیں ایوب خاں کا ’’پیرٹ‘‘۔ میاں نوازشریف ، ضیاء الحق کے دَورِ آمریت میں اُبھر کر سامنے آئے اور ضیاء الحق اپنی عمر بھی اُنہیں لگ جانے کی دعائیں دیا کرتے تھے ۔چودھری برادران پرویز مشرف کو دَس بار وردی میں منتخب کروانے کے دعویدار تھے اور نئے پاکستان کے داعی عمران خاں اُسی آمر پرویز مشرف کے جلسوں میں جھنڈے اُٹھائے نظر آتے تھے ۔پرویز مشرف کے ریفرنڈم کے خلاف پوری قوم یکسو تھی لیکن کپتان صاحب گلی گلی اُن کے حق میں تقریریں کرتے نظر آتے تھے ۔اب یہی رہنماء ’’بی بی جمہوریت‘‘ کے عاشقانِ صادق نظر آتے ہیں حقیقت مگر یہی کہ ہمارے اِن مہربانوں کو آمروں سے کوئی ہمدردی نہیں تھی ۔وہ تو ہوسِ اقتدار میں مرے جاتے تھے ،خواہ یہ اقتدار کسی آمر ہی کے دَر سے کیوں نہ ملے۔ آج بھی یہی اقتدار کی جنگ جاری ہے اور یہی وہ ہوس ہے جو ملک کا بھلا ہونے دیتی ہے نہ قوم کا۔

Print Friendly, PDF & Email