48

تخت یا تختہ۔۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

کپتان نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد شریف خاندان اڈیالہ جیل میں ہوگا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ شیخ رشید کی صحبت کا اثر ہو کیونکہ یہ تو طے ہے کہ
کُند ہم جنس با ہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر ، باز با باز
شیخ رشید تو پیشین گوئیاں کر کر کے نہیں تھکے ،البتہ ہم سُن سُن کر تھک بلکہ ’’ہَپھ‘‘ چکے ہیں۔ اب یہی وتیرہ کپتان نے بھی اختیار کر لیا ہے اور وہ بھی تاریخ پہ تاریخ دینے لگے ہیں ۔ اُنہیں یہ عادتِ بَد کنٹینر پر اُن کے پہلو میں کھڑے شیخ رشید نے ہی ڈالی ہے جو اُس وقت اُن کے کان میں کہہ دیتے تھے کہ امپائر کی انگلی کھڑی ہونے والی ہے اور کپتان صاحب اپنی تقریر روک کر ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے طور پر اِس کا اعلان کر دیتے ۔ اب شنید ہے کہ شیخ رشید تحریکِ انصاف کی باقاعدہ رکنیت حاصل کرنے جا رہے ہیں۔ ویسے تو وہ ’’اندر کھاتے‘‘ مشرف بہ تحریکِ انصاف ہو ہی چکے تھے لیکن سونامیوں نے اُنہیں ہمیشہ ’’جمّاں جنج نال ‘‘ ہی قرار دیا ۔ اگر وہ تحریکِ انصاف میں شامل ہو جاتے ہیں تو پھر یہ الزام بھی ختم ہو جائے گا اور شیخ رشید تحریکِ انصاف کا سہرا سَر پہ سجا کر دشمنوں کے سینوں پر مونگ دلتے نظر آئیں گے۔
چترال میں لادی ہائیڈل پاور سٹیشن کی تعمیر کا دوسری بار افتتاح کرتے ہوئے کپتان نے میاں برادران کے خوب لَتّے لیے ۔ اِس پاور سٹیشن کا پانچ سال پہلے بھی افتتاح ہو چکا تھالیکن غالباََ کپتان کے پاس اور کوئی کام نہیں تھا تو اُنہوں نے سوچا ، چلو اِس ہائیڈل پاور کا ایک دفعہ پھر افتتاح کرکے دیکھتے ہیں ۔ کپتان نے کہا ’’ ملک میں پہلی بار بڑے بڑے ڈاکوؤں کا احتساب ہو رہا ہے ۔ کہتے ہیں حسین نواز پر بڑا ظلم کر دیا ۔ کیا حسین نواز چوسنی پینے والا بچہ ہے؟۔ جنہیں مریم نواز کی پیشی پر اعتراض ہے ،وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ماضی میں بینظیر بھٹو کو بلاتے رہے ہیں اور آج ’’شہزادی‘‘ کی پیشی پر شور مچا رہے ہیں‘‘۔ عرض ہے کہ حسین نواز تو واقعی چوسنی پیتا بچہ نہیں ہے لیکن اُس بوڑھے طوطے کا کیا علاج جو پہلے وزارتِ عظمیٰ کی رَٹ لگاتا رہا اور پھر امپائر کی انگلی ، امپائر کی انگلی پکارتا رہا ؟۔جس کی ضِد ،نرگسیت اور ہٹ دھرمی نے معاشی طور پر ابھرنے کی کوشش کرنے والے پاکستان کو پیچھے دھکیلنے کی ہر سعی کر ڈالی ۔جس نے لندن کی میئرشِپ کے انتخاب میں پاکستان سے لندن جا کر ایک یہودی اُمیدوار کا بھرپور ساتھ دیا ،پاکستانی نژادمسلمان کا نہیں۔جو غیر ممالک پاکستان دشمن قوتوں کی فنڈنگ سے اپنی سیاست کی آڑھت جمائے بیٹھا ہے اور الیکشن کمیشن کو اِس کا جواب تک دینے کو تیار نہیں۔جس کی ساری سیاست اُس کی اپنی ذات کے گرد گھومتی ہے اور طُرفہ تماشہ یہ کہ اُسے سیاست کی الف، ب کا بھی پتہ نہیں۔ رہی ’’شہزادی‘‘ کو جے آئی ٹی میں بلانے کی بات تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نہ تو قانونی طور پر درست ہے اور نہ ہی اخلاقی طور پر ۔ قانونی طور پر اِس لیے درست نہیں کہ سپریم کورٹ محترمہ مریم نواز کو کلیئر قرار دے چکی ہے ۔سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کے بعد سونامیے اور پپلیئے یہ شور مچاتے نظر آئے کہ سپریم کورٹ کا بنچ مریم نواز کو کلیئر کروانے کے لیے ہی بنوایا گیا تھا۔
اخلاقی طور پر یہ اِس لیے درست نہیں کہ اگر یہ رسمِ بَد چل نکلی تو پھر غلیظ سیاست گھروں کے اندر گھُس جائے گی اور ملک سیاسی ہی نہیں ، اخلاقی طور پر بھی دیوالیہ ہو جائے گا۔ حیرت ہے کہ سپریم کورٹ کے بنچ نے جے آئی ٹی کو مریم نواز کے پیش ہونے سے منع کیوں نہیں کیا ؟۔ اِس تمام کیس میں مریم نواز کسی بھی لحاظ سے بینیفشری نہیں اور سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ اِس کی تصدیق بھی کر چکا ہے ۔ پھر کیا جے آئی ٹی کا مقصد عوامی جذبات کو ہوا دینا ہے تاکہ بات ایک بحر سے نکل کر دوسری بحر میں چلی جائے ۔آخری خبریں آنے تک محترمہ مریم نواز جے آئی ٹی میں پیشی کے لیے جوڈیشل اکیڈمی پہنچ چکی ہیں جہاں جے آئی ٹی اُن سے سوال کرے گی ۔ بہتر تو یہی تھا کہ سوالنامہ تیار کرکے مریم نواز کو بھیج دیا جاتا لیکن جے آئی ٹی نے اپنی ’’طاقت‘‘ کا اظہار بھی تو کرنا تھا۔
جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد وزیرِ خزانہ اسحاق ڈارنے کہا ’’مریم نواز کو بلانا بُرا لگا ۔کیا نیازی سروسز میں عمران خاں کی بہنوں کے نام شامل نہیں؟۔ عمران خاں کی بہنیں عظمیٰ اور علیمہ کو بھی اگر ایسے بلایا جائے گا تو بُرا لگے گا ۔سپریم کورٹ مریم نواز کے ایسے بلانے کا نوٹس لے‘‘۔ اسحاق ڈار نے کپتان پرگرجتے برستے ہوئے اُنہیں ڈرپوک ،جھوٹا ،جاہل ،بَدکردار ، جواری اور پرویز مشرف کے جوتے چاٹنے والا قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا’’’عمران خاں ڈرپوک آدمی ہے ، جس نے اپنی شادی تک
چھپائی ۔وہ کِس مُنہ سے نوازشریف کے خلاف آرٹیکل 62/63 کی بات کرتا ہے ۔ اُس کی نا اہلی کے لیے تو کیلیفورنیا کا کیس ہی کافی ہے۔ نوازشریف پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہمیں بلایا جا رہا ہے ۔ ججز نے جے آئی ٹی کو نہیں کہا کہ وہ حدیبیہ پیپر ملز کو دیکھیں ۔جے آئی ٹی اپنی ساکھ ثابت کرے۔ سپریم کورٹ نے ارسلان افتخار کیس میں جے آئی ٹی کا طریق�ۂ کار طے کیا تھا ۔ جج کے بیٹے کے لیے کوئی اور قانون اور وزیرِاعظم کے بیٹے کے لیے کوئی اور قانون نہیں ہونا چاہیے‘‘۔
اصول تو یہی ہے کہ دنیا جہان میں پہلے الزام لگتا ہے ، پھر تحقیقات ہوتی ہیں اور آخر میں مقدمہ چلتا ہے لیکن جے آئی ٹی ابھی تک الزام کی تلاش میں ہے تاکہ تحقیقات کی جا سکیں۔ حسن نواز نے بالکل درست کہا ہے کہ کوئی الزام نہیں تو بائیک چوری کا الزام ہی لگادو ۔ جے آئی ٹی کو مؤلہ صرف یہ ہے کہ کسی طریقے سے نوازشریف پر دباؤ ڈالا جائے۔ وہ چاہے ہمیں سو دفعہ بلاءئیں ، ہم آ جائیں گے ، جو پوچھیں گے بتائیں گے ، مگر ہمارا حق ہے کہ الزام بھی بتایا جائے ۔ اُنہوں نے کہا ’’ سمنز کا جمعہ بازار لگایا ہوا ہے ۔ دِن رات سمنز جاری ہو رہے ہیں ۔ بچوں کو بلا رہے ہیں ، بڑوں کو بلا رہے ہیں ۔ پیچھے شریف فیملی کی سربراہ پچاسی سالہ میری دادی جان ہیں ، اُن کو بھی بلا لیں ۔ کم از کم یہ تو بتا دیں کہ کیوں سمن جاری ہوا ہے۔
وزیرِاعظم کے صاحبزادے حسین نواز نے جے آئی ٹی میں چھٹی مرتبہ پیشی کے موقعے پر کہا کہ جے آئی ٹی کو شریف خاندان کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملے گا ۔ میرا اور میرے خاندان کا فیصلہ ہے کہ یہ جب بلائیں گے ، ہم آئیں گے ۔ جے آآئی ٹی نے جو سوالات کیے ،وہ دو پیشیوں کے تھے ۔ اِس پر چھ پیشیوں کی ضرورت نہیں تھی ۔ اُنہوں نے کہا ’’ہم سپریم کورٹ کے احترام میں آتے رہے ، جوابات دیتے اور انتظار بھی کرتے رہے ۔اِنہیں میرے یا میرے خاندان کے بارے میں کوئی بھی ثبوت نہیں ملے گا ۔جب کوئی کرپشن اور مَنی لانڈرنگ ہوئی ہی نہیں تو ثبوت کیسے ملے گا؟۔ اُنہوں نے ہر طریقے سے کوشش کرکے دیکھ لی ہے اور مستقبل میں بھی سب سامنے آ جائے گا ۔مجھے نہیں پتہ کہ یہاں کیا معاملات چل رہے ہیں لیکن کچھ معاملات کا پرانا طریقۂ واردات ہے اور کچھ نظریۂ ضرورت۔طیارہ سازش کیس میں ہمارے ساتھ یہ سب کچھ ہو چکا ہے ۔ اِس کیس میں سلطانی گواہ پیش کیے گئے ۔ آج طیارہ سازش کیس کہاں ہے اور پرویز مشرف کہاں؟۔ کوئی غیرقانونی کام کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ کل اِنہی اداروں کے کٹہرے میں آپ ہوں گے ‘‘۔ حسین نواز کی ہر بات بجا لیکن فیصلہ تو سپریم کورٹ نے ہی کرنا ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ سپریم کورٹ وہی فیصلہ کرے گی جو حق اور سچ پر مبنی ہو گا ۔اب دیکھتے ہیں کہ میاں فیملی کے لیے تخت کا انتخاب ہوتا ہے یا تختے کا۔

Print Friendly, PDF & Email