98

دیر بالاکے مختلف سیاسی رہنما اور عوام جذبات کا مظاہرہ کرکے پولیس پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں،سول سوسائٹی

چترال ( محکم الدین محکم) چترال کی سول سو سائٹی کے رہنماؤں (ر) اے سی سردار محمد ، حسین احمد اور انسانی حقوق کے چیئرمین نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے دیر سے تعلق رکھنے والے ریڑی با ن سبزی فروش کے قتل کے سلسلے میں دیر بالا کے عوام کو پُر امن رہنے اور حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی اپیل کی ہے ۔ مقامی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ کہ مقتول کئی سالوں سے محنت مزدوری کیلئے چترال میں مقیم تھے ۔ اس لئے اُن کے لواحقین کے ساتھ سب کو ہمدردی ہے ۔ لیکن دیر بالاکے مختلف سیاسی رہنما اور عوام جذبات کا مظاہرہ کرکے پولیس پر دباؤ ڈال کر جس طرح اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ کسی طور بھی درست نہیں ۔ اُنہیں پولیس کی انکوائری اور گرفتار مرکزی ملزم کے اقبالی بیان کا انتظار کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پولیس کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے ۔ تاکہ قتل کے اصل محرکات سامنے آجائیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ دیر اور چترال کے باہمی تجارتی ، سماجی اور ہمسائیگی کے قدیم رشتے ہیں ۔ اور سینکڑوں کی تعداد میں دیر کے رہائشی چترال میں کاروبار کرتے ہیں ۔ اور ان کے مابین انتہائی مضبوط باہمی احترام کا رشتہ موجودہے ۔ انہوں نے دیر بالا کے بعض سیاسی اورسماجی افراد کی طرف سے قتل کے اس واقعے کو دو اضلاع کے مابین چپقلش کا ذریعہ بنانے کی پر زور مذمت کی ۔ اور کہا ۔ کہ مرکزی ملزم کے بیان کو اگر منظر عام پر لایا جائے ۔ تو مقتول کیلئے چترال پولیس اور دیگر لوگوں پر دباؤ ڈالنے والے دیر کے سیاسی اور سماجی افراد اپنے کئے پر خود پشیمان ہو ں گے ۔ کہ سید کریم نام کا شخص کس طرح اخلاقی انحطاط کے باعث ایک لڑکے کے ہاتھوں قتل ہوا ۔ جس کے قتل کا ملزم نے ببانگ دُھل اعتراف کر لیا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں