132

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ..کا شغر سے ایک خط 

کاشغر عوامی جمہوریہ چین کے مشرقی صوبہ سنکیانگ کا پرانا شہر ہے پاک چائنا ٹریڈ کاراستہ کھلنے کے بعد پاکستان کے تاجر کا شغر آتے جاتے ہیں بعض تاجر سنکیانگ کے دوسرے قدیمی شہر ختن کی سیر بھی کرتے ہیں بعض تاجر وقت نکال کر سنکیا نگ کے مرکزی شہر ارومچی کا سفر بھی کرتے ہیں آج کا خط مرزا fffرفیع کے بیٹے عمر رفیع نے لکھا ہے اور ان کا دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ ان کا خاندان 1937 ؁ء میں نقل مکانی کر کے تاشقر غن سے چترال آکر آباد ہوا عمر رفیع نے 1990 ؁ء میں 5 سال کی عمر میں اپنے باپ کے ساتھ پہلی بارآبائی گاؤں تاشقر غن کا سفر کیا تھا 25 سال بعد اُس نے خود سفر کیا اُس کے باپ کا چچا زاد بھائی اسلام اخون زندہ ہے دو بہن زندہ ہیں دوسرے رشتہ دار اہم عہد وں پر فائز ہیں اور خوشحال زندگی گذارتے ہیں عمر رفیع کا خط کئی لحاظ سے دلچسپ اورقابل ذکر ہے اس لئے خط کا پورا متن یہاں نقل کیا جاتاہے القاب وسلام واداب کے بعد لکھتے ہیں ’’مجھے یہاں آئے ہوئے 18 دن ہوگئے ہیں میں آیا تو رمضان المبارک کا مہینہ تھا اگر چہ حکومت کی طرف سے رمضان میں ریسٹورنٹ بند رکھنے کا کوئی قانون نہیں ہے تاہم اخلاقی طورپر کاشغر کے ریسٹورنٹ بند رکھے جاتے ہیں اخلاقی حدود کا بڑ ا خیال رکھا جاتاہے یہاں کی مسجدیں 1000 سال ،800 سال ،600 سال اور 400 سال پرانی ہیں کاشغر کے مسلمان اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیں کسی اور فرقے کا نام نہیں جانتے البتہ تاشقر غن میں اسماعیلی آبادی ہے کاشغر میں خنجراب کے راستے چترال کو تجارتی قافلے جاتے ہیں جبکہ سوباشی کے راستے تاجکستان کوراستہ جاتاہے یہ راستہ اس قدر کھلا راستہ ہے کہ اس پر بڑے بڑے کنیٹنر چلائے جاتے ہیں تاہم یہ راستہ مسافر گاڑیوں کے لئے اب تک نہیں کھولا گیا کاشغر کا شہر دوحصوں میں منقسم ہے پرانے کاشغر کی تنگ گلیوں اور پرانے مکانات کواُسی حالات میں محفوظ رکھا گیا ہے البتہ پانی کی فراہمی ،نکاسی آب کی جدید واش روم کا انتظام قدیم طرز کی عمارتوں کے اندر کیا گیا ہے جدید سہولیات کی فراہمی سے قدیم طرز تعمیر پر کوئی اثر نہیں پڑا شہر کا دوسرا حصہ جدید کا شغر ہے اس کی سڑکیں 80 فٹ چوڑی ہیں اس حصے میں 27 منزلہ اور 30 منزلہ پلازے ، بڑے بڑے شاپنگ سنٹر اور جدید طرز کی بڑی بڑی عمارتیں کی گئی ہیں یہ اسلام آباد کے درجے کا شہر ہے میڑوبسیں چلتی ہیں چوبیس گھنٹے بجلی دستیاب ہے میرے چچا زاد خالہ اور پھو پھی زاد بھائی یہاں میرے ساتھ ہیں باپ دادا کے شہر میں گھومنے کا الگ مزا ہے اور الگ لطف ہے میرے دادا اورپڑدادا کا آبائی علاقہ تاشقر غن کا شغر سے 600 کلومیٹر دورہے یہ علاقے جنوب مغرب میں تاجکستان اور پاکستان سے ملنے والی سرحدکے قریب ہے تاشقرغن سطح سمندر سے 11 ہزار فٹ کی بلندی پر ہے درخت اور جنگلات نہیں ہوتے جھاڑیاں ہوتی ہیں یہ سب الپائن اینج ہے اور زیادہ تر چراگاہوں پر مشتمل ہے ہمارے ہاں جس مہمان کے لئے مرغی ذبح کرتے ہیں تاشقرغن میں ایسے مہمان کے لئے دُنبہ ذبح کیاجاتاہے کاشغر آنے سے پہلے میں نے 8 دن تاشقرغن میں گذارئے وہاں 8 دنوں میں مجھے 19 دنبے کھلائے گئے یہاں گوشت کے ساتھ روٹی نہیں ہوتی خالص گوشت پیش کیاجاتا ہے میرے بڑی پھوپھی چورمن بی بی 72 سال کی ہیں چھوٹی پھوپھی مختوم بی بی کی عمر 66 سال ہے جبکہ میری خالہ جان بیگم کی عمر 64 برس ہے پھوپھی کا چھوٹا لڑکا روئیک 37 سال کا ہے میرا ہم عمر ہے میرا چچا اسلام اخون 88 سال کا ہے دوسرا چچا محمد رفیع 72 سال کا ہے تیسرا چچا لاجور بیگ 74 سال کی عمر کا ہے میرے خاندان کے جولوگ اہم عہدوں پر فائز ہیں ان میں دل مراد سیاسی نمائندہ ہے جو منتخب اسمبلی کا رکن ہے اور وکیل کہلاتا ہے امین جان کسٹمز کا افیسر ہے پا میر جان جج ہے مائیر جان کاروباری شخصیت ہے جبکہ تاش بیگ بینکر ہے تاشقر غن کو انتظامی لحاظ سے نایہ (Naaya) کہاجاتاہے یہ پاکستان کی یونین کونسل کے برابر ہے یہ خود مختار علاقہ ہے یہاں سے موٹر وے گذرتی ہے جوگرمی چراگاہوں میں 14000 فٹ کی بلند ی تک جاتی ہے ای سی ڈی سے لیکر میٹرک تک تعلیم مفت ہے اور معیاری تعلیم ہے ہرقسم کے چھوٹے اپریشن نایہ کے مقامی ہسپتال میں ہوتے ہیں یہاں ہنزہ کے لوگوں کی چند دکانیں ہیں میرے والد مرحوم کو ان کی آبائی زمین اور مکانات دوبارہ مل گئے تھے اب ان کا غذات کا میرے نام انتقال ہورہا ہے تاشقر غن میں تاجک ،سر یقولی ، اویو غر ،کرغیز اور واخی مل کر رہتے ہیں اویوغر کے علاوہ دیگر چھوٹی قومیتوں کو سرکاری کاغذات میں تاجک لکھا جاتاہے ‘‘خط یہاں پر ختم ہوا بچھڑے خاندان کی تیسری نسل پاکستان سے چین جاکر آبائی گاؤں میں کنبہ کے لوگوں سے مل کر واپس آرہی ہے اس خاندان کی نقل مکانی کی تاریخ 80 سال پرانی ہے محمد رفیع ، دفعد ار بیگ اور اخون بیگ کا خاندان پہلی بار 1937 ؁ء میں واخجیر اور سوختہ رباط کے راستے چترال آیا ہز ہائی نس ناصر الملک نے ان کو بروغیل میں جائداد دیدی 1942 ؁ء میں افغانستان کی طرف اس خاندان پر شب خون مارا گیا محمد رفیع سمیت 5 افراد کو شہید کیا گیا باقی خاندان واپس چلا گیا 1949 ؁ء میں پورا خاندان واپس آکر بروغیل میں دوبارہ آباد ہوا چیانگ گائی شک کی پارٹی کو منیتانگ اور کمیونسٹ پارٹی کے درمیان کشمکش میںیہ خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوا کیونکہ اس خاندان کے نامور لوگ کو منیتانگ پارٹی میں اہم عہدوں پر فائز تھے کمیونسٹوں سے اُ ن کو جان کا خطرہ تھا عمر رفیع کاباپ مرزا رفیع 1949 ؁ء والے قافلے کیساتھ چترال آیا تھا 1937 ؁ء میں وہ کمسن تھا اور ان کی ماں ان کو لیکر تا شقرغن میں رہتی تھی ابتدائی تعلیم بھی انہوں نے تاشقرغن میں حاصل کی انہوں نے مختلف زبانوں پر عبور حاصل کیا اور سرد جنگ کے زمانے میں پاکستان کی بڑی خدمت کی افغانستان ،تاجکستان ،پا میر اور سنکیانگ میں ان کے گہرے مراسم اور روابط تھے 65 سال کی عمر پاکر 1997 ؁ء میں انتقال کرگئے عمر رفیع ان کااکلوتا بیٹا ہے اور باپ کے نقش قدم پر چل کر سرحد پار پرانے رشتوں کے ساتھ روابط کو فروغ دے رہا ہ

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں