56

گریڈ ایک سے 15 تک سرکاری ملازمین کی اپ گریڈیشن پر ہر سال 20 ارب روپے سے زائد خرچ ہوں گے/سی ایم

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)وزیراعلیٰ خیبر پختونخواپرویز خٹک نے کہا ہے کہ اُنہوں نے گریڈ ایک سے پانچ تک صوبے کے ایک لاکھ دس ہزار درجہ چہارم ملازمین کی ڈبل اپ گریڈیشن کرکے اُن پر کوئی احسان یا بہت بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا بلکہ یہ اپ گریڈیشن اُن کا حق تھا جو انہیں بہت پہلے مل جانا چاہیئے تھا اُنہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت گزشتہ حکمرانوں کی طرح قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کیلئے نہیں آئی بلکہ عام آدمی اور خصوصاً غریبوں کو اُن کا حق اور انصاف دینے کیلئے آئی ہے اور گریڈ ایک سے 15 تک سرکاری ملازمین کی اپ گریڈیشن پر ہر سال 20 ارب روپے سے زائد خرچ ہوں گے لیکن صوبائی حکومت کو اس خرچے پر خوشی ہے کیونکہ اس اقدام سے کرپشن کم کرنے میں مدد ملے گی اور غریب و متوسط ملازمین کے بچوں کا مستقبل بھی روشن ہو گا انہوں نے کہا کہ کم تنخواہ والے ملازمین کی ترقیاں اور اُن کی تنخواہوں میں اضافہ، معیار تعلیم میں بہتری، یکساں نظام تعلیم کی کوششیں، رشوت و سفارش کے بغیر میرٹ پر بھرتیاں اور تھانوں و پٹوار خانوں میں ہونے والی زیادتیوں کا خاتمہ ، امیر و غریب کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے اُن اقدامات کا حصہ ہے جو تبدیلی کے واحد ایجنڈے پر عمل درآمد کیلئے کئے گئے ہیں اور جن کیلئے عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیئے ہیں وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ اُن کی صوبائی حکومت درجہ چہارم ملازمین کی فلاح و بہبود کیلئے مزید اقدامات کا ارادہ بھی رکھتی ہے وہ جمعرات کے روز نشترہال پشاور میں خیبرپختونخوا کے کلاس فور ملازمین کے اظہار تشکر کنونشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے کنونشن کا انعقاد کلاس فور ملازمین کی تنظیموں نے ڈبل اپ گریڈیشن پر وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور ان کی صوبائی حکومت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے کیا تھا کنونشن میں صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق احمد غنی اور وزیرخزانہ مظفر سید بھی موجود تھے جنہیں ملازمین کی تنظیموں کے سربراہوں نے دو درجہ ترقی کیلئے مثبت اور موثر کردار ادا کرنے پر بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا درجہ چہارم ملازمین کی صوبائی و مقامی تنظیموں، ڈرائیورز و پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن اور تمام اضلاع کی تنظیموں کے عہدیداروں و اراکین نے تقریب میں بھر پور شرکت کی اس موقع پر ہال میں جشن کا سماں تھا اور ڈبل اپ گریڈیشن پر اظہار مسرت اور صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کرنے کیلئے ڈھول کی تھاپ پر زبردست بھنگڑے،روایتی ناچ گانے، تالیوں کی بھر پور گونج، وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء کوپگڑیوں، پھولوں اور لنگیوں کے تحفے اور وزیراعلیٰ و صوبائی وزراء کے حق میں پرجوش نعرے اظہار تشکر کی تقریب پر شروع سے آخر تک غالب رہے تقریب سے صوبائی وزراء مشتاق احمد غنی اور وزیر خزانہ مظفر سید کے علاوہ آل محکمہ جات درجہ چہارم ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر اکبر خان مہمند، درجہ چہارم ایمپلائز ایسوسی ایشن سول سیکرٹریٹ کے صدر جابر حسین بنگش، ڈرائیورز ایسوسی ایشن سول سیکرٹریٹ کے صدر منظور خان، صوبائی صدر پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن نبی امین اوردرجہ چہارم ایسوسی ایشن ایبٹ آباد کے صدر ہارون جدون نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور درجہ چہارم ملازمین کا حق ان کی توقع سے بڑھ کر ادا کرنے پر وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا شاندار الفاظ میں شکریہ ادا کیا وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے خطاب میں ملازمین کو دوہری ترقی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ ہم نے غریبوں کو اُن کا حق اور انصاف دینے کا وعدہ کیا تھا اور اس وعدے کی تکمیل ہماری مجبوری ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے منشور اور پالیسیوں میں اپنے وعدوں کو نظر انداز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اُنہوں نے کہاکہ ہم نے امیر اور غریب کا فرق مٹانے کیلئے حق اور انصاف کا وعدہ کیا تھا تاکہ کلاس فور ملازمین اور دوسرے غریبوں کے بچے بھی میرٹ اور اہلیت کے شفاف نظام سے گزر کر آسانی کے ساتھ اعلیٰ عہدوں تک پہنچ سکیں اُنہوں نے کہاکہ اس تبدیلی کیلئے ہمیں ووٹ دیئے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم پچھلی حکومتوں کی طرح چوری کرنے نہیں آئے بلکہ لوگوں کو ان کا حق دینے کیلئے آئے ہیں اور اگر ہم نے حق اور انصاف نہیں دیا تو پھر ہمارے اقتدار کا کوئی فائدہ نہیں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ انہوں نے بیوروکریسی کی رکاوٹوں کے باوجود سرکاری ملازمین کو انکا حق دیا کیونکہ پی ٹی آئی کی موجودہ صوبائی حکومت کیلئے عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں کسی قسم کی ناجائز رکاوٹ یا مخالفت ناقابل برداشت ہے انہوں نے کہاکہ اگر ہم نظام نہ بدل سکے تو وہ نوجوان ہم گلیوں میں گھسیٹیں گے جنہوں نے بڑی اُمیدوں کے ساتھ پی ٹی آئی کو تبدیلی کیلئے ووٹ دیئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے خود کو ٹھیک کرکے دوسروں کو ٹھیک کیا ہے اور ایسا نظام وضع کیا ہے جس میں غریبوں اور عام آدمی کو کوئی پریشانی نہ ہواسی لئے بلدیاتی نظام کے ذریعے صوبائی حکومت کے اختیار اور وسائل نچلی ترین سطح پر عوام کو منتقل کردیئے گئے ہیں اور اداروں کو خود مختار بنایا گیا ہے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے اپنے اخراجات کم کرکے اور ٹیکسوں کی چوری روک کر صوبے کا ترقیاتی بجٹ 100 ارب روپے تک بڑھا دیا ہے اور سرکاری وسائل کا بے دریغ اور ناجائز استعمال روکنے کیلئے سرکاری افسروں سے بنگلے اور گاڑیاں واپس کرکے مزید اخراجات بچائے جائیں گے انہوں نے کہاکہ اگرچہ اس کام میں ہمیں بیوروکریسی کی طرف سے رکاوٹوں کا سامنا ہے لیکن قومی اور عوامی مفاد میں ہم یہ کام کرکے دم لیں گے وزیراعلیٰ نے ملازمین پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض دیانتداری او ر اخلاص کے ساتھ انجام دیں تو حکومت اُن کی فلاح و بہبود کیلئے مزید اقدامات بھی کرے گی اور ان کیلئے وسائل کی کمی کو آڑنے نہیں آنے دے گی انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کی تمام اصلاحات اور اقدامات کلاس فور ملازمین اور نچلے طبقوں کے مفاد کیلئے ہیں انہوں نے کہاکہ سرکاری محکموں میں چوری اور کرپشن روکنے کیلئے کلاس فور ملازمین بھی حکومت سے تعاون کریں اور اپنے اردگرد سرکاری خزانے کی چوری کی نشاندہی کرکے 30 فیصد انعام بھی حاصل کریں ملازمین کی جانب سے سپاسنامہ میں پیش کئے گئے مطالبات کے جواب میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے مطالبات پر غور کیلئے وزیر اطلاعات کی سربراہی میں کمیٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ ان تمام اقدامات کی منظوری بلا جھجک دیں گے جن کا فائدہ کلاس فور ملازمین اور ان کے بچوں کو پہنچتا ہو۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں