42

تین مہینے تک التوا کا شکار رہنے والے بلدیاتی ممبران کی حلف برداری کا اعلان بالاخر کر دیا گی

چترال (محکم الدین محکم ) تین مہینے تک التوا کا شکار رہنے والے بلدیاتی ممبران کی حلف برداری کا اعلان بالاخر کر دیا گیا ہے ۔ جس کے مطابق 29اور 30اگست کو کامیاب شدہ ممبران سے حلف لیا جائے گا ۔ جس کے بعد ضلعی حکومت سازی کا عمل شروع ہوگا ۔ چترال میں ضلعی حکومت سازی کیلئے جماعت اسلامی اور جمعیت العلماء اسلام کے مابین الیکشن سے پہلے ایک معاہدہ طے پایا تھا ۔ جس کے مطابق باہمی رضامندی سے ضلع اور تحصیل کے عہدوں کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ لیکن بعد آزان اس اتحاد کے حوالے سے کئی قسم کی چی میگوئیاں اور قیاس آرائیوں سے لوگ سیاسی طور پر محظوظ اور مہقور ہوتے رہے ہیں۔ جو کہ تاہنوز جاری ہے ۔ بہت سے لوگ اب بھی اس انتظار میں ہیں ۔ کہ ضلعی حکومت کا ہما کس کے سر بیٹھے گا ۔ گو کہ اس کیلئے انتہائی اہم فیصلے پہلے کئے جا چکے ہیں ۔ لیکن حلف برداری اور حکومت سازی کے اختتام تک لوگوں کا یہ تجسس برقرار رہے گا ۔ حالیہ انتخابات میں ڈسٹرکٹ کونسل کے 24میں سے آٹھ نشستوں پر اُن امیدواروں کو کامیابی ہوئی ہے ۔ جو اس سے قبل ایک یا دو بار ڈسٹرکٹ کونسل کے ممبر یا ناظم رہ چکے ہیں ۔ اس طرح ضلع کونسل کی جنرل سیٹ پر سولہ فریش امیدواروں کو کامیابی ہوئی ہے ۔ جبکہ اس کونسل میں آٹھ خواتین ،تین کسان ،ایک یوتھ اور ایک اقلیتی نمایندہ کامیاب ہوئے ہیں۔ کونسل میں مخصوص نشستوں سمیت جماعت اسلامی کے بارہ اور جے یو آئی کے بارہ نشستیں برابر ہیں ۔ جبکہ پی ٹی آئی سات نشستوں سے تیسری،پی پی پی چار نشستوں پر چوتھی اور آل پاکستان مسلم لیگ تین نشستیں لے کر پانچویں نمبر پر ہے ۔حلف برداری کے اعلان کے بعد بلدیاتی سیاست میں ایک مرتبہ پھر فعالیت پیدا ہوئی ہے ۔ اور ووٹر ضلعی حکومت کے قیام کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں ۔ جبکہ اس وقت ضلعی حکومت کا سیاسی وجود نہ ہونے کے سبب لوگ ایک خلا محسوس کر رہے ہیں ۔ جسے پُر کرنے کیلئے مختلف ادارے اپنی طرف سے کو شش کر رہے ہیں ۔ چترال جیسے پسماندہ علاقے کے مسائل کے حل کیلئے عوامی نمایندوں پر مشتمل ضلعی حکومت کا قیام بالا تاخیرانتہائی ضروری ہے ۔ تاکہ مقامی نمایندگان بہتر طور پر علاقائی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کر یں ۔ خاص کر موجودہ وقت میں جبکہ سیلاب کی وجہ سے پورا ضلع بُری طرح مشکلات و مصائب میں گھیرا ہوا ہے

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں