52

خیبرپختون خواہ حکومت کو درپیش چیلنجز

OOO عام انتخابات میں تحریکِ انصاف نے پاکستان بھر میں ہلچل مچادی تھی اتنی پرجوش انتخابی مہم کسی سیاسی حریف نے نہیں چلائی ووٹوں کے لحاظ سے PTI دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری خیبر پی کے میں نامی گرامی اور سکہ بند قسم کے امیدوار اپنی ضمانتیں ضبط کروا بیٹھے 2013ء میں ہونے والے عام انتخابات میںANPاورJUI(ف) سب سے زیادہ متاثر ہوئیں کہا جاتاہے ان پارٹیوں کے قائدین اب تلک سوچ رہے ہیں ان کے ساتھ کیا ہوا؟ مولانا فضل الرحمن ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں نکلے اور وہ تحریکِ انصاف کے روایتی حریف بن کر ابھرے ہیں غالب خیال یہی ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں تحریکِ انصاف اور جمیعت العلمائے اسلام کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلے ہوں گے اور ان پارٹیوں کے مختلف نظریاتی جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد بنیں گے اور بن کر ٹوٹنے کی پیشگی پیش گوئی کی جا سکتی ہے تحریکِ انصاف کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک گرینڈ الائنس بننے کی قوی امیدہے اور جماعت اسلامی، PTI اور دیگر ہم خیال جماعتیں بھی اپنے مشترکہ امیدوار لانے کی کوشش کریں گی جبکہ کہا جارہا ہے کہ KPKکی سابقہ حکمران پارٹی اے این پی ان دنوں عجfffیب مشکل سے دو چارہے اسفندیار ولی خا ن کو خود سمجھ نہیں آرہی کہ ان کی جماعت کے ساتھ کیا ہورہاہے؟ پہلے کچھ رہنماساتھ چھوڑ گئے ۔۔اور اب بیگم نسیم ولی خان دم خم سے برسرِ پیکارہیں یعنیANP اپنی بقاء کی جنگ لڑرہی ہے
اپنے مجبو ر تقدس کے سہارے ساغر
دِ یر و کعبہ کے خداؤں سے لپٹ کر رو لوں
اب رہی بات تحریکِ انصاف کی ۔۔اس جماعت کو حکومت کیا ملی عمران خان کا امتحان شروع ہوگیا حالانکہ تحریکِ انصاف کو بہت سے مسائل اور مسائل سے بڑے چیلنجز وراثت میں ملے ہیں اس وقت صوبہ خیبر پختون خواہ دہشت گردی سے بہت زیادہ متاثرہواہے مئی2013ء سے اب تک شاید ہی کوئی ایسا مہینہ نہیں گذرا جب اس صوبے میں کوئی دھماکہ یادہشت گردی کا کوئی واقعہ نہ ہوا ہو متعدد ارکانِ اسمبلی ان واقعات میں شہیدہو چکے ہیں ڈرون حملے، نیٹو سپلائی، امن و امان ، عوامی مسائل ، قومی ایشو اور اتحادی جماعتوں کی ناراضگی اس وقت تحریکِ انصاف کیلئے وبال بنے ہوئے ہیں تحریکِ انصاف کے وزراء مختلف مسائل میں الجھے ہوئے ہیں جبکہ پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی موجود ہیں یہاں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں جا سکتا کہ گذستہ عام انتخابات میں عام آدمی نے تحریکِ انصاف کو تبدیلی کے نام پرووٹ دیا تھا اور عمران خان کے نزدیک اس تبدیلی کا مطلب چہروں کی تبدیلی نہیں بلکہ سسٹم کی تبدیلی تھا جس میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی البتہ خیبر پختون خواہ کی صوبائی حکومت نے سستے انصاف کے حصول کیلئے موبائل عدالت متعارف کروائی ہے بلا شبہ یہ پاکستان میں اپنی نو عیت کے اعتبار سے ایک اچھی روایت کاآغازہے ایسے مزید کئی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کو بھی ریلیف مل سکے اس حکومت کو عوامی مسائل حل کرنے کیلئے ٹھوس حکمتِ عملی تیار کرناہوگی لوگ کہتے ہیں اس وقت پرفارمنس کے حوالہ سے صوبہ خیبر پختون خواہ کی کارگذاری بالکل متاثر کن نہیں ہے صوبہ بھر میں ٹوٹی سڑکیں، صفائی کی نا گفتہ بہ حالت ، گندگی کے ڈھیر، امن و امان کی سنگین صورت حال اور ترقیاتی کام نہ ہونے کا خمیازہ بلدیاتی انتخابات میں بھگتنا پڑ سکتاہے۔KPKمیں کرپشن وکمیشن مافیا کا خاتمہ،سرکاری اداروں اور محکموں میں سیاسی مداخلت اور دباؤ سے آزاد ماحول کا قیام،تھانے ،کچہری اور پٹوارخانوں سے ظلم و زیادتی کا خاتمہ ذاتی پسند نا پسندکی بجائے میرٹ پر فیصلے تحریکِ انصاف کی حکومت کی اولین ترجیحات ہونی چاہییں تاکہ تبدیلی محض نعروں تک محدود نہ رہے بلکہ حکومتی رویے اورمعاملات میں نظر بھی آئے لوگوں کو محسوس بھی ہو اگرحکومت اچھی کارکردگی،انقلابی اقدامات، بہترین عوامی پالیسیاں اور عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب رہی تو یقیناًاس سے KPKمیں تحریکِ انصاف کی کارکردگی پر خوشگوار اثر پڑے گا۔ کرپشن کے خاتمہ کیلئے عمران نے اپنی حکومت کے وزیروں کوفارغ کرکے ان پر کرپشن کے مقدمات قائم کئے ہیں تبدیلی اس اندازسے بھی آسکتی ہے یقیناًیہ ایک اچھی مثال ہے جس کو تحسین کی نگاہ سے دیکھاجارہاہے
حدودِ ذات سے باہر نکل کے دیکھ ذرا
نہ کوئی غیر ،نہ کوئی رقیب لگتا ہے
دہشت گردی کے واقعات بھی KPKمیں تحریکِ انصاف کو درپیش چیلنجزمیں سر فہرست ہے جس کیلئے مربوط حکمتِ عملی، ٹھوس منصوبہ بندی ترتیب دینے کی اشد ضرورت ہے اس کو اہمیت دئیے بغیر امن و امان قائم نہیں ہو سکتا عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے کسی رو رعائت نہیں ہونی چاہیے اس وقت KPK کے ارکانِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ نہ دینے سے بھی ماحول گرم ہورہا ہے اس کے ساتھ ساتھ وزراء میں آپس کی چپقلش نے بھی مسائل پیدا کررکھے ہیں اپریشن ضربِ عضب کے نتیجہ میں شمالی و جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد تحریکِ انصاف کی حکومت کو درپیش چیلنج ہے جس سے عہدہ برا ہونا اس حکومت کی نیک نامی کا سبب بنے گا۔ کہا جاتا ہے حکومت کرنا مخملی بستر پر سونے کا نام نہیں بلکہ یہ کانٹوں کا بچھوناہے ایک طرف حکومت عوامی توقعات پوری نہ اترے تو وہ عوام کے دل سے اتر جاتی ہے اس لئے پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتاہے اس لئے کہا جا سکتاہے صوبہ خیبر پختون خواہ میں جہاں تحریکِ انصاف کو بہت سے مسائل اور چیلنجزکا سامناہے وہاں اس کے مد مقابل ایک مضبوط اور فعال اپوزیشن بھی موجود ہے اس سے بڑھ کر مذہبی انتہا پسندی کا دور دوہ ہے KPKمیں کامیابی سے حکومت چلانے کا مطلب ہوگا تحریکِ انصاف کو عوام نے جو بھاری مینڈیٹ دیا ہے اس میں وہ سرخرو رہی
میں نے خاکِ نشیمن کو بوسے دئیے اور کہہ کریہ دل کو سمجھا لیا
آشیاں بنانا میرا کام تھا کوئی بجلی گرائے تو میں کیا کروں
بغور جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا تحریکِ انصاف کی حکومت کی کارکردگی اتنی بھی بری نہیں لیکنPTI اپنے وعدوں کے برعکس صوبہ خیبر پختون خواہ میں ابھی تک اپنا پروگرام یا حکمتِ عملی واضح کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی البتہ عوام کے جذبات کو Cashکروانے کیلئے ڈرون حملوں کے خلاف یا نیٹو سپلائی بند کرنے کے حوالے سے شدید احتجاج کیا گیاہے یہ عوام کو سب کچھ اس لئے اچھا لگا ہے کہ اس حوالے سے کوئی اور جماعت تحریکِ انصاف کی طرح ایکٹو نہیں ہے صوبہ خیبر پختون خواہ میں عوام کا دل جیتنے کیلئے بڑے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لئے KPKکے وزیرِ اعلیٰ اور تحریکِ انصاف کی صوبائی تنظیم اور قائدین کو کچھ کرکے دکھانا ہوگا اس کے ساتھ ساتھ جو بات شدت سے محسوس کی جارہی ہے کہ آفتاب احمد شیر پاؤ جو ہمیشہ ایک فعال انداز سے سیاست کرنے کے عادی ہیں اب شاید وہ تحریکِ انصاف کی کامیابیوں سے دلبرداشتہ ہوکر اب تلک خاموش ہیں انہوں نے تحریکِ انصاف اور جمیعت العلمائے اسلام اور اے این پی کے درمیان جاری کش مکش سے فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی نہیں کی آفتاب احمد شیر پاؤکو اس تناظر میں اپنی جماعت کوایک بار پھر فعال ،متحرک اور منظم بنانے کیلئے میدان میں آنا چاہیے مذہبی اور سیاسی انتہا پسندی کے ماحول میں وہ پھر سیاسی افق پر چھا سکتے ہیں۔لیکن مولانا فضل الرحمن ابھی تک اس ناکامی کو نہیں بھولے ان کی توپوں کا رخ آج بھی عمران خان کی طرف ہے اوپرسے بلدیاتی انتخابات میں تحریکِ انصاف کے ہاتھوں چاروں چانے چت ہونے والی جماعتوں کے زخم ابھی تازہ ہیں
افق پر دور کوئی چمکتا ہوا تارا
مجھے چراغ ِ دیارِ حبیب لگتا ہ

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں