73

دیر بالا کے رہائشی سید کریم کے قتل کے ملزم خان بہادر ولد عبدالحمید ساکن دنین نے مقامی عدالت میں اقبال جرم کرلیا

چترال ( نمائندہ ڈیلی چترال) چترال شہر کے بائی پاس روڈ پر سبزی فروخت کرنے والے دیر بالا کے رہائشی سید کریم کے قتل کے ملزم خان بہادر ولد عبدالحمید ساکن دنین نے مقامی عدالت میں اقبال جرم کرلیا ۔جس کے بعد عدالت نے انہیں ڈسٹرکٹ جیل بھیجوادیا ہے۔ ملزم خان بہادر نے عدالت کے سامنے اپنے اقبالی بیان میں بتایاکہ مقتول سید کریم نے ان کے ساتھ مبینہ طور پر چاقوکی نوک پر بدفعلی کرنے کی کوشش کی جس پر وہ انتقام لینے کا موقع پاکردریائے چترال کے کنارے ان کے سینے پر ان کا اپنا چاقو گھونپ دیا اور ان کی ہلاکت کے بعد ان کی نعش دریا میں ڈال دی۔ا نہوں نے مزید کہا کہ اس کام میں ان کے ساتھ کوئی معاون اور کوئی شریک نہیں تھا اور یہ کام انہوں نے تن تنہا انجام دیا ہے ۔ اور انتقام کے جذبے نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا ۔ مقتول رمضان المبارک سے ایک دن قبل پرا سرار طور پر لاپتہ ہوگئے تھے ۔اور پولیس اس حوالے سے مسلسل تحقیق کر رہا تھا ۔ جبکہ دو ہفتے قبل مقامی پولیس نے مقتول کے موبائل فون کے ذریعے خان بہادر تک رسائی حاصل کی تھی جبکہ مقتول کے ورثاء نے جہانگیر جگر، شہباز احمد ، شہزادا حمد اور عمر اعظم پر دعویداری کی ہے جن کے ساتھ ان کی اراضی کا تنازعہ چلا آرہا تھا ۔ مقامی پولیس نے جہانگیر جگر اور ان کے دو بھانجوں شہزاد احمد اور شہباز احمد کو بھی گرفتار کرلیا ہے ۔ چترال کی سطح پر اپنی نوعیت کی یہ پہلی واردات ہے ۔ جس میں پولیس جدید ٹیکنا لوجی کے ذریعے قتل کی یہ واردات کو منظر عام پر لانے میں کامیاب ہوئی ہے ۔ عوامی حلقوں نے قتل کے واقعے کے انکشاف پر چترال پولیس کے کردار کی تعریف کی ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں